اطلاعات کے مطابق آج دوپہر کو پشاور کے علاقے سربند میں دو سکھ تاجروں کو حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ وزیراعظم سمیت اہم سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کی ہے اور ذمہ داران کو گرفتار کرکے سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پشاور میں سکھ برادری کے قتل کے واقعات کی خبریں وقفے وقفے سے میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران ان کی چند اہم شخصیات سمیت کئی افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض واقعات کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیمیں قبول کرچکی ہیں۔ اگرچہ آج کے واقعے سے متعلق اب تک یہ واضح نہیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، تاہم تسلسل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس کی بنیاد بھی مذہبی منافرت ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں پانچ سو کے قریب سکھ خاندان آباد ہیں۔ پشاور کی سکھ برادری یہاں دہائیوں سے رہائش پذیر ہے اور ان کا اکثریتی مسلمان آبادی کے ساتھ ہمیشہ ایک اچھا تعلق قائم رہا۔ لیکن خطے میں دہشت گردی کی لہر کی اٹھان کے بعد سے وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ پشاور میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو حالات خراب ہونے کے بعد سابقہ قبائلی اضلاع سے نقل مکانی کرکے آئی ہے، تاہم ان کے لیے حالات یہاں بھی سازگار نہیں رہے۔
رپوٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پشاور کے ساٹھ فیصد سے زائد سکھ ملک کے دیگر علاقوں میں یا پاکستان سے باہر ہجرت کر گئے ہیں۔ اس سے اندازہ انداز لگایا جاسکتا ہے کہ یہ برادری جو پرامن ترین اور سماجی سطح پہ مقبول سمجھی جاتی تھی، وہ کس حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکی ہے۔ صوبے کی اقلیتی برادری میں جس طرح اب سکھوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب اقلیتوں میں سے مذہبی منافرت اور عسکریت پسندوں کا ترجیحی ہدف ہیں۔ سکھ برادری کا انتظامیہ پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ کیونکہ ان کے مطابق، نہ قاتل گرفتار ہوتے ہیں نہ انہیں سزا ملتی ہے۔ یہ صورتحال ریاست کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

