ایک ایسے وقت میں جب یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان میں ریاست اور معاشرے کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب کرے گی، کچھ اہم حقائق پر غور کرنا ضروری ہے۔ جب ایک پارلیمانی کمیٹی نے مذہب کی جبری تبدیلی کے بل کو مسترد کر دیا، جس کی وزارت مذہبی امور نے بھی مخالفت کی تھی، اس کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ پاکستان کی اپنی اکثریتی ذہنیت جو بڑی حد تک انفرادیت پسندی میں الجھی ہوئی ہے۔ پڑوس میں طالبان کی موجودگی صرف اس ذہنیت کی حوصلہ افزائی کرے گی اور پاکستان میں ریاستی اداروں اور معاشرے میں ‘طالبانائزیشن’ کے عمل کو فروغ دے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی کے اعتدال پسند ہمیشہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پارلیمنٹ کے لیے ایک اہم کردار کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ہماری قانون سازی شاذ و نادر ہی جرات مندانہ اقدامات کرتی ہے۔ اس کے بجائے، ہمارے بہت سے قانون ساز استبداد اور جبر کی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ملک کی اعلیٰ عدالتیں جرات مندانہ فیصلوں اور ناقدانہ اعتراضات کے ذریعے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرتیں تو یہ اکثریتی ذہنیت قانون میں موجود کئی حفاظتی گنجائشوں کو ختم کر دیتی۔ افسوس کی بات ہے کہ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ حکمران طبقہ بھی اسی طرح کی ذہنیت رکھتا ہے اور اخلاقی تصورات اور میلانات کو فروغ دینے کے اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتا ہے جو بنیادی طور پر ان کے سیاسی حامیوں کے مذہبی حلقے کو راضی کرتی ہے۔

پاکستان میں اجتماعیت کی کم از کم اتنی سطح تو لازم ہے جو جمہوری اقدار کو زندہ رکھ سکے۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بیرون ملک اور اندرون ملک شعور بیدار کرنے کے لیے رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک نیک مقصد ہے۔ تاہم، پاکستان میں مذہب ایک نازک مسئلہ ہے۔ مذہبی یا اخلاقی ضابطوں سے منسلک کوئی بھی اقدام صرف مذہبی اجارہ دار طبقے کو مضبوط کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ دوم، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اتھارٹی کیسے کام کرے گی کیونکہ اس کا ایک بہت وسیع ایجنڈا ہے، جس میں نوجوانوں کے اخلاقی کردار کی نشوونما اور اسکولوں میں پڑھائے جانے والے مذہبی نصاب کی تیاری اور نگرانی سے لے کر عالمی سطح پر، خاص طور پر مغرب میں اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہے۔

مجوزہ اتھارٹی کے وسیع دائرہ کار اور مینڈیٹ کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس کی قیادت کون کرے گا۔ اگر روایتی اسلامی فکر رکھنے والے مذہبی قائدین کو قیادت سونپی گئی تو یہ اتھارٹی بالآخر اخلاقی پالیسی سازی کا ادارہ بن جائے گی اور یہ طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے مختلف نہیں ہو سکتی جس کا مقصد نیکی کو فروغ دینا اور برائی کو روکنا تھا۔ ایک اور مسئلہ ایسے علمائے دین کا تعین اور انھیں اس عمل میں شامل کرنا ہوگا جن کے پاس نہ صرف مطلوبہ علمی استعداد ہے بلکہ متنوع مذہبی منظر نامے میں عوام میں ان کی ساکھ بھی ہے۔ اگر پاکستان میں ایسی علمی استعداد رکھنے والے علمائے دین ہوتے تو اسی نوعیت کے مقاصد کے لیے کام کرنے والے دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں کی کارکردگی بہت بہتر ہوتی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مذہبی علماء کے ایک خصوصی اجتماع میں اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے بجائے اس کے کہ اسے رائے کے لیے پارلیمنٹ یا حکومتی اراکین کے سامنے رکھا جاتا، اور نہ ہی اس کا طریق کار اور مقاصد عوامی فورمز پر زیرِبحث لائے گئے ہیں۔

پارلیمنٹ اور حکومتی اراکین کے علاوہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی اسی طرح کا طرزِ عمل دکھاتی رہی ہے۔ کسی کھلی بحث یا وسیع مشاورت کے بغیر ہی ملک کا انسدادِ دہشت گردی کافریم ورک تیار کرنے کے لیے ایک نظر ثانی شدہ اور ترمیم شدہ نیشنل ایکشن پلان کااعلان کر دیا گیا ہے۔ نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان 14 نکات پر مشتمل ہے اور اس سے داخلی سلامتی کے معاملات پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مزید مضبوط ہوتی ہے۔ زیادہ تر نکات کشادہ اور مبہم ہیں اور ان کا غلط استعمال آسانی سے کیا جا سکتا ہے، بشمول اس شق کے جس میں میڈیا (الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا)، مواصلات اور سائبر نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کے پھیلاؤ کے خلاف کارروائی کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے پسِ پردہ سارا تصور ایک سزا دینے والی حکومت قائم کرنے کا ہے۔ ایک بار پھر اس انتہائی توجہ طلب امر کو نظرانداز کیا گیا ہے جس میں تعلیم، جوابی بیانیے کی تشکیل اور ردِ انتہا پسندی کے فروغ جیسے نرم رویوں سے کام لیا جانا چاہیے۔

نظرثانی سے پہلے کی پالیسی میں، ایک جزومتشدد انتہا پسندی کے انسداد (counter-violence extremism) کی پالیسی کے نفاذ کی بات کرتا ہے، لیکن یہ الفاظ فیصلہ ساز حلقوں میں بہت وسیع تناظر میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کام نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو تفویض کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ادارہ ملک کے انسداد دہشت گردی کے معاملات میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو نیکٹا پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کا تعلق ہے، ایک نیا اور الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں بیوروکریسی متوازی ادارے بنانا پسند کرتی ہے، جس کی وجہ سے الزامات کا بار کمزور اداروں پر ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔

نیا نیشنل ایکشن پلان اس تصور کو نابود کر دیتا ہے کہ ملک کی داخلی سلامتی کی باگ ڈور پولیس اور سول سکیورٹی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ ایک ذہنیت جو طاقت کے ارتکاز پر یقین رکھتی ہے ملک کے ہر ادارے میں کام کر رہی ہے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ذہنیت نے دیگر اسی طرح کی ذہنیت رکھنے والوں اور اس کا اظہار کرنے والوں میں ایک ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ نے آہستہ آہستہ ملک کے بیشتر کلیدی اداروں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، حکمران طبقہ اپنے رویے میں آمرانہ ہے اور نظام کو بادشاہت کی طرح چلانا چاہتا ہے۔ دریں اثنا، پارلیمنٹ اکثریت کے مفادات کی نگہبان بن گئی ہے۔ تو پھر ہم اسے ‘انفرادیت پسندی کے عارضے’ کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں؟ مؤخر الذکر ادارہ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتا، اجتماعیت کو بے دخل کرتاہے اور صرف اپنے آپ کو درست سمجھنے کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اس کا موازنہ اس سے کریں کہ دنیا افغانستان میں طالبان سے کیا مطالبہ کر رہی ہے۔ یقینی طور پر پاکستان کو بھی اجتماعیت کی ضرورت ہے، یا کم از کم اجتماعیت کی اتنی سطح جو کم سے کم جمہوری اقدار کو تو زندہ رکھ سکے۔

طالبان حکومت نئی ہے اور 20 سال کی پُرتشدد جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئی ہے۔ ان کے لیے کوئی دلیل دے سکتا ہے کہ انھیں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے وقت درکار ہے۔ لیکن پاکستان میں معاملہ اس سے کیسے مختلف ہے جب اس کے وزیر مذہبی امور کا کہنا ہے کہ جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف قانون بنانے کے لیے ’ماحول سازگار نہیں ہے‘؟

‘ناسازگار ماحول’ ایک بہانہ ہے جو ریاست کئی عشروں سے استعمال کر رہی ہے، اور اس نے جبر کی قوتوں کو بااختیار بنا دیا ہے۔ بہانے بنانے کے بجائے، ریاست کو چاہیے کہ وہ عوام کو ان کے آئینی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔ اکثریت کی ذہنیت تقسیم کرنے والی ہے۔ یہ رجحان بھارت میں بھی زوروں پر ہے۔ پاکستان ہمیشہ چاہتا ہے کہ وہ بھارت سے مختلف نظر آئے اور یہ تبھی ممکن ہے جب اس کی ریاست اور معاشرہ اپنے جوہر میں اجتماعیت پر مبنی ہو جائے۔ بصورت دیگر، مغربی سرحد کے پار کی دنیا ہمیں ہمارے ہمسایہ ممالک جیسا ہی سمجھتی رہے گی۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version