عدم آگہی کی بنا پر کسی چیز کے بارے میں اپنے خیالات یا دیگر افسانوں کو حقیقت کے طور پر قبول کرنا توہم پرستی کہلاتا ہے ۔
یعنی توہمات وہ خیالات ہیں جو کوئی شخص بلا کسی تحقیق اور ثبوتوں کے قبول کرتا ہے اور پھر ان کو کسی ٹھوس حقیقت سے بھی زیادہ حقیقی جاننے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر غلط معلومات اور جعلی وعدے دیئے جائیں تو وہ فوراً یقین کرنے لگ کر اپنی بد اعتقادی، توہم پرستی، نافہمی اور غورو فکر کے فقدان کی وجہ سے حکومتی اور استحصالی قوتوں کی غلط خواہشات کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس کے تحفظ کی زمہ داری بھی خود ہی لے لیتے ہیں اور عوام کی یہی توہم پرستی حکمرانوں اور استحصالی قوتوں کے مفادات کو مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے۔
توہم پرستی کی بہت سی وجوہات میں سب سے بنیادی وجہ کسی چیز کے بارے میں علم اور تحقیق کا نہ ہونا ہے، کیونکہ ایسے لوگوں کے لیے کسی چیز کے بارے میں جو بیانیہ بناکر دیا جائے وہ اسے بلاتحقیق قبول کرکے آہستہ آہستہ اسے اپنے عقیدے کا حصہ بنانے لگتے ہیں اس لیے ان قوتوں کا کام علم و آگہی سے زیادہ توہمات و اور بدعقائد کے لیے راہ ہموار کرنا، ان کی تشہیر کرنا اور میڈیا میں کسی علمی یا تحقیقی واقعے سے زیادہ اہمیت فضولیات، جگت بازیوں اور جرائم کی خبروں کو دینا ہوتا ہے۔
توہم پرستی کا پرچار حکمرانوں اور استحصالی قوتوں کا وہ ہتھیار ہے جس کو وہ عوام یا دوسری اقوام کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس مقصد کے لیے وہ ان کے مذہبی پروہتوں کو استعمال کرکے مذہبی متون سے توہم پرستی کو ثابت کرواتے ہیں جس پر ثابت قدم رہنا ایمان اور عقیدے کی بنیاد قرار پاتے ہیں اور اس بارے میں تجسس اور سوال کرنے والے کو مطعون اور بدعقیدہ قرار دیا جاتا ہے۔
چونکہ اس پیشے سے مذہبی طبقات کا رزق وابستہ ہوتا ہے اس لیے وہ اس کا تحفظ دل و جان سے کرتے ہیں یہاں تک کہ لوگ اپنے مسائل اور پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے مجذوبوں کے پاس جاتے ہیں اور عقلمندوں کے بجائے مخبوط العقل لوگوں کو نجات دہندہ سمجھنے لگتے ہیں۔
عوام کی اس ذہنی پسماندگی کا ایک فائدہ تو مذہبی طبقہ اٹھاتا ہے اور پیری فقیری اور عملیات کے نام پر اپنا بھرپور دھندہ چلاتا ہے جبکہ اس جہالت اور توہم پرستی کے تار و پود اور تانے بانے عالمی قوتوں کی سازش سے بنے گئے ہوتے ہیں کیونکہ اس کے بالواسطہ اور دور رس فوائد انہی طبقات کو حاصل ہوتے ہیں اس لیے یہ طاقتور اور استحصالی قوتیں تیسری دنیا کے ممالک میں توہم پرستی کی مذمت کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس کی تشہیر میں تعاون کرتے ہیں تاکہ مخصوص اقوام اپنے مخصوص ذہنی رجحانات اور رویوں کے زیرِ اثر بے علم و عمل عقل و دانش اور علم و تحقیق سے عاری رہ کر معاشی ، اقتصادی اور سیاسی طور پر ان کے دستِ نگر بن کر رہ جائیں
چونکہ عوام کی توہم پرستی کا بالواسطہ فائدہ حکومتی اور استحصالی طبقات کو ہی پہنچتا ہے اس لیے انسانی ذہن کی اس قدر رسا ترقی کے باؤجود حکومتی سرپرستی میں توہم پرستی خاص کر تیسری دنیا کے استحصالی حکومتوں میں روزبروز پھل پھول رہی ہے۔
ہمارے ملک میں ایک سازش کے تحت توہم پرستی اور جہالت کی سرپرستی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کرتے آ رہے ہیں جبکہ عوام کو توہم پرستی میں مبتلہ رکھنے کا کام مذہبی طبقہ سرانجام دیتا ہے جس کے براہ راست فوائد بھی خود مذہبی طبقے کو ہی حاصل ہوتے ہیں۔
کوئی بھی صاحبِ فہم و دانش انسان آسانی سے یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ کس طرح ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اس ملک کے لوگوں کو ایک توہم پرست اور خیالی دنیا کا مخلوق بنایا گیا ، ان کے ذہنوں میں کس طرح دوسرے اقوام اور غیرمذاہب کے خلاف نفرتوں کا بارود بھرا گیا،
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس خطے کے مسلمان دیگر مذاہب کے بارے کس طرح انتہائی غلط فہمیوں اور اپنے مذہب کے بارے میں کیسی شدید نرگسیت کا شکار ہیں اور یہی ان کی نااہلی، تباہی، بربادی اور علمی سطح پر تنہا رہ جانے کی بنیادی وجہ بھی ہے۔
یہاں لوگوں کو بیکار اور بے علم و عمل بنانے کے لیے توہم پرستیوں کی کیسی کیسی کہانیاں گھڑی گئیں، لوگوں کو اپنے کام کرنے اور محنت کرنے کی تلقین کے بجائے ان کو کس طرح فرشتوں کی مدد کے انتظار میں بیٹھایا گیا، جنگوں اور نفرتوں کو کس کس انداز سے گلوریفائی کیا گیا۔ دنیا سے کافروں کا صفایا کرنے اور آگ اور خون کا کھیل کھیلنے کو کسطرح عقیدے کا حصہ بنایا گیا، اور یہ سب کچھ کرکے اس عوام نما مخلوق کو پوری دنیا میں کس طرح یک و تنہا کرکے نشانہ بنایا گیا، کیا یہ سب کچھ اتفاق تھا ، اپنی ہی غلطیاں تھیں یا کہ بہت ہی ہوشیاری سے ایک صدی پر محیط منصوبہ بندیوں کا خودکار نتیجہ جس کو انجام تک بھی ہم خود ہی اپنے ہاتھوں سے پہنچاکر دم لینگے۔
ہماری جھوٹی تاریخ کی پروردہ دوسری نسل جس کا اپنے اصل سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں رہا ہے غیروں کو اپنا جذباتی بھائی اور بعض کو اپنا دشمن قرار دے دے کر جوان ہوئی ہے ایک بے سمت منزل کا انجان راہی ہے، اس نسل کی اپنی کوئی صلاحیت نہیں ہے اس کو عقل و شعور سے دور رکھ کر گھروں محلوں مسجدوں مدرسوں سکولوں جامعوں اور جلسوں میں صرف اس کے جذبات سے کھیلا گیا ہے، اس کو حقیقت کی دنیا کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی ہے، اس کے انہی کچے جذبات کو بھڑکتا ہوا رکھنے کے لیے اس سے اپنے خلاف نعرے لگوایا گیا ہے اور خود ہی ان کے جذبات کی آگ پر تیل چھڑکایا گیا ہے کہ یہ اپنے آس پاس دشمن نا پاکر کہیں آرام سے بیٹھ کر زندگی کی آسائشوں، راحتوں، رنگینیوں اور انصاف کے حصول کے بارے میں سوچنا شروع کرکے شعور کی منزل نہ پا لیں۔ یہاں سوچنے والوں کو ٹارگٹ کیا گیا، یہاں اچھے استاد، اچھے وکیل، سچے صحافی، قابل سائنسدان، منصف جج، معتدل عالم دین، مخلص سیاستدان اور اچھے انسان کا زندہ رہنا ناممکن بنا دیا گیا۔
یہاں عقل کو اور عقل والوں کو مطعون کیا گیا، یہاں جہالت کے گن گائے گئے، یہاں دربار سجائے گئے، جوانوں اور بوڑھوں کو کرامات کے پیچھے لگا دیا گیا، سلوک کے منازل مقرر کئے گئے، علم و تحقیق اور ایجادات کی تحقیر روحانی علم قرار پایا۔ پیروں فقیروں کے درباروں اور عملیات اور تعویذات والوں کی حوصلہ افزائی زور و شور سے کی گئی، جامعات میں فزکس کے بجائے روحانیات کو سائنس بنانے پر توانائیاں لگائی گئیں، غزوہ ہند اور دنیا فتح کرنے کی خیالی بھول بھلیاں بیان کرنا علم قرار پایا اور یہ سب کچھ آہستہ آہستہ عقائد کا حصہ بنتے چلے گئے۔
یہ پوری ایک صدی قصہ ہے اس کے بیان کے لیے بیت زیادہ ورق درکا ہیں اس لیے یہی کہنے پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ:-
اس ایک صدی کے دوران ہم کو ایک ایسا روبوٹ بنایا گیاہے کہ بقول مبشر زیدی اگر ناگہاں ہم میں سے کوئی روبوٹ کسی ٹیکنکل خرابی کی وجہ سے غور فکر اور سوچنا شروع کرے تو اس روبوٹ کو خارج کر دیا جاتا ہے
یہی خوف بعض خراب روبوٹوں کو بھی سوچنے سے باز رکھا ہوا ہے۔
