Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سماجی ہم آہنگی کا شعور گھر اور گلی محلے سے آتا ہے
    کالم

    سماجی ہم آہنگی کا شعور گھر اور گلی محلے سے آتا ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 29, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ سماجی ہم آہنگی کیا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ ہر بچے کا ایک خاندان ہوتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتا ہے، پرورش کے دوران اس کی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے، روزمرہ جملوں سے مانوس ہوتا ہے، شناختیں پختہ ہونے لگتی ہیں اور جوں جوں وہ بڑا ہوتا ہے وہاں کی ہر شے کا ایک مخصوص خاکہ اس کے ذہن میں مرتب ہوچکا ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ سماجی ہم آہنگی گھر سے آتی ہے۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی جس ماحول میں خود کو پایا وہاں کئی طرح کے لوگ بستے تھے۔ اس دوران میں نے کچھ جملے سنے جیسے کہ سرائیکی بہت سست ہوتے ہیں، پنجابی محنتی ہیں لیکن خودغرض ہوتے ہیں، یہ بھی کہا جاتا کہ فلاں سے ملنا ہے فلاں سے نہیں۔ اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن کچھ خاکے ذہن میں پختہ ہوتے جاتے تھے۔

    میرے اندر جتنی بھی سماجی ہم آہنگی موجود ہے یہ مجھے میرے گھر، گلی محلے، پرائمری و ہائی اسکول کی عطا کی ہوئی ہے۔ گیلی مٹی جس سانچے میں بھی ڈھل جائے اس کو توڑنے کے لیے کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پانچویں جماعت میں ایک بچے کا داخلہ ہوا۔ اس کانام بہت عجیب تھا، کنہیا لال، پتہ چلا کہ وہ ہندو ہے۔ اب معاشرتی علوم میں ہم نے پڑھا تھا ہم پر ہندوؤں نے بڑے ظلم کیے تھے، وہ مکار ہوتے ہیں، مسلم دشمن ہیں، یوں سارے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا تشکیل شدہ ہندو مجھے کنہیالال میں نظرآنے لگا۔

    میں سوچتا ہوں جو لوگ کسی سیاسی پارٹی میں بیٹھے ہیں، بیوروکریٹ ہیں، یا جو ادارے چلا رہے ہیں، جتنا سماجی ہم آہنگی کا شعور میرے حصے میں آیا تھا ان کے حصے میں بھی تو اتنا ہی آیا ہوگا۔ لہٰذا کنہیا لال آج بھی مشکوک ہے، بلوچ اب بھی غدارہے، پنجابی اب بھی چالاک، سندھی سست اور پٹھان آج بھی اتنا ہی بے وقوف نظر آتا ہے جتنا بچپن میں مجھے بتایا گیا تھا۔ لیکن ہم اس کے ساتھ اب یہ سنتے ہیں کہ سماجی ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ ہم یہ کیسے کریں گے۔ یہ تو ایسے ہے جیسے بریانی کی دیگ بنانے کے بعد کہا جائے کہ اس کو کسی طرح پلاؤ میں بدلا جائے، آملیٹ کو دوبارہ انڈہ بنایا جائے۔

    مجھے بچپن میں کنہیا لال کا تجربہ ہوا تھا۔ سماجی ہم آہنگی کا یہ تصور مجھے اپنے گھر سے ملا۔ اس تجربے کے چالیس سال بعد ایک اور واقعہ ہوا۔ میرا دس سال کا بیٹا ایک دن اسکول سے آیا، اس نے بتایا کہ وہاں ایک شِوم نام کا ایک بچہ داخل ہوا ہے، اس سے کوئی بات نہیں کرتا۔ میں نے فوراً کہا کہ تم اس کو دوست بنالو چاہے کوئی اور اس سے بات بھی نہ کرے۔ چھ ماہ بعد دوبارہ حالات پوچھے تو بیٹے نے بتایا کہ اب شِوم کے ساتھ سب نے دوستی کرلی ہے۔ سماجی ہم آہنگی کا یہ تصور میرے بیٹے کو اس کے گھرسے ملا ہے۔

    ہمیں دراصل چیزوں کو طے کرنا ہوگا۔ پاکستان کس کے لیے ہے۔ اگر یہ ہر پاکستانی کے لیے ہے تو پھر اپنے حقوق کے لیے کسی اقلیت کو سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر طے کرلیا ہے کہ یہ صرف اکثریت کا پاکستان ہے تو پھر باتیں جتنی بھی کرلی جائیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، پھر اقلیتیں غیرمحفوظ رہیں گی۔

    گھر کے ساتھ ریاست پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سماج کو روادار بنانے کے لیے قانون بنائے۔ اگر کسی کو گھر، گلی محلے اور تعلیمی ادارے سے یہ تصورات نہیں مل رہے تو ریاست ضرور بتائے کہ سب برابر ہیں اور ایک جیسے شہری ہیں تاکہ بڑا ہوکر باہر نکلنے والا فرد کم ازکم کسی مرحلے پر تو سوچنے پر مجبور ہو کہ ہمیں مل جل کر اور پرامن رہنا چاہیے۔

    یہ مضمون پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیراہتمام منعقد کی گئی ایک مکالماتی نشست میں دیے گئے لیکچر سے ماخوذ ہے۔

    اقلیتیں سماجی ہم آہنگی شدت پسندی شہریت
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعالمی وبا اور اعتقادات
    Next Article مذہبی اقلیتوں کے خلاف منافرت پر مبنی رجحانات کی مقبولیت خطرناک ہے
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by