کیا نواز شریف مستعفی ہو کر خود کو احتساب کے لئے پیش کر سکتے ہیں ؟شاید ایسا نہ ہو کیونکہ اس میں ان کے ساتھ ان کے اتحادی ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی بھی ساتھ کھڑے ہیں ۔لیکن دھرنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ جماعتیں بھی وزیر اعظم کو ساتھ چھوڑ سکتی ہیں ۔ نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وہ سیاسی شہید بننا پسند کریں گے مگر کسی کے دباو میں آ کر مستعفی نہیں ہوں گے ۔

پورا پاکستان گو مگوں کی کیفیت میں ہے ؟ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ دو نومبر کو کیا ہونے جا رہا ہے ؟

عدالت عالیہ کی جانب سے عمران خان کو پریڈ گراونڈ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔لیکن دوسری جانب انتظامیہ کو اسلام آباد بند کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کا یہ فیصلہ کس کے حق میں ہے اور کس کے مخالف ہے ؟ ا س کا اندازہ  تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان  کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ  دو نومبر کے احتجاج کی کال  ان کا آئینی حق ہے جس سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ عدالت عالیہ نے عمران خان کو ۳۱ اکتوبر کو طلب بھی کر لیا ہے ۔جہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ شہر کو بند کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر عمران نے اس موقع پر کہا کہ وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور یہ ان کا جمہوری حق ہے اور عدالت ان کے اس حق کو چھین نہیں سکتی تو عدالت اس موقع پر چند زبانی  کلامی یقین دہانیوں کے عوض نہ صرف انہیں احتجاج کی اجازت دے گی  بلکہ اگر انتظامیہ نے اس موقع پر کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو بند کر دیا تو عدالت جو پہلے ہی انتظامیہ کو  اسلام آباد میں کنٹینر نہ لگانے کا حکم دے چکی ہے وہ تمام رستے کھولنے کا حکم صادر کر دے گی ۔

 گویا عدالت ِ عالیہ نے  عمران کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے والو ں کو روک دیا ہے ۔ اس کے آگے کا منظر کیا ہو گا ؟

نومبر کے پہلے ہفتے میں وزارت دفاع کی جانب سے ایک فائل وزیر اعظم ہاؤس جائے گی جس میں نئےآرمی چیف کے لئے متوقع نام ہوں گے ۔ آرمی چیف کی تقرری پاکستان کے اندر ایک بڑا سیاسی معاملہ بن چکی ہے ۔ اور اس سیاست نے کسی نہ کسی طرح آرمی کو بطور ادارہ بھی متاثر کیا ہے ۔  سبھی کی نظریں نہ صرف ا س فائل بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں  ۔ متوقع فیصلے  میں  میرٹ  کا عمل دخل بھی ہے ، وزیر اعظم کی پسند نا پسند بھی ہے اور جانے والے آرمی چیف کی ایڈوائس بھی ہے ۔ یہ ساری چیزیں  متوقع فیصلوں پر اثر انداز ہوں گی ۔

یہ  فیصلے اس وقت ہو رہے ہوں گے جب عمران اور طاہر القادری وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہوں گے ۔ ان حالات میں اس فائل پر وزیر اعظم کی جانب سے اپنی پسند و ناپسند کے مطابق فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا ۔کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید دھرنے کی ٹائمنگ  کی ایک بڑی وجہ بھی وزیر اعظم کو دباؤ میں رکھنا ہے جو ماضی میں ہمیشہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگاتے آئے ہیں مگر اس بار دوسری طرف کے لوگ انہیں یہ مرضی نہیں کرنا دینا چاہتے ۔

دوسری جانب عمران خان بھی یک طرفہ ٹکٹ لے کر دھرنے میں آ رہے ہیں وہ گزشتہ دھرنے میں بھی واپسی کا ٹکٹ نہیں لائے تھے مگر آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے نے انہیں اپنابوریا بستر لپیٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ا س بار عمران خان ‘‘اب یا کبھی نہیں’’ کی پوزیشن لے چکے ہیں ۔لیکن اگر ا س مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہ نکلا تو پھر کیا ہو گا ؟

کیا نواز شریف مستعفی ہو کر خود کو احتساب کے لئے پیش کر سکتے ہیں ؟شاید ایسا نہ ہو کیونکہ اس میں ان کے ساتھ ان کے اتحادی ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی بھی  کھڑے ہیں ۔لیکن دھرنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ جماعتیں بھی وزیر اعظم کا ساتھ چھوڑ سکتی ہیں ۔ نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وہ سیاسی شہید بننا پسند کریں گے مگر کسی کے دباؤ میں آ کر مستعفی نہیں ہوں گے ۔

ایسے میں ا س بات کا امکان موجود ہے کہ جمہوریت خطرے میں چلی جائے ۔ایک بار پھر ۱۲ اکتوبر والی صورتحال بن جائے ۔  اگر ایسا ہو گیا تو سب سے زیادہ نقصان بھی عمران خان کا ہو گا جو اپنی باری کا نتظار کرتے کرتے کسی اور کو اپنی باری لگانے کا موقع دے جائیں  گے ۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version