Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ٹرمپ مودی رومانس ؟پاکستان کے لئے کتنا نقصان دہ کتنا فائدہ مند ؟
    کالم

    ٹرمپ مودی رومانس ؟پاکستان کے لئے کتنا نقصان دہ کتنا فائدہ مند ؟

    سجاد اظہرBy سجاد اظہرجنوری 26, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان اور افغانستان کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندیاں تو عائد نہیں کی گئیں ۔لیکن انڈیا کے ساتھ ٹرمپ کی قربت مستقبل میں پاکستان کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات کا پتہ دے رہی ہے

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف لیتے ہی جو اقدامات اٹھائے ہیں ان سےداخلی اورخارجی طور پر امریکہ کے آئندہ چار سال کی ترجیحات  کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے ابتدائی طور پر جن  ملکوں کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی ہے وہ تمام مسلمان ممالک ہیں۔شام ، عراق، ایران ، لیبیا ،صومالیہ ، سوڈان اور یمن کے شہری اب امریکہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے ۔جس روز انہوں نے یہ حکمنامہ جاری کیا اسی شام انہوں نے بھارتی وزیر اعظم  نریندر مودی سے بات کی اور بھارت کو حقیقی دوست اور اسے دنیا بھر کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے شراکت دار کہا ۔اس سے پہلے ایسی ہی گفتگو انہوں نے تائیوان کے صدرتسائی انگ ونگ سے کی تھی ۔گویا  ٹرمپ چین کے خلاف محاذ بنا نے جا رہے ہیں ۔

    پاکستان اور افغانستان کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندیاں تو عائد نہیں کی گئیں ۔لیکن انڈیا کے ساتھ ٹرمپ کی قربت مستقبل میں پاکستان کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات کا پتہ دے رہی ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ دو امریکی صدور بش جونئیر اور اوبامہ کے دور میں پاکستان امریکہ کا  صف ِ اوّل کا  اتحادی رہا۔اسے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد 25  ارب ڈالر کی امداد بھی ملی ۔تاہم دونوں  ملکوں کے درمیان بد اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا رہا ۔ پاکستان کو خطے میں امریکی اہداف پر شدید تحفظات رہے ہیں اور ان  کو افغانستان میں پاکستان مخالف بھارتی سرگرمیوں سے مزید تقویت ملی ہے ۔دوسری جانب 2011 میں ایبٹ آپریشن میں بن لادن اور 2016 میں بلوچستان میں ملا عمر کے جانشین ملا منصور کی ہلاکت کی خبروں نے امریکی اداروں کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کہیں ان کے ساتھ ‘‘ڈبل گیم’’ تو نہیں کر رہا ؟اس سے قبل امریکی ادارے یہ بھی کہتے ہیں کہ ملا عمر کی ہلاکت کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی ۔

    صدر اوبامہ  نے اپنے آٹھ سالہ دور میں پاکستان کا دورہ نہیں کیا حالانکہ ان کی ٹیم کے سرکردہ افراد تواتر کے ساتھ پاکستان آتے رہے ۔کہا جاتا ہے کہ اوبامہ نے اس لئے پاکستان کا دورہ نہیں کیا کیونکہ انہیں ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث لشکر طیبہ پر شدید تحفظات تھے اور وہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو بھارت کے حوالے کرنے پر زور دیتے آئے تھے۔ صدر اوبامہ کے آخری دنوں میں پاکستان کی فوجی امداد بھی روکی گئی حالانکہ صدر اوبامہ ایسا نہیں چاہتے تھے وہ پاکستان کے ساتھ باہمی رابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے  افغانستان میں درپا امن کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاتے تھے ۔مگر  سینیٹ میں ریپبلکن کی اکثریت کی وجہ سے انہیں اپنی پالیسیوں پر عمل در آمد میں مشکل پیش آتی تھی ۔جیسا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کی سٹریٹجک پارٹنر شپ میں بھی بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا انحصار بڑی حد تک امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بھی ہے ۔اب امریکہ کے دونوں ایوانوں اور وائٹ ہاؤس میں براجمان افراد کے جھکاؤ ایک طرف اسرائیل اور دوسری جانب بھارت کی جانب ہے ۔صدر ٹرمپ نے تو ایک بھارتی نژاد خاتون جو اس سے پہلے جنوبی کیرولینا کی گورنر تھیں انہیں اقوام ِ متحدہ میں امریکہ کا مستقل مندوب لگا دیا ہے ۔ یہ در اصل بھارت کو اور امریکہ میں موجود طاقتور بھارتی لابی کو خوش کرنے کے عمل کا ہی حصہ ہے ۔

    نریندر مودی جنہیں پاکستان دشمنی میں سب سے خطرناک بھارتی وزیر اعظم قرار دیا جاتا ہے ۔اگر ان کے اور ٹرمپ کے مابین دوستی بڑھے گی تو ا س کا لازمی اثر پاکستان اور چین پر پڑے گا ۔کیونکہ بھارت پہلے ہی پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام سے حواس باختہ ہو چکا ہے اوروہ امریکہ کو باور کرانے پر لگا ہوا ہے کہ پاکستان یہ تمام جدید مزائل چین کی مدد سے بنا رہا ہے ۔اس ماحول میں خطے میں امریکہ اور انڈیا بڑے اتحادی بن کر ابھریں گے ۔امریکہ کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ چین ہے جہاں بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ ٹرمپ نے آتے ہی ہی چینی در آمدی مال  اور چین میں امریکی سرمایہ کاروں پر ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اس سےبھی چین کے ساتھ امریکی کشیدگی میں اضافہ ہو گا ۔اگر چین کے لئے امریکی منڈیا ںمحدود ہوتی ہیں تو ایسے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت بڑھ جائے گی ۔

    خطے کے حالات اور مسائل پہلے ہی گنجھلک ہیں ۔ٹرمپ کا رویہ ان مسائل کو اور زیادہ شدید بنا دے گا ۔ ٹرمپ چین کا مقابلہ بھارت کے ذریعے کرنا چاہتا ہے اور بھارت کا مسئلہ چین اور پاکستان دونوں ہی ہیں ۔ٹرمپ کے مقابلے پر چین کی پالیسی خطے میں استحکام اور خوشحالی کی آئینہ دار ہے ۔چین نے بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان کو‘‘ ون بیلٹ ون روڈ ’’ منصوبے میں شامل کر دیا ہے وہ بھارت کو بھی ا س کا حصہ بنانا چاہتا ہے ۔چاہ بہار کو بھی گوادر کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے ۔ چینی مال بردار ٹرینیں ایک طرف تہران اور دوسری جانب لندن تک پہنچ چکی ہیں ۔ چین سے گوادر تک آزمائشی تجارتی قافلے چل رہے ہیں ۔ ان حالات میں اگر ٹرمپ مودی رومانس بڑھے گا تو اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی ۔

    پاکستان یقیناً اس بدلتے ہوئے منظرنامے سے آگاہ ہے ۔اس کے لئے ٹرمپ مودی الائنس جہاں کئی مسائل پیدا کرے گا وہاں کئی مواقع بھی لائے گا ۔ اسے خطے میں چین کے ساتھ روس کے ساتھ اپنی شراکت کی بنیاد رکھنے میں آسانی ہو گی ۔اگر پاکستان کو چین کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ریاستوں سے آگے ماسکو تک بذریعہ سڑک منسلک کر دیا گیا تو پاکستان ایک بڑی تجارتی گزرگاہ بن جائے گی ۔بھارت کی بڑھتی ہوئی انرجی ضروریات کا انحصار پاکستان کے راستے سے گزرنے والی پائپ لائنوں اور اس کی منڈیوں کا انحصار پاکستان سے گزرنے والی سڑکوں پر ہو گا ۔اگر انہیں چھوڑ کر وہ پاکستان اور چین کے ساتھ محاذ آرائی کے لئے ٹرمپ کا ساتھ دے گا تو پھر اسے اپنے نفع نقصان کا اندازہ کر لینا چاہئے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleضرب ٹرمپ
    Next Article کیا ٹرمپ کو نفاذ شریعت پر ثواب ملے گا؟
    سجاد اظہر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by