ہمارے ایک بزرگ ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ ان کی عمر گزر گئی لیکن دو چیزیں وہ پہچان نہ پائے ایک باوں اور دوسرا چه وی۔ چه وی پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے کسی نے کہا یا کوئی کہہ رہا تھا۔ بقول ان کے کہ یہ چه یعنی "کون” آخرکار کون ہے؟ یہ بات اس وقت ہمیں سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن 2003 کی بات ہے جب رات کو کسی نے آواز دی کہ ایک شدید قسم کا زلزلہ آنے والا ہے اور ہم سارے کے سارے گھر سے باہر نکل آئے اور سخت سردی میں زلزلے کا انتظار کر نے لگے۔ اتنے میں ایک صاحب کہنے لگے کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ زلزلہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ تجربے کا نتیجہ ہوگا۔ بقول ان کے اسرئیل اور امریکہ ہوا میں ایٹم بم پھاڑنے والے ہیں جس سے ایک خطرناک قسم کا زلزلہ پیدا ہوگا ۔ ہر کوئی دل میں اسرائیل اور امریکہ کو گالیا ں دینے لگا۔ تمام لوگوں نے مسجد کا رخ کیا اور خدا سےا مریکہ کی تباہی اور زلزلے سے بچنے کی دعائیں شروع کردی۔ اتنے میں ڈی سی صاحب نے مسجد میں اعلان کردیا کہ یہ ایک افواہ ہے اور سب گھر چلے جائیں مگر لوگ ان کی بات کا یقین نہیں کر رہے تھے کیونکہ دور پرویز مشرف کا تھا ۔ چونکہ پرویز مشرف امریکی ایجنٹ ہے اور ان کی گورنمنٹ میں کام کرنے والے سارے کے سارے سرکاری ملازمین بھی امریکی ایجنٹ سے کچھ کم نہیں اور آنے والا زلزلہ امریکی اور اسرائیلی سازش ہے تو ڈی سی صاحب بھی یہی چاہتے ہیں کہ سارے کے سارے مر جائیں تاکہ مسلمان دنیا سے ختم ہو سکیں۔ ہم چونکہ بچے تھے اپنے بزرگوں کی ہی سنتے تھے ہم بھی گھر کے باہر ہی رہے ۔ آخر کار سخت سردی سے تنگ آکر ہم گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم نے سوچا کہ زلزلے سے مرینگے یا نہیں مگر سردی سے لازمی طور پر مر ہی جائینگے ۔ صبح ہوئی اور زلزلہ نہیں آیا مگر بات یہی نہیں روکی ہم چه وی سنتے رہے ۔ ایک بزرگ کہنے لگے کہ رات کو انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ زلزلا آنے ولا ہے مگر ان کی مرتبے کی وجہ سے زلزلہ رک گیا کیونکہ انہوں نے خدا سے دعا مانگی ۔ مجھے امی نے دکان سے کچھ سودا لینے بھیجا۔ وہا ں کچھ لوگ آپس میں بات کر رہے تھے کہ کوئی کل رات ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور یہ بول کے مر گیا کہ فلاں تاریخ کو ایک شدید قسم کا زلزلہ آنے والا ہے اور یہ اطلاع دے کر مر گیا ۔ میں گھبراتے ہوئے اماں کے پاس آیا اوران کو بتا دیا اور اماں فوراً کہنے لگی کہ فلاں آپا بھی یہی کہہ رہی تھی اور ان کو تو یہا ں تک معلومات تھیں کہ بچہ کس علاقے میں پیدا ہوا ہے ۔ رات کو میں ابو کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے جا رہا تھا ۔ابو سے میں نے دریافت کرنے کی کوشش کی ۔وہ مجھ سے کہنے لگے بیٹا کل ایک اور بچہ پیدا ہواہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ وہ دوسرا بچہ جھوٹ کہہ رہا ہے کوئی زلزلہ نہیں آنے ولا ہے۔ ہم تو اس وقت بچے تھے ہمیں ریسرچ نامی چیز کا پتہ ہی نہیں تھا اور نہ صحیح سوال پوچھنے کا کوئی آئیڈیا تھا ۔
اس طرح کا کچھ معاملہ 2009 کے سیلاب میں بھی آیا تھا ۔ رات کو سیلاب کی خبریں ہمیں آ رہی تھی مگر زلزلے کی طرح اس بار والی اطلاع سچ تھی۔ ایک صاحب کہنے لگے کوئی کہہ رہا تھا یہ دراصل انڈین سازش ہے! انڈیا نے ہمیں تباہ کرنے کے لئے پانی اپنے ڈیموں سے چھوڑ دیا تاکہ پشتونوں کی آبادی کرہ ارض سے ختم ہو جائے۔ ایک اور صاحب کہنے لگے کہ امریکہ نے یہ ایک تجربہ کیا ہے جس کے ذریعہ بادلوں پہ سپرے کر کے بارش بڑھا رہے ہیں۔ ایک اور صاحب کہنے لگے دراصل یہ ایک پنجابی سازش ہے تاکہ اس ملک کے سارے کے سارے اثاثوں پہ ان کا قبضہ ہو ۔ کچھ لوگ اس لئے بھی ڈوبے کہ سارے اطلاعات اور اعلانات کے باوجود لوگ ان باتوں ں پر یقین کر رہے تھے جن کا کہنے والا شخص نا معلوم تھا۔ دریا کے کنارے بیٹھے سارے گفتگو میں مشغول تھے اور سیلاب آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ مجھے بتا دیں اگر سیلاب نے نہیں آنا ہے تو میں سو جاؤ۔ ہمیں خطروں سے کھیلنے کا شوق ہے۔ بجائے اس کے کہ سارے اپنی حفاظت کے لئے کہیں پناہ لے ہم دریا کے کنارے سیلاب آنے اور ہمارے خلاف ہونے والے سازشوں کا باڑا کسی کی زبانی پوٹ رہے تھے۔ اتنے میں ایک صاحب جو کسی نیوز چینل پر سن کے آیا تھا کہ اتنا ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، سیلاب کا انتظار کرنے والے مجمع کو سنا دی۔ کیوسک کیا ہوتا ہے کسی کو بھی خبر نہ تھی مگر لاعلم دکھنے کے ڈر سے سب نے سر ہلایا، جیسے کیوسک کتنا ہوتا ہے سب کو معلوم ہو۔ اتنے میں ایک صاحب نے مجمع میں بیٹے حاجی صاحب سے پوچھا یہ کیوسک کتنا ہوتا ہے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نام سے ہی پتا چلتا ہے کہ ایک کیوسک ایک کاسا جتنا ہوتا ہوگا!!! ہم نے سیلاب کو تب ہی ماننا جب ہم نے اپنے ہی آنکھوں سے دیکھا ورنہ اگر حکومت کہہ دیتی یا موسمیات والے ہم نے ماننی ہی نہیں تھی۔
کووڈ 19 کے دنوں میں بھی کہانی کچھ یوں ہی تھی۔ سب سے پہلے تو چائنہ پر الزام دھرا گیا کہ ہر قسم کے جانور کھانے کی وجہ سے خدا کا عذاب آیا ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ کسی ڈاکٹر سے انہوں نے سنا ہے کہ چونکہ چین والوں کے ناک تھوڑے کھلے ہوتے ہیں اس لئے ان کو یہ بیماری لگ گئی۔ کسی نے کسی سے سنا تھا کہ وائرس دراصل امریکی لیبارٹری میں تیار ہوا ہے اور چائنہ کو تباہ کرنے کے لئے ہی اسے تیار کیا گیا ہے۔ پر وائرس پاکستان بھی آگیا جس سے ہم نے پہلے اسے ایرانی سازش قرار دیا اور پھر امریکہ کی سازش کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ مسلمان مسجد چلے جائے اور نماز پڑے۔
یونہی کچھ ترکی زلزلے میں بھی ہو رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ کسی نے کہا ہے کہ یہ امریکہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جس سے یہ زلزلہ پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے ایک شخص سے وجہ دریافت کرنا چاہی کہ امریکہ کو کیا ملے گا اس زلزلے سے جس کا جواب اس صاحب نے یوں دیا کہ ترکی خلافت عثمانیہ کی بحالی کا اعلان کرنے والا ہے جو امریکہ کو ناپسند ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ترکی کو تباہ کیا۔ ایک دوسرے صاحب کہنے لگے دراصل امریکہ کو مسئلہ نہیں مگر سعودی عرب کے کہنے پہ امریکہ نے یہ کیا ہے کیونکہ اگر ترکی خلافت بن گیا تو سعودی عرب کو مجبوری میں خلافت عثمانیہ کا حصہ بننا ہو گا۔ ایک اور ماہر کا کہنا ہے کہ اس نے سنا ہے کہ ایک ہفتہ بعد پاکستان میں بھی اسی شدت کا زلزلہ آنے ولا ہے۔ اس صاحب کا تو کہنا ہے کہ انہوں نے کسی سائنسدان سے سنا ہے "یہ کون” یا "یہ کوئی” اتنا مظبوط ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی دور میں بھی ہم سوال نہیں پوچھتے کہ کس سائینسدان نے کہا ہے؟ نام کیا ہے؟ کہا کا ہے؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بس ریفرنس "چه وی” ہے۔ یہ اتنا ہی اہم ریفرنس ہے کہ میرے خیال میں اس سائنسی دور میں جس جگہ "چه وی” یا کسی نے کہا ہے استعمال ہو اس بات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا منع ہونا چاہیے۔ میری اور ہارورڈ اور اے پی اے سے اپیل ہے کہ ریفرینسز میں "چه وی” کو شامل کیا جائے۔
