Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»الطاف حسین کی تقریر: ایم کیوایم پھرمشکل میں
    کالم

    الطاف حسین کی تقریر: ایم کیوایم پھرمشکل میں

    ضیاء الرحمٰنBy ضیاء الرحمٰناگست 23, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سیاسی ماہرین 22 اگست کوہونے والے واقعے کو بارہ مئی 2007 کے واقعے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پہلے ہی مشکلات کاشکار ایم کیوایم یہ ثابت کردیاکہ وہ اب بھی ایک عسکریت پسند تنظیم ہے۔

    سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی اورحیدرآباد کی ایک مؤثرپارلیمانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ستمبر2013  سے شہر میں رینجرزکی سرپرستی میں شروع ہونے والے ٹارگٹڈآپریشن کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کاسامنا کررہی تھی اورشہرکے معاملات پرگرفت کمزور ہوتی جارہی تھی۔ ایسی صورت حال میں پیر کو پارٹی قائد الطاف حسین کی جانب سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ بھوک ہڑتالی کیمپ سے برطانیہ سے ٹیلیفون پر پاکستان مخالف تقریر اور اس کے بعد ایم کیوایم کارکنوں کا میڈیا اداروں اوراہلکاروں پرحملوں سے، بلاشبہ ایم کیوایم کے مسائل میں مزیداضافہ ہواہے۔ جبکہ ایم کیوایم کی سیاست پرگہری نظررکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ الطاف حسین کی یہ تقریر ایم کیو ایم کارکنان کے خلاف ریاستی ادارے کی کارروائیوں کے لیے ایک مضبوط جواز بننے کے ساتھ ساتھ پارٹی میں بھی بغاوت کاسبب بن رہی ہے۔ البتہ ایم کیوایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹرفاروق ستار نے سیاسی اورمبہم انداز میں پریس کانفرنس کرکے یہ باورکراکربگڑتی ہوئی صورت حال پرقابوپانے کی کوشش کی کہ ایم کیوایم پاکستان میں رجسٹرڈایک سیاسی جماعت ہے اوراس کے معاملات بھی آئندہ پاکستان سے ہی چلائے جائیں گے۔

    گزشتہ پانچ دنوں سے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے پارٹی کارکنوں کی گمشدگیوں اورماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی بھوک ہڑتال کیمپ لگایاگیاتھا جہاں پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے مرکزی قائدین سمیت سول سوسائٹی اوردیگرجماعتوں کے رہنماں نے اظہاریکجہتی کے لئے دورہ کیا جس سے گزشتہ کافی عرصے سے سیاسی تنہائی کاشکارایم کیوایم کومثبت ردعمل ملا مگر 22 اگست کی شام کوکراچی پریس کلب اورگورنرہاس کے قریبی علاقوں میں اچانک پرتشدد واقعات اورجلائوگھیرائو اورنجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر پرحملے کے کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پرالطاف حسین کی تقریرکے حصے شیئرہونا شروع ہوئے جن میں دیکھا گیا کہ پریس کلب کے باہر احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ایم کیو ایم کارکنوں سے بذریعہ ٹیلی فون خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے نہ صرف پاکستان مخالف نعرے لگائے بلکہ ملک کو پوری دنیا کے لیے ایک ”ناسور” بھی قرار دیا۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری دنیا کے لیے دہشت گردی کا مرکز ہے اور اس پاکستان کا خاتمہ عین عبادت ہے، کون کہتا ہے پاکستان زندہ باد، پاکستان مردہ باد۔ بعد ازاں اپنے کارکنوں سے بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کرنے کے بعد ان کے اگلے ”اقدام”کے بارے میں پوچھا، جن سے پر تشدد واقعات کی جانب اشارہ مل رہا تھا۔ الطاف حسین نے پوچھا، ”تو کیا تم لوگ یہاں سے اے آر وائی اور سما کے دفاترجارہے ہو؟ ”جس پر حاضرین نے یک زبان ہوکر باآواز بلند اثبات میں جواب دیا۔ متحدہ قائد نے مزید کہا، ”تو آج تم لوگ سما اور اے آروائی جارہے ہو اور پھر کل اپنے آپ کو رینجرز ہیڈکوارٹرز جانے کے لیے تیار کرو، کل ہم سندھ سیکریٹریٹ کی عمارت کو تالا لگوا دیں گے” ان کی تقریرکے بعد ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک اورپندرہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

    سیاسی ماہرین 22 اگست کوہونے والے واقعے کو بارہ مئی 2007 کے واقعے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پہلے ہی مشکلات کاشکار ایم کیوایم نے اے آروائی کے دفترپرحملہ کرکے یہ ثابت کردیاکہ ایم کیوایم اب بھی ایک عسکریت پسند تنظیم ہے اورکراچی آپریشن سے بوکھلاہٹ کاشکار ایم کیوایم کی لندن میں بیٹھی قیادت اپنے کارکنوں کے ذریعے تشدد کرواکر ریاستی اداروں کوایم کیوایم کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک اورمضبوط جوازفراہم کرچکی ہے۔ یہ بھی دیکھاگیاکہ ایم کیوایم کے متعدد مرکزی رہنمابشمول ڈاکٹرفاروق ستار اورڈاکٹرعامرلیاقت حسین کورینجرزکی جانب سے گرفتارکیاگیا اورعزیزآباد کے علاقے میں واقع پارٹی دفترنائن زیرو کوبھی سیل کیاگیا۔

    اگلے دن صبح سے یہ افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں کہ ڈاکٹرفاروق ستار سمیت پارٹی کے متعدد رہنما ایم کیوایم چھوڑ رہے ہیں یا ملک چھوڑ کرجارہے ہیں مگرمقامی موٹل میں پارٹی کے قومی وصوبائی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ ایک اجلاس کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں ایم کیوایم کے احتجاجی کیمپ میں لگنے والے پاکستان مخالف نعروں سے لاتعلقی کااظہارکرتے ہوئے مذمت کی۔ سیاسی معاملات کے ماہرایم کیوایم کے مرکزی رہنما نے مبہم انداز میں الطاف حسین پربراہ راست تنقید نہ کرتے ہوئے لندن قیادت سے لاتعلقی کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اورپاکستان کی قیادت ہی پارٹی امورچلائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم خودایم کیوایم میں ہیں تو پارٹی سے لاتعلقی کیسے کریں۔ جب تک ایم کیوایم کے مسائل حل نہ ہونگے، پارٹی کی پاکستان قیادت ہی پارٹی چلائے گی۔ کارکن ایسا عمل کریں یا پارٹی قائد کسی بھی کیفیت میں ایسا عمل کریں، ایم کیوایم یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔

    ایم کیوایم کے اندرونی ذرائع اورمبصرین کاکہناہے کہ الطاف حسین اورلندن قیادت کے مشورے ہی سے یہ پریس کانفرنس کی گئی جس کے تحت کچھ عرصے تک ایم کیوایم کی پاکستان کی رابطہ کمیٹی پاکستان کے معاملات سنبھالے گی اورحالات موافق ہوتے ہی لندن قیادت دوبارہ فعال ہوجائے گی۔ البتہ اب یہ دیکھناہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اس پریس کانفرنس کوکیسادیکھ رہے ہیں ۔

    رینجرزکی کارروائیوں کے بعد کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے منگل کو رینجرز ہیڈ کوارٹرسندھ کا دورہ کیا اور اس موقع پرڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز بلال اکبرسے ملاقات کی۔رینجرزترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نوید مختارنے ڈی جی رینجرز کو کراچی آپریشن کے دائرے کار مزید وسیع کرنے کی ہدایت جاری کیں جبکہ ڈی جی رینجرز نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقع کی تمام تر تفصیلات سے کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ر کو آگاہ کیا۔

    خیا ل رہے کہ ایم کیوایم ستمبر2013  سے مشکلات کاسامنا کررہی ہے جس میں لندن میں پارٹی رہنما ڈاکٹرعمران فاروق قتل اورمنی لانڈرنگ کے مقدمات کے معاملات، کراچی میں ستمبر 2013  میں رینجرزکی سرپرستی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن میں پارٹی رہنمائوں و کارکنوں کی گرفتاریاں اورمقدمات اور نتیجے میں شہرکو منٹوں میں بند کرنے کی قوت سے محرومی، حکومت کی جانب سے پارٹی سربراہ الطاف حسین کی تقریر اورتصویرپرذرائع وابلاغ میں پاپندی اورکراچی اورحیدرآباد میں دسمبرمیں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں شہروں سے میئرشپ کے انتخابات کا نہ ہونا شامل ہیں۔ مگرحال ہی میں ایم کیوایم کے ناراض رہنما مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی شہرمیں واپسی، پارٹی سے بغاوت اورنئی جماعت کے اعلان کے بعد پارٹی کو ایک نئے مگراندرونی بحران کا حمایت کا اعلان کیا ہےسامنا کرناپڑرہاہے جہاں اب تک متعدداراکین سندھ اسمبلی اوررابطہ کمیٹی کے سابق اراکین نے پارٹی سے علیحدگی اختیارکرکے نئے دھڑے کی  حمایت کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔

    (جب یہ سطریں لکھی جارہی تھیں ،ڈاکٹر عامر لیاقت ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کررہے تھے۔)

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاُردو ناول اور غزل :چند خیالات(دوسرا حصہ)
    Next Article دہشت گردی کے مقابلے کے لئے کاروباری طبقے کا کردار
    ضیاء الرحمٰن

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by