سندھ کے لوگوں کے لیے سندھ محض ایک انتظامی علاقہ نہیں بلکہ ان کے لئے یہ ایک گہری تاریخی، ثقافتی اور جذباتی اہمیت رکھنے والی سرزمین ہے۔
ڈاکٹر سعید احمد رِڈ
نئے صوبوں کے قیام کی بحث پاکستان کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں کہیں زیادہ متنازع اور سیاسی طور پر حساس ہے۔ اس حساسیت کی بڑی وجہ صوبے کی تاریخ، ثقافت، سیاست اور کثیر النسلی ساخت ہے۔ سندھ کے باسیوں کے لئے سندھ محض ایک انتظامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ان کے لئے گہری تاریخی، ثقافتی اور جذباتی اہمیت رکھنے والی سرزمین ہے۔ نسل در نسل سندھیوں نے سندھ کو اپنی آبائی سرزمین سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ مضبوط وابستگی پیدا کی ہے۔ سندھ سے یہی علاقائی اور ثقافتی تعلق اس کو تقسیم کرنے کی کسی بھی تجویز کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیتا ہے۔
چنانچہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں آنے والے دلائل کو محض انتظامی اصلاحات کی مخالفت قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ مسئلہ شناخت، تاریخ، سیاسی نمائندگی، وسائل اور اپنی سرزمین کی سالمیت جیسے سوالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسی لیے سندھ میں یہ بہت مضبوط احساس ہے کہ اس صوبے کو تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔
معروف مصنف اور سیاسی تجزیہ کار جامی چانڈیو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا:
"سندھ تاریخی وطن، پنجاب تاریخی وطن ، بلوچستان تاریخی وطن، خیبر پختونخواہ تاریخی وطن۔ پاکستان انہی چار اکائیوں کا وفاق ہے اگر اکائیوں کو تقسیم کرو گے تو پاکستان نہیں رہے گا۔”
یہ جذبات اس گہری جذباتی اور نفسیاتی وابستگی کی نشاندہی کرتے ہیں جو سندھی دانش وروں اور وسیع تر معاشرے میں سندھ کی علاقائی سالمیت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ بعض حوالوں سے یہ وابستگی اس قدر مضبوط ہے کہ اس کا موازنہ اس قدر و قیمت سے کیا جا سکتا ہے جو ایک قومی ریاست اپنی قومی سرزمین کی سالمیت کو دیتی ہے۔
سندھی، جن میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی شامل ہیں، اکثر سندھ کو "تاریخی وطن” قرار دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سندھ اپنی موجودہ علاقائی حدود کے ساتھ 1940ء کی قراردادِ لاہور کےاس سماجی معاہدے کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنا، جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ ان کے مطابق اصل قراردادِ لاہور میں خودمختار اور مقتدر وحدتوں کا تصور پیش کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ کی علاقائی سالمیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے قیام کی تاریخ میں بھی سندھ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ برطانوی ہندوستان میں سندھ اسمبلی پہلی صوبائی مقننہ تھی جس نے 3 مارچ 1943ء کو باقاعدہ طور پر پاکستان کے قیام کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔
اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ مسلمان:
"بلاشبہ اس امر کے مستحق ہیں کہ ایک واحد اور علیحدہ قوم کی حیثیت سے انہیں اپنے آزاد قومی مملکتیں رکھنے کا حق حاصل ہو، جو برصغیر کے ان علاقوں میں قائم ہوں جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔”
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ قراردادِ لاہور میں مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم کی جانے والی سیاسی وحدتوں کے لیے "آزاد ریاستیں” کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔
سندھی قوم پرستانہ بیانیے کے نقطۂ نظر سے اس اصطلاح کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ صوبے محض ایک مرکزی پاکستانی ریاست کی انتظامی تقسیم نہیں تھے بلکہ وہ اپنی الگ تاریخی اور علاقائی شناخت رکھنے والی سیاسی وحدتیں تھیں، جو ایک وسیع تر پاکستانی قومی ریاست کے اندر وفاق کا حصہ بنیں۔
اسی لیے سندھ کی تقسیم کی بحث کو صرف انتظامی کارکردگی، آبادی کے حجم یا عوامی خدمات کی فراہمی کے روایتی پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
سندھ اسمبلی کا 1943ء کا یہ تاریخی فیصلہ سندھ میں خاص علامتی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوا کہ سندھ کا پاکستان میں شامل ہونا مستقبل کے وفاق کی نوعیت سے متعلق ایک سیاسی مفاہمت کی بنیاد پر ہوا تھا۔
قراردادِ لاہور اور 1943ء کی سندھ اسمبلی کی قرارداد سے وابستہ یہ تاریخی یادداشت اکثریتی سندھی آبادی میں سرزمین کی ملکیت اور اجتماعی شناخت کے ایک طاقتور احساس کو تقویت دیتی رہی ہے۔ نتیجتاً سندھ کو تقسیم کرنے کی تجاویز کو اکثر محض انتظامی اصلاحات کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی طور پر تشکیل پانے والے وطن کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس جذباتی پہلو کو سمجھنا اس لیے اہم ہے کہ سندھ کی تقسیم کی بحث محض انتظامی کارکردگی سے متعلق سوال کیوں نہیں ہے۔ ناداو جی ۔شیلف اپنی کتاب "ہوم لینڈز : شفٹنگ بارڈرز اینڈ ٹیروٹوریئل ڈسپیوٹس "میں لکھتے ہیں:
"وطن کی جذباتی طاقت زمین کی معاشی یا تزویراتی قدر سے زیادہ ان علامتی اور تقریباً مذہبی نوعیت کے عقائد سے پیدا ہوتی ہے۔”
اسی طرح ’’تاریخی وطن‘‘ کا تصور سندھ کے علاقائی سوال کو ایسی علامتی اور جذباتی اہمیت عطا کرتا ہے جسے صرف انتظامی کارکردگی، آبادی کے حجم یا عوامی خدمات کی فراہمی کے دلائل سے پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔
تاہم ’’تاریخی وطن‘‘ کا استدلال سندھ کی حدود تبدیل کرنے کے خلاف کوئی مطلق آئینی یا قانونی رکاوٹ فراہم نہیں کرتا۔ خود تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تاریخی وطن کی علاقائی حدود نہ تو ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں اور نہ ہی ناقابلِ تغیر ہوتی ہیں۔
مثلاً تاریخی پنجاب آج ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے، جبکہ وسیع تر پشتون وطن موجودہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔
سندھ بھی علاقائی تصور کی اس تبدیلی کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ ماضی میں تاریخی سندھ کی حدود آج کی نسبت کہیں زیادہ شمال تک پھیلی ہوئی تھیں اور موجودہ ملتان کے گردونواح کے علاقے بھی اس میں شامل تھے، جبکہ آج کا صوبہ سندھ صرف گھوٹکی ضلع کے علاقے اوباڑو تک پھیلا ہوا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی وطن کا جغرافیائی تصور ہمیشہ کے لیے ایک ہی شکل میں منجمد نہیں رہتا۔ کسی علاقے کی سیاسی حدود تبدیل ہو سکتی ہیں، جبکہ اس کی تاریخی، ثقافتی اور جذباتی اہمیت برقرار رہ سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وطن کی تاریخی یادداشت قائم رہتی ہے، لیکن اس کی جغرافیائی حدود وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔
وفاقیت کی اصطلاح میں دیکھا جائے تو بہت سے سندھی سندھ کو ایسی وفاقی وحدت سمجھتے ہیں جو پاکستان میں ’’coming-together federalism‘‘ کے ذریعے شامل ہوئی، نہ کہ ’’holding-together federalism‘‘ کے ذریعے۔
یہ فرق پاکستان کے بارے میں سندھی تصور اور سندھ کی علاقائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کے معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق سندھ محض پاکستانی ریاست کی طرف سے قائم کیا گیا کوئی انتظامی علاقہ نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی طور پر تشکیل پانے والی سیاسی وحدت تھا جو تحریکِ پاکستان سے وابستہ سیاسی عمل کے ذریعے وفاق میں شامل ہوئی۔
پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی کی 1943ء کی قرارداد اس تاریخی بیانیے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
چنانچہ بہت سے سندھی سندھ کو وفاق کی ایسی اکائی سمجھتے ہیں جس کی اپنی جداگانہ تاریخی اور علاقائی شناخت ہے اور اسی لیے ان کے نزدیک اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حامی اکثر امریکہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پچاس امریکی ریاستیں اصل تیرہ ریاستوں سے وجود میں آئیں اور امریکی تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی وفاقی اکائیوں کو بار بار تقسیم کرنے کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی پچاس میں سے 45 ریاستیں کبھی تقسیم نہیں ہوئیں اور وفاق میں شامل ہونے کے بعد سے انہوں نے اپنی علاقائی سالمیت برقرار رکھی ہے۔
امریکہ کی توسیع بنیادی طور پر موجودہ ریاستوں کو تقسیم کرنے کے بجائے نئی ریاستوں کو وفاق میں شامل کرنے کے ذریعے ہوئی۔
اصل تیرہ ریاستوں میں سے صرف ورجینیا اور میساچوسٹس بعد میں تقسیم ہوئیں، اور یہ تقسیم زیادہ تر ان ریاستوں کے اپنے اندرونی سیاسی اور علاقائی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ وفاقی سطح پر مسلط کردہ کسی انتظامی تنظیمِ نو کا۔
سندھ کے معاملے میں امریکی مثال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ پاکستان کے آئین کی طرح امریکی آئین بھی کسی موجودہ ریاست کی علاقائی حدود میں تبدیلی کے لیے اہم آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
امریکی آئین کے آرٹیکل IV، سیکشن 3 کے تحت موجودہ ریاستوں کی حدود کے اندر نئی ریاست بنانے کے لیے متعلقہ ریاست کی مقننہ کی رضامندی کے ساتھ ساتھ کانگریس کی رضامندی بھی ضروری ہے۔
یہ وفاقیت کے ایک اہم اصول کی عکاسی کرتا ہے:
وفاقی حکومت کسی وفاقی اکائی کی علاقائی سالمیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتی۔
پاکستان کے آئین میں بھی اسی نوعیت کا اصول موجود ہے۔
آرٹیکل 239(4) کے تحت ایسا آئینی ترمیمی بل جو کسی صوبے کی حدود تبدیل کرے، اس وقت تک پارلیمان سے منظور نہیں ہو سکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے دو تہائی اکثریت سے منظور نہ کر دے۔
چنانچہ آئینی اعتبار سے سندھ اسمبلی کی رضامندی محض سیاسی طور پر مطلوب چیز نہیں بلکہ سندھ کی علاقائی حدود تبدیل کرنے کی کسی بھی تجویز کے لیے ایک لازمی آئینی شرط ہے۔
اسی تناظر میں 21 فروری 2026ء کو سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اس قرارداد میں اسمبلی نے:
"سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا”۔
اگرچہ یہ قرارداد بذاتِ خود مستقبل میں کسی بھی ایسی تجویز کے خلاف مکمل قانونی رکاوٹ نہیں بنتی، تاہم یہ صوبے کی منتخب اسمبلی کے باقاعدہ طور پر اظہار کردہ مؤقف کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت سندھ کی آئینی تنظیمِ نو کے لیے درکار صوبائی سیاسی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
مصنف ڈاکٹر سعید احمد رڈ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version