انتداب یا تفویض کا تصور یہ ہے کہ مفتوحہ علاقوں کو نوآبادی بنا لینے والے پرانے طریقے کی بجائے مجلس اقوام کی طرف سے اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں دیئے جائیں تاکہ وہ ایک امانت کی حیثیت سے عارضی طور پر ان کا نظم و نسق چلائیں۔
سایکس پیکو معاہدے میں فلسطین کو انٹرنیشنل ایریا قرار دینے کے فیصلے پر برطانیہ کو پہلے ہی افسوس تھا،بعد میں جب اٹلی کے شہر سان ریمو میں جنگ عظیم اول کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ سے کٹ جانے والے علاقوں کے مستقبل کے بارے میں کانفرنس ہوئی تو برطانیہ نے سان ریمو معاہدے کی بنا پر فلسطین کو اپنے کنٹرول میں لے لیا جسے انتداب فلسطین بھی کہا جاتا ہے جس کا اطلاق برطانوی انتظامیہ کے تحت اردن و فلسطین کے جغرافیائی و سیاسی وجود پر ہوتاتھا جو کہ جنگ عظیم اول کے بعد سلطنت عثمانیہ سے جنوبی شام کو الگ کر کے بنایا گیا تھا۔ فلسطین میں برطانوی شہری انتظامیہ 1920 سے 1948ء تک موجود رہی۔
انتداب یا تفویض کا تصور یہ ہے کہ مفتوحہ علاقوں کو نوآبادی بنا لینے والے پرانے طریقے کی بجائے مجلس اقوام کی طرف سے اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں دیئے جائیں تاکہ وہ ایک امانت کی حیثیت سے عارضی طور پر ان کا نظم و نسق چلائیں۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ برطانیہ کی تفویضی حکومت 1920 میں قائم ہوئی لیکن اعلان بالفور اس سے 3 سال قبل ہی طے پاچکا تھا جس کا مطلب ہے کہ معاہدے کے وقت برطانیہ کا فلسطین پر عارضی کنٹرول بھی نہیں تھا،یہی وجہ ہے کہ عربوں نے کبھی بھی اعلان بالفور کو قبول نہیں کیا،برطانیہ نے ایسی بات کا وعدہ کر لیا تھا جس کا اسے کوئی حق نہیں تھا کیونکہ اس وقت فلسطین ترکی کا صوبہ تھااور یہ ایک لغو اور مہمل وعدہ تھا۔
برطانیہ کو فلسطین پر تفویضی حکومت ملی تھی لیکن اس نے مجلس اقوام کے دستور اور آئین تفویض کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہودیوں کو کھلی چھوٹ دی اور یہودی ہجرت کے لیے فلسطین کے دروازے کھول دیے،تفویضی حکومت نے تمام معاملات میں صیہونی مداخلت کے لیے راستہ کھول دیا،عبرانی زبان کو بھی سرکاری زبان بنا کر عربی کے مقابلے میں کھڑا کر دیا جو تقریبا پوری آبادی کی زبان تھی،حالانکہ اس وقت کے یہودی خود بھی عبرانی نہیں بولتے تھے۔
عبرانی زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت سے مسلط کرنے کا مفہوم یہ تھا کہ دفتری معاملات کو دوچند کر دیا جائے اور اس کے نتیجے میں دگنا عملہ رکھا جائے،یہودیوں کی تنخواہیں عربوں سے دگنی رکھی گئیں، جبکہ غریب کسانوں پر ٹیکس کا بار دوگنا کردیا گیا، ہمارے ہاں اس بات پر تو بہت واویلا کیا جاتا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنے ہاتھوں سے زمین فروخت کی تھی مگر کیا ان اسباب و عوامل پر بھی غور کیا جاتا ہے جن سے مجبور ہو کر وہ اس انتہائی اقدام پر مجبور ہوئے؟اپنے وطن اور آبائی گھر کو کوئی اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ سکتا ہے؟جوزمینیں بیچی گئیں ان کی بڑی مقدار کے مالک غیرحاضرباش مالکان اراضی تھے جنہوں نے بڑھتی ہوئی پیشکشوں کے آگے سر جھکا دیے تھے لیکن یہی واحد عنصر نہیں تھا جس کی وجہ سے زمینیں فروخت کرنے کی نوبت آئی بلکہ اس ترغیب میں اس لیے اور بھی دلآویزی پیدا ہو گئی تھی کہ فلسطین کو باقی شام سے علیحدہ کر کے بہت سی سیاسی اور معاشی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔
ان رونما ہونے والی تبدیلیوں کا فلسطینیوں پر گہرا اثر پڑا جس کی وجہ سے عربوں اور یہودیوں کے درمیان شدت آتی گئی، اور اس اعلان بالفور کے خلاف عربوں کی جانب سے 7کانفرنسیں کی گئیں اور پہلی مرتبہ فلسطینی تحریک کاآغاز ہوا۔ اس کے بعد یافا کے علاقہ میں بدامنی کے واقعات ہوئے، نابلس میں جو کانفرنسیں ہوئیں ان میں یہودی صہیونیوں سےاقتصادی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا، اور اسی طرح جدوجہد جاری رکھنے کیلئے حاجی امین حسینی کے سربراہی میں اسلامی مجلس شوری تشکیل دی گئی، ۔
دوسری طرف صہیونی یہودیوں کو اعلان بالفور کے بعد اب تفویضی حکومت کی سپورٹ بھی حاصل تھی انہوں نے 1920 میں”ہگانہ” عسکریت پسند تنظیم بنائی جوکہ ایک غیر قانونی خفیہ تنظیم تھی، مگر انگریز اس کی سرپرستی کرتا رہا اور اس کی کاروائیوں سے جان بوجھ کر چشم پوشی کرتا رہا، اس طرح تفویض کا زمانہ عربوں کے لیے کشیدگی،خوف اور بدامنی کا دور تھا جس میں وقفے وقفے سے اسی طرح ہنگامے جاری رہتے تھے،ہر ہنگامے کے بعد ایک شاہی تحقیقاتی کمیشن فلسطین بھیج دیا جاتا تھا،ان کمیشنوں کا سلسلہ 1920 میں شروع ہوا اور 1936 میں پیل کمیشن پر ختم ہوا۔
یہودیوں نے بڑی تعداد میں پولینڈ، روس ،جرمنی اور دیگر ممالک سے اپنی ہجرت کا سلسلہ جاری رکھااور یہودیوں کی تعداد فلسطین میں 17 فیصد ہوگئی، جس کی وجہ سے دیوار براق کے گرد ونواح میں خون آشام لڑائی چھڑگئی اور مظاہروں میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور 1933 میں القدس میں بہت بڑا مظاہرہ ہوا، اس کے دوسال بعد شیخ عزام الدین قسام اپنے ساتھوں سمیت برطانوی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے، اس کے بعد یہودی مہاجرین کاایک اور جم غفیر جن کی تعداد تقریبا اڑھائی لاکھ تھی فلسطین میں داخل ہوا اور یہودیوں کی تعداد فلسطین میں 30 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ سب لوگ برطانیہ کی سرپرستی میں فلسطین میں داخل ہوئے۔
1936-1939 کے زمانہ میں عربوں کو تفویضی حکومت سے انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہ رہی جس کی وجہ سے مسلح ہنگامہ پھوٹ پڑا کاور اس عرصہ کے دوران پورے فلسطین میں ایک بھر پور بڑی انقلابی تحریک نے انگریزوں اور یہودیوں گروہوں پر اپنا دباؤ بڑھایا ،یہ انقلابی تحریک سابقہ تمام تحریکوں سے بڑھ کر تھی۔ اس تحریک کے دوران لوگوں نے 6 مہینہ تک ہڑتال کی، انگریز حکومت نے اس تحریک کے دوران” پیل(peel) کمیٹی” تشکیل دی جس نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی، ایک یہودی اور دوسرا عربی ، جبکہ القدس بدستور برطانوی تفویض میں رہے اورہزاروں عربوں کو اس علاقہ جہاں یہویوں کی آبادی ہے سے نقل مکانی کر کے عرب آبادی والے علاقہ میں جاکر آباد ہونے کا حکم دیا۔ اس وقت تک یہودیوں کے اختیار میں فلسطین کی 5،5 فیصد اراضی سے زیادہ نہ تھی، مگر "پیل کمیٹی” کی تجویز کے مطابق 33 فیصد فلسطین کا حصہ یہودیوں کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ فلسطینیوں نے کمیٹی کی اس تجویز کومسترد کردیا اور اس طرح اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
برطانیہ نے فلسطینی انقلابی تحریک سے متاثر ہوکر ایک بیان ” قرطاس ابیض(وائٹ پیپر)” کے نام سے شائع کیا، اس میں یہودیوں کی ہجرت کو 5 سال تک ممنوع قرار دیا گیا اور فلسطینیوں سے آئندہ 10 سال میں فلسطین کی آزادی کا وعدہ کیاگیا۔ لیکن یہودیوں نے اسے مسترد کر دیا، اورہگانہ، ارگون، اور اشتر جیسے ان کے مسلح چھوٹے گروپوں نے فلسطینیوں یہاں تک کہ انگریزوں پر بھی خون آشام حملے کیے تاکہ وہ فلسطین سے نکل جائیں اور یہودی اپنا آزاد وطن بنا سکیں ، ان کے مشہور معروف خون آشام حملہ میں "ملک داود ہوٹل”کو دھماکے سے اڑانا بھی شامل ہے جو کہ اس وقت برطانیہ کا مرکز تھا۔
فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان یہ جھڑپیں تین سال تک بڑی شدت سے جاری رہیں یہاں تک کہ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی،جنگ کا اعلان ہوتے ہی عربوں نے انقلابی تحریک روک دی۔
