پہلی عالمگیر جنگ کے دوران میں یہودیوں نے ترکی اور جرمنی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پھر جدوجہد کی اور ترکوں کے سامنے دوبارہ مالی اعانت کی پیشکش کی اور عرب قوم پرستی کا بھی ذکر کیا ۔

پیغمبروں  کی سرزمین پر یہودی کیونکر قابض ہوئے؟ کیا یہ قبضہ جائز ہے؟ قبضہ کے وقت فلسطین پر کس کا کنٹرول تھا؟ کیا فلسطین خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا؟ فلسطین کو برطانوی تفویض میں دینے والا کون تھا؟ کیا عربوں اور مسلمانوں کو یہودی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں  جن کا پچھلے دنوں محترم غامدی صاحب  نے جائزہ لیا اور مخصوص انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا جس کے بعد سے اس موضوع پر ہمارے علمی  و سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر  بھی بحث شروع ہو گئی ہے، ہم پہلے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں گے اس کے بعد  غامدی صاحب کی معروضات پر نظر ڈالیں گے کہ وہ کس حد تک ان تاریخی حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں۔

سرزمین  فلسطین پر سب سے آخر میں حکومت کرنے والے مسلمان تھے جنہوں نے تقریبا1100 سال حکومت کی ۔گزشتہ کئی صدیوں سے مسلمان، مسیحی  اور یہودی مکمل طورپر ایک دوسرے کے ساتھ پر امن طریقہ سے زندگی بسر کرتے  آرہےتھے۔انیسویں صدی کے اواخر میں صہیونیوں کا ایک خطرناک منصوبہ سامنے آیا اور پہلی دفعہ مسئلہ فلسطین نے اہم رخ اختیار کیا۔

اس وقت  فلسطین کی کل آبادی تقریبا  چار لاکھ ساٹھ ہزارتھی جن میں  یہودیوں کی تعداد بمشکل تین فیصد تھی ،یورپیوں نے اپنے  ہاتھوں میں مستحکم سلطنت آنے کے بعدیہودیوں پر  بہت ظلم و ستم ڈھایا تھا۔ اس لیے یہودیوں کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اب اپنے طور پر منظم ہوکر موجودہ سکونت کی جگہ سے ہجرت کرجائیں۔ مگر جائیں تو جائیں کہاں؟ یہ وہ  سوال تھا جس پر یہودی صحافی ” تھیوڈور ہرتزل” نے بحث و تحقیق کی   اور 1896ء میں "یہودی مملکت” کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں  پوری دنیا میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو ایک ملک کےقیام کا مشورہ دیا۔

ہرتزل ابتداء میں  یہودی ریاست کے قیام کے لیے کسی خاص مقام کے تعین کو اہمیت نہیں دیتا تھا اس لیےاس نےاس مقصد کیلئے، فلسطین، ارجنٹائن ، اور افریقہ کےدوسرے علاقوں کے نام پیش کیے۔ لیکن  جلد ہی  صیہونی ریاست کی حمایت میں کی جانے والی متعدد کانفرسز   میں فلسطین کے  ساتھ یہودیوں  کا  جذباتی و مذہبی تعلق  دیکھ کر فلسطین پر نظریں ڈالنے لگا۔ اس نے تمام قوموں کے یہودیوں کی نمائندگی کے لیے صیہونی کانگریس کی بنیاد رکھی اور الگ وطن کے قیام کے لیے بادشاہوں اور ارباب سیاست سے ربط پیدا کیا۔

سب سے پہلے وہ عثمانی خلیفہ  سلطان عبدالحمید کے پاس پہنچا اور فلسطین حوالہ کرنے کے بدلے میں  ترکی قرضوں کی ادائیگی اور سلطنت عثمانیہ کے مالی مسائل حل کرنے کے یے یہودی دولت کی پیشکش کی، جس کے جواب میں سلطان نے کہا:یہودی اپنی دولت اپنے  پاس ہی رکھیں،اگر میری  سلطنت  کے ٹکڑے  ہوئے تو شاید انہیں فلسطین بلامعاوضہ ہی مل جائے گا۔عثمانی خلیفہ سے مایوس ہو کر ہرتسل نے  جرمنی کا رخ کیا اور جرمن فرمانروا کو طرح طرح کی ترغیبیں دیتا رہا،جرمنی اس وقت  عالم اسلام سے دوستی بڑھانا چاہتا تھا اس لیے  اس نے ہرتسل کی  کچھ ہمت افزائی نہ کی۔

آخرکار  وہ برطانیہ کی طرف پلٹا اور نوآبادیات کے سیکٹری سے  یہ پیشکش حاصل کی کہ برطانوی مشرقی افریقہ کے علاقے کینیا  میں ان کی نوآبادی بنادی جائے گی  جو کہ ایک صحت افزا اور زرعی علاقہ تھا ،ہرتسل خوشی خوشی واپس لوٹا لیکن  صیہونی کانگریس فلسطین کے علاوہ کسی متبادل کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئی اور فلسطین کی طرف ہجرت  کا سلسلہ شروع کردیا۔

پہلے مرحلے میں 25 ہزار یہودی مہاجرین  نےیورپ اور  روس سے فلسطین کی طرف  اپنی ہجرت کا آغاز کیا ، اور فلسطین کے یہودیوں کے تعداد پانچ فیصد ہو گئی۔ اورہم ابھی دیکھیں گے کہ صیہونی فکر کےحاملین یہودیوں کی اس مسلسل ہجرت نے فلسطینیوںکو کس قدر  آلام و مصائب میں مبتلا کیا ۔ روز بروز یہودی مہاجرین اور وہاں کے فلسطینی باشندوں کے در میان رہن سہن،معاشی اور اراضی  کے مسائل  میں اضافہ ہورہا تھا، القدس کے سرکردہ افراد نے 1891ء   میں سلطنت عثمانی سے  یہ مطالبہ کیا کہ روسی یہودی مہاجرین کو فلسطین آنے سے منع کریں اور فلسطینیوں کے اراضی واگزار کروائیں، مگر  یہودی مہاجرین کے ہجرت میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی یہ سلسلہ رکا، اور 40 ہزرا یہودی  ہجرت کر کےفلسطین میں داخل ہوئے اس طرح یہودیوں کی فلسطین میں تعداد بڑھ کر آٹھ فیصد ہوگئی۔

پہلی عالمگیر جنگ کے دوران  میں یہودیوں نے ترکی اور جرمنی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پھر جدوجہد کی  اور ترکوں کے سامنے دوبارہ  مالی اعانت کی پیشکش کی اور عرب قوم پرستی کا بھی ذکر کیا کہ اگر  فلسطین کے اندر عرب خود مختاری کا مطالبہ کریں تو یہودی ترکوں کی مدد کریں گے،دوسری طرف جرمنی کے ساتھ گفت و شنید میں جرمن یہودی مفادات  اور ثقافت کی مماثلت پر زور دیا گیا مگر یہ کوششیں بھی ناکام ہوئیں جس کے بعد یہودیوں نے پھر برطانیہ کی طرف رخ کیا ۔

سلطنت عثمانیہ کی کمزوری اورجنگ عظیم اول کے خاتمہ کے بعد،  برطانیہ اور فرانس کے  در میان ” سایکس پیکو”   کے نام سے  ہونے والےمعاہدہ  کی بنا پر سرزمین شام کودونوں ملکوں نے آپس میں تقسیم کر لیا تھا۔16 مئی 1916 ء کو  خفیہ طور پر ہونے والے اس معاہدے کے مطابق فلسطین کے علاقہ کو انٹرنیشنل ایریا قرار دیا جا چکا تھا جس پر نہ فرانس کا اختیار تھا اور نہ برطانیہ کا۔لیکن اس کے باوجود 2 نومبر 1917ء کو  برطانیہ  کی طرف سے ایک معاہدہ "اعلان بالفور”  کے نام  سے  سامنے آیا جس نے یہودی ریاست کے لیے بنیاد فراہم کر دی،اس معاہدے میں  یہودیوں کی مدد،ان  کو فلسطین میں قومی وطن بنانے کے حمایت،یہودیوں کی ہجرت  کیلئے آسانیاں پیدا کرنےاورسر زمین فلسطین پر ان کے تسلط  کی حمایت  کا منصوبہ شامل تھا۔

اعلان بالفور کے الفاظ یہ ہیں:” ملک معظم (برطانیہ) کی حکومت  فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک  قومی وطن کےقیام کو حمایت کی نظر سے  دیکھتی ہے اور وہ اس مقصد کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اپنی بہترین جدوجہد صرف کرے گی،یہ واضح طور پر سمجھ لیا گیا ہے کہ  ایسی کوئی بات نہیں کی جائے گی جو فلسطین کی موجودہ غیر یہودی اقوام  کے شہری اور مذہبی حقوق کو نقصان پہنچا سکے یا ان حقوق اور سیاسی موقف کو جن سے یہودی  کسی اور ملک میں  بہرہ اندوز ہیں  نقصان پہنچائے”۔

اس  معاہدے کی عبارت سے  آپ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ  یہ کس قدر مبہم  معاہدہ ہے،خود برطانوی حکومت اور  ارباب سیاست نے بھی  اس کی مختلف تشریحیں کی تھیں، اس معاہدے میں جہاں یہودیوں کے لیے  کسی قطعی چیز کا وعدہ نہیں  کیا گیا تھا  وہیں فلسطین کے ایک  ثقافتی  وطن کے قیام سے لے کر اس ملک کو یہودی مملکت بنا ڈالنے تک کوئی بھی چیز اس سے مراد لی جا سکتی تھی،1917ء تک فلسطین میں مسلمانوں کی تعداد 92 فیصد تھی لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا ذکر "غیر یہودی اقوام” کی حیثیت سے کیا گیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ  برطانیہ خلافت سے کٹ جانے والے مسلمانوں کو پرِکاہ  جتنی بھی سیاسی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

اعلان بالفور  نے صیہونیوں کو وہی چیز دے دی تھی  جس کے لیے وہ سیاسی صیہونیت  کے باقاعدہ  شکل اختیار کرنے کے وقت  سے بڑی کوشش کر رہے تھے یعنی قانونی  ضمانت کے تحت  اعکانیہ طور پر تسلیم کیا ہوا وطن،اس معاہدے  کو امریکا کی حمایت بھی حاصل تھی،

اعلان بالفور  نے فلسطین کے لیے المیے کا دروازہ کھول دیا اور ہجرت کے نتیجہ میں فلسطین میں یہودیوں  کی تعداد  بڑھ کر 12  فیصد ہوگئی  لیکن اس سب کے باوجود ان کے زیرتسلط زمین صرف تین فیصد ہی تھی۔

(جاری ہے)

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version