سیالکوٹ میں چھوٹے بڑے دس ہزار سے زائد کے آلاتِ جراحی تیار کئے جاتے ہیں ۔تقریباً 99 فیصد مال سیالکوٹ شہر میں ہی بنتا ہے ۔اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 3000سے زائد ہے.
پاکستان آلات ِ جراحی کا سرکردہ بر آمد کنندگان میں سے ہے لیکن پھر بھی مقامی مینوفیکچرز کے حصے میں اس کی عالمی تجارت جو کہ17 ارب ڈالر کی ہے اس کا صرف دو فیصد یعنی 359ملین ڈالر ہی آتا ہے کیونکہ اصل پیسہ آڑھتی لے جاتا ہے ۔اب اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کے ذمہ دار اس صنعت سے وابستہ وہ لوگ ہیں جو عالمی سطح کی کوئی برانڈ بنا ہی نہیں سکتے ۔بنیادی طور پر مقامی تیار کنندگان امریکہ اور مغربی یورپ کی برانڈز کے لئے مال بناتے ہیں جو اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان کی برانڈز سیالکوٹ کے ہنر مند ہاتھوں کے ذریعے تیار ہو ۔کچھ عالمی برانڈز نے صرف اس لئے اپنے ممالک میں مال کی تیاری بند کر دی ہے کہ انہیں عالمی معیار کی اشیاء پاکستان کے ہنر مندوں سے تیار مل جاتی ہیں ۔عالمی سطح پر آزاد تجارت کی تحریک کا مقصد ترقی پزیر ممالک کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ اپنی اشیاء جیسا کہ کافی ، چینی ،پھلوں کے جوس وغیرہ کی بہتر قیمتیں وصول کر سکیں ۔یہی اصول آلات ِ جراحی کے لئے کیوں نہیں لاگو ہوتا ؟سیالکوٹ میں چھوٹے بڑے دس ہزار سے زائد کے آلاتِ جراحی تیار کئے جاتے ہیں ۔تقریباً 99 فیصد مال سیالکوٹ شہر میں ہی بنتا ہے ۔اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 3000سے زائد ہے اور ہر ایک میں 450-15لوگ کام کرتے ہیں ۔ایسے یونٹ جن میں 30 لوگ کام کر رہے ہوں انہیں بڑا یونٹ قرار دیا جاتاہے اور جس میں 150 لوگ کام کر رہے ہوں اسے درمیانی درجے کا صنعتی ادارہ کہا جاتا ہے ۔یہ صنعت سالانہ 170 ملین اوزار تیار کرتی ہے ۔جن میں سے 95 فیصد سے زائد کو بر آمد کر دیا جاتا ہے جن میں سے 60 فیصد ڈسپوزیبل اور 40 فیصد کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔اس صنعت سے کئی دیگر صنعتیں بھی منسلک ہیں جن میں لوہے ، کیمیکل اور مشینی پرزہ جات کی صنعتیں ہیں ۔
بڑے خرید کنندگان میں امریکہ ، جرمنی ، برطانیہ ، فرانس، اٹلی ، متحدہ عرب امارات، جاپان، میکسیکو، برازیل اور روس شامل ہیں ۔امریکہ ڈسپوزیبل آلات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جبکہ دوبارہ قابل استعمال آلات کی سب سے بڑی مارکیٹ متحدہ عرب امارات ہے ۔آلات جراحی بنانے والوں کی تنظیم کے سابق صدر جہانگیر باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان دوسرے بر آمد کنندگان ممالک کے لئے منڈی بن گیا ہے یہ ممالک پاکستان سے مال بنواتے ہیں اور پھر اپنی مہر لگا کر دوسرے ممالک کو بیچ دیتے ہیں ،حتیٰ کہ ہم اسلامی ممالک میں مشکل کاغذی کارروائیوں کی وجہ سے وہاں بھی اپنا مال بر آمد نہیں کر سکتے ۔وہاں بھی ہماری تیار کی ہوئی اشیاء امریکہ اور جرمنی کے نام سے فروخت ہوتی ہیں ۔وزارت تجارت بھی اس نا منصفانہ عمل پر خاموش ہے ۔ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم ان آڑھتیوں کو بہت کم قیمتوں پر اپنی اشیاء فروخت کریں ۔
اپنی برانڈز متعارف کروا نے کے لئے ہماری وزارت اس صنعت کی کوئی راہنمائی نہیں کر سکی۔گزشتہ کی تجارتی پالیسی میں حکومت نے اس مقصد کئے فنڈز مختص کئے تھے تاکہ پاکستان اپنی مصنوعات کی تیاری کے ساتھ اپنی برانڈز بھی متعارف کرو اسکے ،باجوہ کا دعویٰ ہے کہ سیالکوٹ دنیا کی 90 فیصد ضروریات کو پورا کر سکتا ہے ۔انھوں نے کہاکہ حکومت جن ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتی ہے ان سے بھی اس کے لئے کوئی مدد نہیں لیتی ۔کچھ صنعتکار کہتے ہیں کہ جرمنی نے اپنے صنعتی یونٹ بند کر دیئے ہیں تاکہ وہ اپنا مال سیالکوٹ سے تیار کرو ا سکے ۔
کچھ نئے آڑھتی بھی درمیان میں آگئے ہیں ۔پاکستان کی بھارت اور چین کو آلاتے جراحی کی بر آمد بھی زوروں پر ہے ۔ Sustainable Development Policy Institute کے مطابق پاکستان کی آلات جراحی کی بر آمد جوکہ 2014ء میں 9.6فیصد کے حساب سے بڑھی وہ گزشتہ سال 7.6فیصد پر آگئی ۔یہ مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ آلات جراحی کی بر آمد میں اضافے کے امکانات کافی ہیں اگر پاکستان براہ ِ راست بر آمد کرے ۔سیالکوٹ سے آلات جراحی خرید کر جرمنی اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں یہ اشیاء بھارت کو بیچتی ہیں ۔امریکہ بھارت کو یہ اشیاء بر آمد کرنے میں سر ِ فہرست ہے ۔جرمنی ، چین اور جاپان کا نمبر اس کے بعد آتا ہے ۔ جتنی قیمت میں یہ اشیاء پاکستان سے خریدی جاتی ہیں اس سےکہیں زیادہ قیمت پر بھارت کو فروخت کر دی جاتی ہیں ۔
آلات جراحی کا سامان تیار کرنے والوں کو کئی ایک مسائل کا سامنا ہے ۔جس میں مارکیٹنگ سے لے کر جدید ٹیکنالوجی تک سبھی مسائل شامل ہیں ۔مارکیٹنگ نہ ہو سکنے کی وجہ سے مقامی برانڈز متعارف نہیں کروائی جا سکیں ۔ جبکہ بجلی کا بار بار تعطل ایک اور بڑا مسئلہ ہے ۔ نہ ہی حکومت اور نہ ہی صنعتکار اس جانب کوئی فنڈز مختص کرنے کو تیار ہیں کہ وہ میڈیکل سائنس کے بدلتے تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات تیار کر سکیں ۔ یہاں نہ ہی کوئی تربیتی مرکز ہے جو لوگوں کو جدید کچھ سکھا سکے ۔95 فیصد سامان تیار کرنے والے یونٹ چھوٹے ہیں ۔ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے کہ بڑے یونٹوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے یو نٹوں کو بھی سہولیات مل سکیں ۔
سیالکوٹ ابھی تک آلات جراحی کا بڑا مرکز ہے مگر اسے چین اور میکسیکو کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے ۔ان ممالک میں نہ صرف سستی لیبر میسر ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی بھی ہے جس سے اشیاء کو معیار بھی بڑھ جاتا ہے ۔
مبارک زیب خان
