یه کتاب فلسطینی تاریخ کا ایک جامع اور مستند جائزہ پیش کرتی ہے، جو فلسطینی نقطۂ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ معروف محقق رشید خالدی کے کام سے اخذ کرده یه کهانی تاریخی دستاویزات بنیادی ذرائع اور ذاتی بیانات کو یکجا کرکے 1917 سے لے کر آج تک کے فلسطین کی ایک مؤثر اور حقیقت پر مبنی روداد مرتب کرتی ہے۔ رشید خالدی ایک فلسطینی – امریکی مؤرخ ہیں، جو کولمبیا یونیورسٹی میں ایڈورڈ سعید پروفیسر آف ماڈرن عرب اسٹڈیز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور جرنل آف فلسطین اسٹڈیز کے مدیر بھی ہیں۔ ان کی دیگر مشہور تصانیف میں فلسطینی شناخت ” (Palestinian Identity)، بروکرز آف ڈسیٹ ” ” (Brokers of Deceit) ، اور “ دی آئرن کیج” (The Iron)۔ (مدیر)
فلسطین پر نو آبادیاتی قبضے کا آغاز
یکم مارچ 1899: یوسف دیا الخالدی، جو اس وقت یروشلم کے میئر تھے، تھیوڈور ہرزل کو ایک خط بھیجتے ہیں۔ تھیوڈور ہرزل ویانا کے ایک صحافی اور بڑھتی ہوئی صیہونی تحریک کے رہنما تھے۔
یہ خط صرف سات صفحات پر مشتمل تھا ، مگر اس کے اثرات بہت دور رس ثابت ہوئے ۔
اپنے خط میں، یوسف دیا الخالدی ہرزل کے لیے اپنی عزت کا اظہار کرتے ہیں اور یورپ میں بڑھتی ہوئی سام دشمنی (Anti-Semitism) پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ یہودیوں اور مسلمانوں کو چچا زاد بھائی ” قرار دیتے ہیں۔
تا ہم ، وہ ہرزل کو خبر دار بھی کرتے ہیں کہ مشرق وسطی میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا خواب خطے کے مقامی لوگوں کو محکوم کر دے گا۔
اپنے خط کے آخر میں ، وہ التجا کرتے ہیں :
” خدا کے نام پر فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا جائے ۔“
ہرزل نے ایک مہینے کے اندر جواب دیا۔ مگر اس جواب میں یوسف دیا الخالدی کی تشویش کو مسترد کر دیا گیا۔ ہر زل نے موقف اختیار کیا کہ یورپ سے یہودیوں کی آمد پورے خطے کی ترقی میں معاون ہوگی ۔
یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے :
فلسطین کی نو آبادیاتی تسخیر برطانوی حکمرانی کے تحت تیز تر ہو گئی۔
برطانوی استعمار اور صیہونی تحریک
فلسطین 400 سال تک سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط رہا۔
یہاں کی آبادی کا 94 فیصد حصہ عرب مسلمانوں پر مشتمل تھا، جب کہ ایک قلیل تعداد میں یہودی اور عیسائی بھی آباد تھے۔
یہ خطہ زیادہ تر زرعی تھا، مگر جدیدیت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ریلویز ، بجلی اور تعلیمی مواقع میں بہتری آ رہی تھی۔
لیکن 1917 میں ، یہ سب کچھ بدل گا گیا۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد ، سلطنت عثمانیہ کا زوال ہوا، اور برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کرلیا۔
نومبر 1917 میں، برطانوی حکومت نے بدنام زمانہ اعلان بالفور جاری کیا،
جس میں فلسطین میں ایک یہودی قومی وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وو
اس اعلامیے میں فلسطین کے غیر یہودی باشندوں کے شہری اور مذہبی حقوق کے تحفظ کا وعدہ تو کیا گیا ، مگر ان کے سیاسی حقوق یا قومی خود مختاری کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
اور یوں صیہونی تحریک کو دنیا کی سب سے بڑی نو آبادیاتی سلطنت کی سر پرستی حاصل ہو گئی ۔
فلسطینیوں کے لیے یہ ایک خطرناک پیش رفت تھی ۔
جس طرح شام ، لبنان اور عراق میں عرب قوم پرستی پروان چڑھ رہی تھی ، اسی طرح فلسطینی بھی یورپی استعماری تسلط سے نجات چاہتے تھے۔
1919 سے 1928 کے درمیان فلسطینیوں نے کئی کا نفرنسیں منعقد کیں اور برطانوی حکام سے آزادی کی درخواست کی ۔
مگر ان کی تمام اپیلیں نظر انداز کر دی گئیں ۔
نکہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی
1947 میں اقوام متحدہ نے قرارداد 181 جاری کی ، جس میں فلسطین کو دور ریاستوں میں تقسیم کرنے
کی تجویز دی گئی :
ایک یہودی ریاست، جسے 56 فیصد زمین اور ایک عرب ریاست جسے 44 فیصد زمین دی گئی ہے۔
یہ تقسیم عملی طور پر نا کام ہوگئی
1948 کی بہار میں صیہونی مسلح گروہوں نے پلان ڈالیت” کے تحت فلسطینی بستیوں پر منظم حملے شروع کر دیے۔
یا فا، حیفہ اور کئی دوسرے شہروں میں ہزاروں فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کر دیا گیا۔
اس تباہی کو “النکبہ ” ( یعنی تباہی ) کہا جاتا ہے۔
700,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کر کے پناہ گزین بنا دیا گیا، اور اسرائیل نے 80
فیصد فلسطینی علاقے پر قبضہ کر لیا۔
1967ء کی جنگ: اسرائیلی بالا دستی کا آغاز
کر لیا۔ جون 1967 میں، اسرائیل نے چھ روزہ جنگ میں مغربی کنارے ، غزہ، اور مشرقی یروشلم پر قبضہ
اقوام متحدہ نے قرارداد 242 جاری کی ، جس نے اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا اختیار دے دیا، مگر کوئی واضح پابندی نہیں لگائی ۔
یہ قرارداد فلسطینیوں کے وجود کو نظر انداز کرتی تھی ۔
نتیجه:
اسرائیل کی جغرافیائی توسیع کو بین الاقوامی تحفظ حاصل ہو گیا۔
فلسطینی مزاحمت مزید مضبوط ہوگئی ۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) عالمی سطح پر نمایاں ہوئی ۔
حماس کا عروج اور فلسطین کا غیر یقینی مستقبل
2006 میں ، حماس نے فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر مکمل ناکہ بندی لگا دی ۔
2014 میں ، اسرائیل نے 51 دن تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کی ، جس میں ہزاروں فلسطینی مارے گئے ۔
مستقبل کیا ہوگا ؟
تاریخ بتاتی ہے کہ نو آبادیاتی قبضے تین طریقوں سے ختم ہوتے ہیں :
.1 مکمل نسل کشی یا غلامی ( جیسا کہ امریکہ میں ہوا )
.2 قبضہ ختم کر کے مکمل آزادی دینا ( جیسا کہ الجزائر میں ہوا )
.3 حقوق اور برابری کی بنیاد پر استعماری طاقت کے ساتھ سمجھوتہ (جیسا کہ جنوبی
افریقہ میں ہوا)
فلسطین کے لیے ان میں سے کون سا راستہ ممکن ہے؟
یہ سوال ابھی تک غیر یقینی ہے۔
لیکن ایک بات واضح ہے :
فلسطینی اپنی شناخت اور آزادی کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔
کسی بھی منصفانہ حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام لوگوں کو مساوی حقوق دیے جائیں ، ا اور خود ارادیت کا حق تسلیم کیا جائے ۔

