Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»طالبان کا مستقبل
    کالم

    طالبان کا مستقبل

    صفدر سیالBy صفدر سیالجون 7, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دراصل امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت میں یہی پوشیدہ پیغام ہے کہ طالبان کے تشدد کا جواب تشدد سے دیاجائے گا

    بہت سے تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان طالبان امیر ملا محمد اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے افغان مصالحتی عمل یا مزاکرات کا راستہ روک دیا ہے ۔کم علم یا دال روٹی کے چکر میں مصروف عام لوگ اس سے مطلب یہ بھی لے سکتے ہیں کہ ملا اختر منصور مزاکرات میں شرکت کے لئے آرہے تھے کہ امریکی ڈرون نے انھیں راستے میں ہلاک کر دیا ۔یعنی امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے خطے میں امن قائم ہو۔

    یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جب طالبان کابل میں خود کش حملے کر رہے ہوں یاافغان شہروں کا گھیراؤ کر رہے ہوں تو بہت کم تجزیہ کار طالبان کے ان پُر تشدد اقدامات کے افغان مفاہمتی مزاکرات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں ۔اکثر زور اس بات پر ہوتا ہے کہ مفاہمتی طالبان افغانستان میں اپنی طاقت اور دائرہ بڑھا رہے ہیں ۔یا پھر طالبان کے حملوں کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ ہونے والے ممکنہ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنا رہے ہیں تاکہ اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات منوا سکیں ۔اگر ایسا ہی ہے تو کیا افغان حکومت اور اس کے اتحادی طالبان کے ساتھ مزاکرات میں اپنی معیشت بہتر بنانے کے لئے (یا طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے کے لئے ) کوشش یعنی طاقت کا ستعمال نہیں کر سکتے ؟

    یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جب طالبان کابل میں خود کش حملے کر رہے ہوں یاافغان شہروں کا گھیراؤ کر رہے ہوں تو بہت کم تجزیہ کار طالبان کے ان پُر تشدد اقدامات کے افغان مفاہمتی مزاکرات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں

    دراصل امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت میں یہی پوشیدہ پیغام ہے کہ طالبان کے تشدد کا جواب تشدد سے دیاجائے گا اور اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ویسے بھی افغان ریاست اپنے باغیوں کے خلاف  اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے تشدد یا طاقت کے استعمال کا آئینی و مذہبی جواز رکھتی ہے ۔

    یہ درست ہے کہ افغان ریاست اور اس کے اتحادی پچھلے پندرہ سالوں میں طاقت کے استعمال سے طالبان کا قضیہ حل نہیں کر سکے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان کے لئے بھی حا لات اب نوّے کی دہائی والے نہیں رہے ۔نہ تو وہ کابل پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں نہ ہی انہیں ماضی والی اندرونی و بیرونی سیاسی حمایت حاصل ہے ۔افغانستان کے ہمسائیوں میں سے (بشمول پاکستان) کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہاں طالبان حکومت بنے ۔

    دراصل وست مدتی اور طویل مدتی تناظر میں افغان سیاسی عمل میں شمولیت ہی طالبان کے لئے بہترین بلکہ بقا کا آپشن ہے ۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی جاری عسکری کارروائیوں سے افغانستان فتح کر لیں گے یا وہاں اسلام نافذ کر دیں گے تو اسے محض خام خیالی ہی سمجھا جائے گا۔

    اس وقت تین اہم عوامل ہیں جو افغانستان میں با الواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کے لئے حمایت یا تقویت کا باعث ہیں ۔اوّل ، افغان حکومت کی ناقص کارکردگی اور اس میں موجود سیاسی ، نسلی تقسیم کی کمزوریاں ۔دوم، افغان سیکورٹی  فورسز کی کم استعداد  اور سوم افغان اداروں (بشمول سیکورٹی کے اداروں ) میں پشتونوں کی مناسب نمائندگی کا مسئلہ ۔

    اس وقت اگر دنیا (بالخصوص چار فریقی گروپ کے ارکان افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ )طالبان کو افغان سیاسی عمل میں ایک فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے تو یہ طالبان کے لئے ایک بہت اہم مو قع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کریں  ۔لیکن اپنی اندرونی کمزوریوں یا  "فتح”  کے خمار  میں  وہ جلد ایسا نہ کر پائے تو وہ یہ موقع کھو سکتے ہیں ۔اس صورت میں مستقبل میں ان کی سیاسی فریق والی حیثیت کمزور اور ایک دہشتگرد گروہ کا تاثر مضبوط ہو گا ۔اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مستقبل کی کیسے تعبیر کرتے ہیں ۔

    اس وقت تین اہم عوامل ہیں جو افغانستان میں با الواسطہ یا بلاواسطہ طالبان کے لئے حمایت یا تقویت کا باعث ہیں ۔اوّل ، افغان حکومت کی ناقص کارکردگی اور اس میں موجود سیاسی ، نسلی تقسیم کی کمزوریاں ۔دوم، افغان سیکورٹی  فورسز کی کم استعداد  اور سوم افغان اداروں (بشمول سیکورٹی کے اداروں ) میں پشتونوں کی مناسب نمائندگی کا مسئلہ ۔

    اگرچہ ایسے شواہد نظر نہیں آرہے کہ مختصر مدت میں یہ عوامل کالعدم ہو جائیں لیکن یہ بھی فرض نہیں کیا جا سکتا کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی ۔افغان سیاسی اور سیکورٹی ادارے ٹرانزیشن کی حالت میں ہیں اور ان میں بتدریج بہتری آئی گی ۔پشتونوں کی نمائندگی کا مسئلہ بھی بتدریج حل ہو گا ۔حکمت یار کی حزب اسلامی افغان حکومت کے ساتھ سیاسی معاہدے کے بہت قریب ہے ۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پشتونوں کی کم نمائندگی  کا تاثر کسی حد تک کم ہو گا ۔طالبان کا ملا رسول گروہ یا دیگر اسی طرح کے گروہ حکومت سے امن معاہدے کر سکتے ہیں ۔

    مختصراً افغانستان اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر یہ نہایت مشکل ہے کہ طالبان نوّے کی دہائی والی سوچ کے ساتھ اپنے آپ کو زیادہ دیر ایک مؤثر پشتون نمائندہ یامذہبی تحریک کے طور پر قائم رکھ سکیں ،عسکریت پسندی کے پروفائل سے زیادہ انہیں اپنی سیاسی معیشت اور اہمیت پر توجہ دینا ہو گی ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم خوش کیوں نہیں ہیں؟
    Next Article اقتصادی راہداری اور قومی قیادت کا امتحان
    صفدر سیال

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by