دمشق کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ یہ مغربی صحرا الجزائر کا ہے نہ کہ مراکش کا،عرب ممالک میں واحد شام ہی ہے جو اس معاملے میں الجزائر کے ساتھ کھڑا ہے

اسدی فوج کی شام کے  دوسرے بڑے شہر حلب میں حالیہ بمباری اور اس کےنتیجے میں ہونے والے معصوم بچوں اور عورتوں کے بہیمانہ قتل   نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیاہے،اور صرف عالم اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں   بشار الاسد کی اس وحشت گری  کی مذمت کی گئی اور بجا طور پر یہ سوال اٹھایا گیاکہ ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟ اور انہیں کس جرم کی پاداش میں اس اندوہناک انجام کا شکار ہونا پڑا؟عالمی سطح پر اسدی حکومت پر دباؤ بھی  بڑھا  کہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسئلے کو حل کیا جائے۔

حلب میں خون کی ہولی کھیلنے پر  غیرمسلم دنیا نے بھی احتجاج کیا ہے اور جنگ بندی پر زور دیا ہے،اگر کسی نے  احتجاج نہیں کیا تو وہ صرف اور صرف الجزائر ہے، الجزائر نے نہ صرف یہ کہ احتجاج نہیں کیا بلکہ عملا ًیہ ثابت کیا کہ وہ اس سفاکیت میں بشار الاسد کے ساتھ ہے۔عرب لیگ کے الجزائری رکن عبدالقادر مساہل  کے چند دن قبل شام کے دورے اور  اسدی حکومت کی حمایت  کے اعلان  سے  الجزائر کے  عوام کی طرف سے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے  اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اپنا اعلان واپس لے ، معصوم بچوں اور عورتوں کا قتل عام روکنے اور جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرے۔

عبد القادرمساہل  کا کہنا تھاکہ چونکہ 90 کی دہائی میں جب الجزائر میں بغاوت  ہوئی تھی تو اس وقت شامی حکومت نے ہمارا  غیرمشروط ساتھ دیا تھا اس لیے آج شامی حکومت پر مشکل کے وقت ہم شامی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں  کہ  کہ شام الجزائر کا پرانا حلیف ہے  جس کی وجہ سے دونوں ملک مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور 90ء کی دہائی میں  شام نے الجزائر کا ساتھ دیا تھا لیکن  بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ   مغربی صحرا  پر مراکش الجزائر تنازعہ میں بھی  شام الجزائر کے ساتھ ہے۔

مراکش الجزائر تنازعہ

 مراکش اور الجزائر دونوں پڑوسی ملک ہیں  اور دونوں ملکوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں،دونوں کی زبان عربی ہے اور ثقافت میں بھی کوئی فرق نہیں،دونوں کا شمار  مسلم ممالک میں ہوتا ہے لیکن دونوں میں اختلاف اور تناؤ  آزادی کے پہلے دن سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

مسئلے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 1950ء میں فرانسیسی استعمار نے مراکش کے علاقے تندوف اور کولمب بشار جو کہ مغربی صحرا کی حدود میں آتے ہیں  کو الجزائر کی حدود میں شامل کر دیا۔بعد میں سنہ 1956 میں مراکش اور سنہ 1962 میں  جب   الجزائر آزاد ہو ا تومراکش نے اپنی حدود کی واپسی پر مذاکرات شروع کر دیئے، مراکش  کا خیال تھا کہ وہ بڑی آسانی سے الجزائر کو قائل کر کے اپنے علاقے واگزار کروا لے گا لیکن الجزائر نے یہ کہہ کر مغربی صحرا واپس کرنے سے انکار کر دیا  کہ اس نے یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے اور  فرانس کو  مغربی  صحرا سے بھی  الجزائری جوانوں نےنکالا ہے اس لیے جو جو علاقے الجزائر نے فرانس سے خالی کروائے ہیں وہ الجزائر کے ہی ہیں۔

جب معاملہ بات چیت سے حل نہ ہو سکا تو نوبت جنگ تک آ گئی اور  ابھی الجزائر کی آزادی کو تقریبا سال ہی ہوا تھا  کہ اکتوبر 1963 میں الجزائر اور مراکش کے درمیان   مغربی صحرا   پر اختلاف کی وجہ سے جنگ شروع ہو گئی  جسے "حرب الرمال” یعنی ریت کی جنگ  کہا جاتا  ہے، پانچ ماہ جاری رہنے والی جنگ  کا 20 فروری  سنہ1994ء عرب لیگ اور افریقن یونین کی  مداخلت سے خاتمہ ہوا  اور 15 جولائی سنہ 1972ء  کو دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم حدود پر ایک معاہدہ طے پا گیا۔

سنہ 1975ء  کومراکش نے مغربی صحرا کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔حال ہی میں اس نے فاسفیٹ کی دولت سے مالا مال اس علاقے کو اپنے تحت زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز پیش کی ہے لیکن اس کو  مغربی  صحرا کی آزادی پسند پولیساریو فرنٹ نے مسترد کردیا ہے۔اس تنظیم کے ہیڈکوارٹرز الجزائرکے مغربی شہر تندوف میں قائم ہیں۔اس تنظیم کے جنگجو سنہ 1975 ء کے بعد کوئی ڈیڑھ عشرے تک مراکشی فوج سے آزادی کے لیے لڑتے رہے تھے۔ان کے درمیان ؁ 1991ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی۔

دونوں ملکوں کے درمیان اکثر کشیدگی رہتی ہے  اور ہر وقت جنگ کا خطرات منڈلاتے رہتے ہیں،پچھلے سال بھی   الجزائر اور مراکش کے درمیان سفارتی تعلقات میں انقطاع آیا تھا اور قریب تھا کہ جنگ چھڑ جائے،اسی عرصہ میں مراکش نے الجزائر کی  140 کلومیٹر لمبی سرحد پر باڑ لگانے کا اعلان بھی کیا تھا۔

مراکش اور الجزائر دونوں پڑوسی ملک ہیں  اور دونوں ملکوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں،دونوں کی زبان عربی ہے اور ثقافت میں بھی کوئی فرق نہیں،دونوں کا شمار  مسلم ممالک میں ہوتا ہے لیکن دونوں میں اختلاف اور تناؤ  آزادی کے پہلے دن سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

   دمشق کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ یہ مغربی صحرا الجزائر کا ہے نہ کہ مراکش کا،عرب ممالک میں واحد شام ہی ہے جو اس معاملے میں الجزائر کے ساتھ کھڑا ہے،دوسری طرف مراکش بھی  شام میں مزاحمت کاروں کو سپورٹ کر رہا ہے جس کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ الجزائر اسدی حکومت کے ساتھ کھڑا ہو۔

الجزائری مبصر حبیب الرحمن بلیہ  کا کہنا ہے کہ  الجزائر کا یہ اصولی موقف ہے کہ وہ  باغیوں کے مقابلے میں آئینی حکومت  کا ساتھ دیتا ہے اور عرب بہار کے نام سے اٹھنے والی تمام تحریکوں کی مخالفت کرتا ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی الجزائر کا اصولی موقف ہے تو پھر  وہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ  میں عرب اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنا؟ اس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ الجزائر اپنے حریف مراکش کی مخالفت میں  یہ سارا کھیل کھیل رہا ہے ۔

موجودہ تناظر میں جہاں الجزائر شام کے احسان کا بدلہ احسان سے دے رہا ہے وہاں  وہ خلیجی ممالک  کے مراکش  کا ساتھ دینے پر   اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کر رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ الجزائر اور روس میں بھی قربتیں بڑھ رہی ہیں تاہم قرائن یہ بتاتے ہیں کہ الجزائر کو اپنے حالیہ موقف کی قیمت چکانی ہو گی،کیونکہ بشار الاسد کا جانا یقینی ہے اور شام کے مستقبل میں  بشار کی کوئی جگہ نہیں ہے اور  یہ طے ہے کہ شامی عوام اپنا حق لے کر رہیں گے اور اپنا مستقبل خود طے کریں گے۔ جس کے بعد الجزائر کا   عرب ممالک میں کوئی بھی حلیف نہیں رہے گا۔ اب یہ کام الجزائر کے پالیسی سازوں کا ہے کہ وہ  اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات اختیار کرتے ہیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version