یه مکالمه بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں شناخت سے جڑے مسائل اور رجحانات پر ایک گهری گفتگو پیش کرتا ہے۔ عامر رانا نے ڈاکٹر سلیم کرد، جو بلوچستان کی ادبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں سے وابستہ رہنے والے معروف دانشور ہیں، سے بلوچستان کے تاریخی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے ، اس کے تنازعات اور مستقبل کے امکانات پر بات کی۔ ڈاکٹر سلیم کرد نے بلوچستان کے استحصال قومی تحریک سماجی تبدیلی کی جدوجہد اور بلوچ و پختون کے درمیان یگانگت کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ یہ انٹرویو بلوچستان کے سماجی اور سیاسی مسائل ان کے تاریخی پس منظر اور مستقبل کے لیے ایک پرامید نقطه نظر کو اجاگر کرتا ہے، جو خطے کی پیچیدگیوں اور امکانات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔

سوال: آج ہم ڈاکٹر سلیم کرو کے ساتھ ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ ہم اس وقت کوئٹہ میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے مختلف رائے کو سنیں۔ یہ رائے نہ صرف سیاسی ہو بلکہ بلوچستان کے دانشوروں، طلباء، سماجی کارکنوں، وکلاء اور یہاں دیگر شعبوں سے منسلک لوگوں کو بھی سنیں اور دیکھیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔

تو ڈاکٹر سلیم کرد کسی تعارف کے محتہ ا تعارف کے محتاج نہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے آپ کی ادبی خدمات ہیں اور بلوچستان کی سیاسی اور مقامی تحریکوں پر ایک جامع کام ہے۔ تو ہم نے سمجھا کہ کیوں نہ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے ہی سمجھا جائے کہ بلوچستان کا اصل دکھ ہے کیا ؟

جواب : بلوچستان کا اصل مسئلہ یاد کھ آپ کہیں تو اسی وقت سے بلوچستان کی سر زمین کو جانتے ہیں لیکن یہاں کے رہنے والوں کو اس طرح سٹریٹ نہیں کر رہے ہیں۔ تو سب سے بڑا دکھ یہی ہے۔ آپ اسے استحصال کہیں، دکھ کہیں یا کچھ بھی کہیں، یہ انگریز کے ادوار سے لے کر اب تک چلتا آرہا ہے۔ ایسی صور تحال ہے۔

سوال: تو بلوچستان کے اندر ظاہر ہے کہ ایک رائے ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ گزشتہ چھتر سالوں میں بلوچستان کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں لیکن بلوچستان کے اپنے لوگوں نے خود اپنے لیے کیا کیا ؟ بلوچستان کے معاشرے نے، سماج نے، نوجوانوں نے سماج کو آگے لے جانے کے لیے کیا کچھ کیا بلوچستان میں ؟

جواب: ویسے تو بلوچستان میں جو سماجی تبدیلی کا راستہ ملا تھا وہ 1920 کو دیا گیا تھا۔ ایک صدی سے زائد کے عرصے میں بلوچستان کے ریاست قلات کے مستونگ میں نوجوانوں کا ایک ایسا حلقہ بنا جنہوں نے یہاں پہلی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ آپ اسے بینگ بلوچستان کہہ سکتے ہیں، جوانان بلوچ بھی کہہ سکتے ہیں۔ سکول کے طالب علم علم ۔ تھے۔ قیادت میر عبدالعزیز کرد کر رہے تھے۔ تو یہ کا 1920 واقعہ ہے کہ وہ چند چیزوں سے متاثر ہوئے۔ یہاں تو نو آبادیاتی لوگوں کا مقامی لوگوں کے ساتھ جو رویہ تھا اس سے، سکول ٹیچر خیر محمد مری وہ پڑھاتا اسلامیات کا اور جو دوسرے انگریز اساتذہ تھے ، ان کا رویہ نو آبادیاتی تھا۔ اس کے علاوہ یہاں کے لوگوں کی غربت اور زندگی سے متاثر ہو کر تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔

تو اس زمانے میں اس کے ارد گرد لوگ تھے۔ ان میں یوسف عزیز مگسی تھے جنہوں نے دس سال بعد آکر تنظیم کی قیادت سنبھالی اور یوسف عزیز مگسی نے کھل کر تنظیم سازی شروع کی۔ جب 1929 میں یوسف عزیز مگسی گرفتار ہو کر مستونگ جیل آئے تھے تو جیل کے اندر یوسف عزیز مگسی کی عبدالعزیز کرد سے ملاقات ہوئی اور تنظیم میں شمولیت کی دعوت ملی جسے یوسف عزیز مگسی نے قبول کیا اور پھر انہوں نے ایک راستہ دیا۔ چونکہ ان کے پاس دانشوروں کا ایک اچھا خاصا حلقہ تھا اور اس کے علاوہ یوسف عزیز مگسی کے تعلقات بر صغیر کے دیگر دانشوروں سے بھی تھے جیسے مولانا ظفر اللہ ، مولانا عبد الکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، اسی طرحرا بندر ناتھ ٹیگور سے بھی رابطہ تھا اور مشہور کیا کرتے تھے۔ اس کی بنیاد پر اپنی جد وجہد کا آغاز کیا اور اس کا اندازہ تھا کہ سماجی تبدیلی، سماجی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور بلوچ سماج کی خد و خال اور طبقاتی حد بندی تھی، ان پر تحقیقات شروع کیں کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی زیادہ تر خانہ بدوشانہ تھی اور ان کی زندگیوں کے کیا دکھ اور تکلیف ہیں اور ان کو سمیٹ کر اپنی تنظیم کا پرو گرام مرتب کیا۔

اسی طرح کان کنوں کی کیا تکالیف ہیں، اسی طرح ساحل سمندر کا اور اس کے علاوہ بلوچ سماج کے مختلف طبقات کا جائزہ اور ان کی دکھ تکلیف کا مشاہدہ کرتے ہوئے ملا کر ایک سماجی تحریک اور تبدیلی کا آغاز کیا۔
اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سماج کی تبدیلی کا دار و مدار محنت کش طبقے پر ہے ، اس لیے انہوں نے زور دیا تھا کہ یہاں پر اس طبقے کا وجود لایا جائے، خاص کر اوستہ محمد یا نصیر آباد ڈویژن میں جہاں چاول اور گندم کی ملز اور کارخانے ہیں۔ اس زمانے میں مطالبات بھی کرتے رہے ہیں۔ 1933 میں جو آل انڈیا بلوچ لیگ بلائی گئی تھی وہ تمام سماجی تبدیلی کے لیے ایک قدم بڑھایا گیا تھا۔ تو وہ بڑی تبدیلی کے بھی خواہاں نہ تھے کہ ایک دم سے ہی انقلاب لایا جائے بلکہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کردار ادا کر سکیں۔ ان کے مطالبات بھی تھے کہ روڈ بنائے جائیں۔

سوال: ڈاکٹر صاحب، تاریخی پس منظر آپ نے بہت اچھے طریقے سے بیان کیا لیکن یہ تسلسل رہا؟ دوسری سماجی تبدیلی کی تحریک کی یارک گئی؟ کیونکہ تبدیلی دو طریقوں سے ہو سکتی ہے، ایک ریاست کی طرف سے، دوسرا معاشرے کا باشعور طبقہ کردار ادا کرتا ہے۔ تو وہ کون سا طبقہ جو بلوچ ہیں، پختون ہیں یا بلوچستانی، جس نے بلوچستان کے سماجی شعور میں ، تبدیلی میں، تنظیم کاری میں کردار ادا کیا ہو ؟

جواب : اس زمانے میں سیاست تو ستر کی دہائی میں اچھا خاصا چلتی رہی اور وہ تبدیلی اور سماجی تبدیلی کے حوالے سے یا ان کے محرکات یا قو تیں ہیں ، ان سے اچھا خاصا جڑے رہے۔ ستر کی دہائی کے بعد یہاں پر جو ماشاء اللہ آیا یا افغان انقلاب آیا یا یہاں پر جو ڈالر کی ریل پیل شروع ہوئی تو اس نے تمام چیزوں کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ تو یہ جتنی بھی تنظیمیں یہ خود کو ستر کی دہائی سے قبل کا تسلسل کہتی آرہی ہیں، یوسف عزیز مگسی، عبدالعزیز کرد، یا عبد الصمد خان اچکزئی کا تسلسل کہتے آرہے ہیں لیکن ان کی تبدیلی، تنظیم کاری کی جد وجہد کار فتار اس طرح کا نہیں ہے جو ان کا اپنے عوام کے ساتھ ، اپنے محنت کشوں کے ساتھ جو شانہ بشانہ ہو سکتی ہے۔

سوال: بالکل ڈاکٹر صاحب، آپ نے تو ظاہر ہے بلوچستان کی قومی تحریک اور بلوچستان کیسا ہونا چاہیے تو یہ بتائیں کہ بلوچستان ہونا کیسا چاہیے تھا، بلوچستان ہے کیسا، اور کیسا ہونا چاہیے ؟

جواب: مستقبل میں جو ہے ، میں تو کہتا ہوں کہ جو بھی ہوگا، ماضی میں جو کچھ بھی ہوا ہے، عالمی طاقتوں نے مل کر بندر بانٹ کی ہے۔ انڈیا کانگریس کی جد وجہد سے آزاد نہیں ہوا، میرا یہ کہنا ہے کہ انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد سے آزاد نہیں ہوا تھا بلکہ اس معاہدے کی روح سے ہوا جو نومبر 1943 میں تہران میں ہوا، جس میں امریکہ

کے صدر روز ویلٹ اور برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل تھے اور سوویت یونین کے اسٹالن تھے۔ جو انہوں نے نومبر 1943 میں مل بیٹھ کر تہران اور اس سے پہلے ترکی میں ملاقات سے ہوئی تھی۔ تہران میں بیٹھ کر دنیا کے مستقبل کے بارے میں آپس میں متفق ہوئے۔ بعض چیزوں سے اسٹالن کو پسپا ہو نا پڑا، بعض چیزوں سے روز ویلٹ اور بعض چیزوں سے چرچل کو پسپا ہونا پڑا۔ تو اس زمانے میں بر صغیر میں برطانیہ کی عملداری ختم کرنے کے لیے 1948 میں وقت دیا تھا۔

وہاں برطانیہ میں جب لیبر پارٹی کی حکومت آئی تو انہوں نے 1948 کی بجائے 1947 میں واپس چلے گئے۔ تو یہ جتنی بھی تبدیلیاں تھیں، تو اس زمانے میں کردوں کی دور ریاستیں تھیں، ایک کردستان اور مہا باد تھا جو سوویت یونین کے قریب ریاستیں تھیں ، اس پر اسٹالن کا شفقت تھا۔ اسٹالن کو کردوں کی ان ریاستوں سے دست بردار ہونا پڑا اور کرد اپنی آزادی کو برقرار نہ رکھ سکے ، تو اس طرح سے ایران میں شامل ہوئے۔ یہ کردوں کے بارے میں طے ہوا تھا کہ ان کو کوئی ریاست نہ دی جائے اور اسی طرح بلوچوں کو بھی۔

سوال: بلوچوں کی تقسیم کاری تو بہت پہلے ہوئی تھی ؟

جواب : ڈیورنڈ لائن یا ایران کے سرحدات کے حوالے سے تقسیم کاری ہوئی تھی، اس کو اسی طرح انہوں نے برقرار رکھا۔ یہاں پر سب سے زیادہ مسائل برطانیہ کے پیدا کردہ ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے بلوچ اور پختون دونوں مسائل کے حوالے سے دوچار ہیں۔

سوال: انگریز کو گئے ہوئے چھتر سال ہو گئے ہیں، یہ ایک لمبا عرصہ ہے۔ چالیس سال میں ایک نئی نسل، نئی تہذیب پیدا ہو جاتی ہے۔ تو گزشتہ چھتر سالوں میں ہم ایک سماج بھی نہیں بنا سکے۔ تھیوریز کے مطابق تو ہمیں ترقی کے راستے میں بہت آگے ہونا چاہیے تھا۔ ہم پھنسے ہوئے کیوں ہیں ؟ ابھی تک ہم گورے کو کیوں الزام لگا رہے ہیں؟ اپنا خود کا احتساب کیوں نہیں کرتے؟

جواب : یہی مسئلہ ہے کہ ہم بطور پاکستانی قوم نہ بن سکے۔ میر غوث بخش بزنجو صاحب آخری لمحات میں چاروں قوموں کے گلدستے کے حوالے سے بات کرتے رہے لیکن ابھی تک پاکستان بطور قوم وجود میں نہیں آیا، نہ انہوں نے دوسری چھوٹی اقلیتوں کو قوم بننے کے لیے ان کے لیے راستہ کھلا ھوڑا۔ یہ مسائل ہیں یا چھوٹی قوموں کے لیے دیگر مسائل ہیں۔

سوال: آپ یہ بتائیں کہ بلوچستان کی جو قومی تحریک ہے، اس کی تعریف آپ کسی طرح کریں گے ؟

جواب: میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کی قومی تحریک خود مختاری، اس کے حقوق کی لڑائی ہے۔ ہمارے جتنے بھی پہلے کے رہنما تھے ، اسی ڈھانچے کے اندر رہ کر وہ اپنی جد وجہد ، اپنے قومی اختیار کی بات کیا کرتے تھے۔ تو بنیادی طور پر آغاز تو یہی تھا۔ شہزادہ آغا عبدالکریم کی بغاوت کو دیکھ لیں ، پھر اس کے بعد وہ ریاست کے اندر رہ کر جمہوری طرز سیاست، پارلیمانی طریقے سے اپنے دائرے میں رہ کر جدوجہد کی۔ ابھی تو تمام راستے بند ہوئے، پارلیمانی راستے بھی بند ہو گئے، جمہوریت کے راستے بھی بند ہو گئے ، تو اسی لیے نتائج یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ دونوں طرف سے بندوقیں ہیں۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بی ایل اے جو ہے، وہ اس بلوچ قومی تحریک کا حصہ ہے؟

جواب : یہ اتنے دور جا چکے کہ اب ہمارے دسترس سے باہر ہو گئے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اول دستہ کہتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہاں پر جو جمہوریت کی راہیں نکالی جائیں، مداخلت نہ کی جائے، پارلیمانی جد وجہد میں مداخلت نہ کی جائے، شاید حالات جو ہیں بہتر ہوں۔ لیکن اگر اسی طرح کا رویہ رہا تو یہ ہر جگہ پھیل جائے گی۔ ا

سوال: یہ بتائیں کہ بلوچستان کا دانشور ہے، ان میں بلوچ بھی ہیں اور بلوچستانی، ان کے درمیان کون سے موضوعات پر زیادہ غور و فکر ہوتا ہے؟ سیاسی، سماجی مسائل کے حوالے سے کون سے ایسے مضمون زیر بحث ہیں؟ کیونکہ جو دانش سے ہی سیاست نکلتی ہے ، اس سے سماجی ترقی کا راستہ نکلتا ہے۔ دانشوروں کے درمیان بحث کیا ہے؟

جواب: میں نے شروع میں کہا تھا کہ دانشوروں کا ایک حلقہ تھا جو سیاست سے منسلک تھا۔ یہ سلسلہ ستر کی دہائی تک چلتا رہا۔ اب تو پورے ملک میں صورتحال یہ ہے کہ سیاستدان دانش سے خالی ہیں اور دانشور سیاست سے دور ہیں۔ پہلے آپ دیکھتے تھے کہ فیض احمد فیض کا کسی نہ کسی حوالے سے تعلق تھا، حبیب جا ا، حبیب جالب تھا، اجمل مخٹک تھا۔ اب تو یہ ہیں کہ جتنے بھی سیاستدان ہیں، یہ تمام دانش سے بہت دور ہیں اور دانشور سیاست سے دور ہیں۔ اس کا خوف ہے، اس کی سوچ پر خوف کا چھاپ بیٹھا ہوا ہے۔ تو اسی لیے یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، صرف بلوچستان کا نہیں ہے۔ اس حوالے سے دانشور اپنے دائرے میں چیزیں تخلیق کر رہا ہے اور سماج کے اندر جو پیچید گیاں ہیں، اس پیچیدگیوں سے ہٹ کر اپنے قلم کا استعمال کروں گا تو اس کے زد میں آجاؤں گا۔ ناس

سوال: ڈاکٹر صاحب، پنجاب اور کراچی میں کئی طرح کی فکری تحریکیں ہیں۔ وہاں پر ظاہر ہے کچھ بلوچستان کے دکھ کو محسوس کرنے والے لوگ ہیں، ظاہر ہے کچھ ایسے بھی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ تو جو حقیقت میں بلوچ کے ساتھ یا مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے ساتھ آج کے بلوچ دانشور کا کتنا ربط ہے آپس میں ؟

جواب: پہلے کسی زمانے میں یہ ربط تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسائل صرف بلوچستان کے نہیں بلکہ سندھ، پنجاب، اور خیبر پختو نخوا کے بھی ہیں۔ اس لیے جو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی تشکیل اسی بنیادوں پر ہوئی۔ چھوٹی چھوٹی قومیتوں کے جتنے بھی لوگ تھے ، وہ سب یکجا ہو کر نیشنل عوامی پارٹی تشکیل دی۔ پھر نیپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر دو گروہوں، باشانی اور ولی گروپ میں تقسیم ہو کر ٹوٹ گئی۔ لیکن ان کی سوچ یہی تھی کہ ان تمام مسائل کو مشتر کہ جد وجہد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ سوچ سندھ ، پنجاب ، نا پید ہے۔ اکاڈ کا ہیں یہاں اور خیبر پختو نخوا میں سوچنے والے ہیں۔ میرے خیال میں اب اس کی ضرورت ہے کہ جتنے بھی سیاسی حلقے ہیں، دانشوروں کے حلقے ہیں، مشتر کہ بنیادوں پر جد وجہد کریں۔ تمام مسائل سب کے ہیں، پارلیمنٹ کا مسئلہ ، محنت کشوں کا مسئلہ ، استحصال کا مسئلہ ، تمام قومیتوں کے مسائل ہیں۔

سوال: بلوچ قومی تحریک کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی قومی تحریک کی بھی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب، آپ نے بڑا اہم نقطہ اٹھایا۔ یہ بتائیں کہ جب آپ نے ذکر کیا کہ 1920 میں جب یہاں پر تنظیم سازی ہو رہی تھی، بلوچ تنظیم کاری ہو رہی تھی، انجمن نوجوانان بلوچستان اور اس طرح کی تحریکوں کا ذکر ملتا ہے کہ بلوچ اور پختون دونوں اکٹھے تھے، ایک ساتھ تھے۔ اور جو ابھی بلوچستان کی قومی تحریک ہے، اس میں بلوچ اور پختون کے درمیان کتنی ریگا نگت ہے یا وہ اب تقسیم ہیں؟

جواب: تقسیم کافی آگئی ہے سوچوں میں۔ اب نوجوان نسل جو ہے ، پختونوں میں بھی پشتون تحفظ موومنٹ ہے، یہ ہماری طرح نہیں سوچتے۔ درمیان میں جنریشن گیپ آیا۔ میر غوث بخش بزنجو کے بعد ان کو کوئی ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی اور اس بنیادوں پر جو یہ نوجوان اٹھے ہیں، یہ بھی تو انہی تعلیمی اداروں سے ادھر ادھر سے پکڑ کر لے جاتے تھے، گرفتار کرتے تھے۔ پھر استحصال کے لیے یہی لوگ تو پارلیمنٹ الیکشن بھی لڑ رہے تھے ، ان کو کنارے کیا گیا۔ پھر لوگوں نے اپناراستہ بچنا، تو یہ کافی فاصلہ پیدا ہوا۔

سوال: ڈاکٹر صاحب، بڑا مزہ آرہا ہے۔ ہم چاہ رہے ہیں، وقت کی قلت ہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ اگر آپ بلوچستان کے حوالے سے کوئی پر امید بات کریں؟

جواب: میں تو کہتا ہوں کہ بلوچستان کے حوالے سے نہیں بلکہ پاکستان اور اس خطے کے حوالے سے۔ جو جنگ عظیم دوم کے بعد فاتح ممالک نے آکر از سر نو دنیا کی تقسیم کی، ابھی جو میں دیکھ رہا ہوں، سوچ رہا ہوں، ہو چکی ہے۔ جو امریکہ ، ہندوستان، عرب یا اسرائیل کی صف بندی ہو رہی ہے، چین، روس یادوسرے ایک صف میں، پاکستان کا تو دوغلا پالیسی ہے اور بلوچ کے بقا کا سوال ہے اور ان کے لیے اشتراک ضروری ہے۔ لیکن جو پہاڑوں میں جد و جہد کر رہے ہیں، ان کا اپنا نقطہ نظر ہے ، دوسروں کو نہیں مانتے۔ دوسری سیاسی تنظیمیں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ جو جمہوری تنظیمیں ہیں، نقاط کی بنیادوں پر کم از کم ایک ہو جائیں۔ لیکن ابھی تک تو یہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ تو یہ مسائل ہیں، تو اس کے منفی نتائج ہیں۔ پاکستان پر بھی پڑیں گے اور بلوچوں پر بھی پڑیں گے۔ میں تو یہی دیکھ رہا ہوں کہ اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ چھ سال بعد ، سات سال بعد اس کے نتائج سامنے آجائیں گے ۔ مجھے تو یہ bloody borders دکھائی دے رہے ہیں۔ ان تمام خطوں، ایران اور افغانستان میں، اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ تمام قوتیں چند نکات پر متحد ہو جائیں اپنے مستقبل کے لیے۔

عامر رانا: چلیں ڈاکٹر صاحب ، بہت شکریہ۔ بڑا مزہ آیا آپ سے گفتگو کرنے کا اور سمجھنے کا موقع ملا اور بلوچستان کے مسائل اور اس کے دکھ کو۔ آئندہ بھی جب ہم کو ئٹہ آئیں تو ہم چاہیں گے کہ اس بحث کو ادھر چھوڑیں نہیں بلکہ آگے بڑھائیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version