پاکستان میں مذہبیت کا عنصر بہت طاقتور اور فعال ہے۔ اس کے اثرات سماج ہی میں نہیں بلکہ سیاست و ریاستی پالیسیوں میں بھی واضح نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آئین و قوانین سے لے کر پالیسیوں تک مذہب ایک محور ہونے کے باوجود پاکستان ایک مثالی ریاست کیوں نہ بن سکا اور ہماری شناخت تشدد پسند کی کیوں بن گئی؟صاحبزادہ امانت رسول اِس مضمون میں بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ جبر اور مخصوص مذہبی تعبیر پر اصرار ہے۔ وہ اس مسئلے کو تُرکی کی مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مضمون نگار ’ادارہ فکرِ جدید‘ کے سربراہ ہیں۔ سماجی موضوعات پر ان کی گہری دسترس ہے اور وہ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے داعی ہیں۔ (مدیر)
