Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بندوق کو سب کچھ سمجھنے والے
    کالم

    بندوق کو سب کچھ سمجھنے والے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 1, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    حسبِ معمول جمعہ کا دن افغانستان کی ہزارہ برادری کے لئے بھاری ثابت ہوا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 سے زیادہ معصوم طلباء و طالبات گزشتہ روز کے خودکش حملے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں عام سویلین کے مرنے کی شرح تقریباً وہی ہے جو اشرف غنی کے دور میں تھی. نفاذِ شریعت کے دعویدار تواتر کے ساتھ کسی جادوئی چھڑی کا ذکر کرتے تھے جو گھمانے سے تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ ان مسائل پر بات نہیں کرتے جن کا تعلق مادی وسائل سے ہے بلکہ صرف ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان صاحبانِ جبہ و دستار کے اختیار میں ہیں، لیکن انتظامی صلاحیت کے فقدان، ہوم ورک کی کمی، شدید قسم کی فکری کنفیوژن اور کسی قابلِ عمل گورننس ماڈل کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے اور شدت اختیار کررہے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ آنے سے قبل دعوے تو بڑے بڑے کیے گئے جیسے بدقسمت افغاننستان کی کایاپلٹ ہونے جارہی ہو، لیکن حقیقت میں مسائل گھمبیر ہو رہے ہیں۔ سخت پابندیوں اور میڈیا کوریج کی آزادی نہ ہونے کے باعث معاملات کی نزاکت ابھی اوجھل ہے۔

    1- پچھلے ایک سال میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کوئی قابلِ عمل پالیسی وضع نہیں کی جاسکی اور ابھی تک افغان بچیاں تعلیم کے حصول جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

    2-  افغانستان کے ریاستی نظم میں عام افغان کی عملی شمولیت اور فرد کی رائے کی اہمیت کے حوالے سے صاحبانِ جبہ و دستار کی دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ ان کے نزدیک چونکہ ’جمہوریت کفریہ نظام ہے‘ اسی لئے وزارتِ پارلیمانی امور ختم کردی گئی۔

    4-  امن و امان کے حوالے سے ’شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیئں گے‘ کے جو دعوے کئے گئے تھے اس کی حالت یہ ہے کہ دارالحکومت میں دردناک واقعات معمول بن گئے ہیں۔ داعش وغیرہ کو موردِ الزام ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان پیٹی بھائیوں کو نکیل ڈالنے اور عام افغانی کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا۔

    4- ’عورت برائی کی جڑ ہے‘ پر یقین رکھنے والے یہ صاحبان، خواتین کی ملازمت اور پبلک سپیس میں ان کی موجودگی کے حوالے سے بے انتہا فکری کنفیوژن کا شکار ہیں.۔اثرورسوخ کی حامل تمام تعلیم یافتہ خواتین ملک چھوڑ کر باہر چلی گئیں ہیں اور جن کا کوئی والی وارث نہیں وہ گھر بیٹھ کر اپنی قسمت کو کوستی رہتی ہیں۔

    میدانِ جنگ میں ہتھیاروں اور افرادی قوت کے زور پر مقابلہ کرنا ایک مختلف چیز ہے اور ریاستی معاملات، گورننس اور امن و امان جیسے مسائل کی نوعیت مختلف ہے جو بندوق، زور زبردستی، دھونس اور دھمکی کی بنیاد پر نہیں چلائے جاسکتے بلکہ سماج کی بُنت، فرد، سماج و ریاست کے پیچیدہ باہمی تعلق، ان کی نزاکتوں اور تقاضوں کو سمجھنا اور اسی کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دینا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

    جنگجوؤں کی مین سٹریمنگ اور انہیں ریاستی معاملات میں انگیج کرنے سے پہلے ان کی ڈی ہیومنائزڈ ذہنیت کو تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ نارمل انسانوں کی طرح برتاو کے قابل ہوسکیں لیکن یہ شاید واحد ایسا ریاستی بندوبست ہے جس میں لوگ جنگ کے میدان سے اٹھ کر بندوق بغل میں دبائے اور بغیر کسی عوامی حمایت کے تخت پر براجمان ہوئے ہیں، اس لیے کنفیوژن اور فرسٹریشن میں فی الحال انھیں خود بھی سمجھ نہیں آرہی کہ ہو کیا رہا ہے؟

    افغان طالبان افغانستان بندوق خواتین شریعت طالبان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleفضیلہ عالیانی، سیاست میں بلوچوں کے حقوق کی علمبردار
    Next Article کس طرح 1930ء کے بحران نے کیتھولک چرچ کو جدید بنا دیا
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by