تعلیم کا حصول ایسا خواب ہے جس کی تعبیر روشنی ہے۔ روشنی کا یہ سفر جاری رہے تو مسافرکو تھکان تو محسوس ہوتی ہے مگر منزل کو قریب آتا دیکھ کر تھکان و مشقت کو بھول جاتا ہے ۔ تعلیم کوبرسات سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جو پھوٹنے والی کونپلوں کی آبیاری سے لے کر انسانی ارتقاء کے تمام مراحل میں تمانیت کا احساس دلاتی ہے۔ علم اور اس کا طریقہ حصول نافع ہوگا ،تو تحقیق و جستجو اور شعور فہم کے راستے کھلیں گے ،اور اسرار رموز کے پردے بھی ہٹنا شروع ہوجائیں گے۔ کسی بھی انسان کی…
Author: ڈاکٹر عامر طاسین
ماضی قریب میں آپ نے ایک جملہ سنا ہوگا کہ ” دینی مدارس جہالت کی فیکٹریاں”ہیں۔مئی 2015 کودینی مدارس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پانچ معروف وفاق المدارس یعنی اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے تمام ذمہ داران، وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمن، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر مملکت پیر امین الحسنات، وزیر اعظم کے مشیر قانون بیرسٹر ظفر اللہ خان، وفاقی سیکرٹری مذہبی امور، وفاقی سیکرٹری داخلہ، وفاقی سیکرٹری تعلیم،چاروں صوبوں کے سیکرٹری تعلیم اور ناچیز بحیثیت پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ…
پاکستان میں جہاں دیگرعصری تعلیمی ادارے موجود ہیں، وہاں دینی مدارس جیسے تعلیمی ادارے بھی ایک حقیقت ہیں۔پاکستان میں اس وقت ہزاروں دینی مدارس میں کم و بیش پانچ تا چھ لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں ۔ دینی مدارس کے بارے میں ہمیشہ سے ایک طبقہ کی جانب سے عمومی طور پر یہ الزام داغا جاتا رہا ہے کہ یہ مدارس دقیانوسی تعلیم دیتے ہیں۔ جس کے سبب ان مدارس سے انتہاء پسند ذہن پیدا ہوتے ہیں اور اس انتہاء پسندی کے سبب معاشرے میں فساد برپا ہوتا ہے۔دینی مدارس کو تین بنیادی نکات میں تقسیم کرلیا جائے تو سمجھنے …
آپ کے لیے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سرکاری نوکری کے معاملے میں اہلیت و قابلیت سے زیادہ طاقتور شے تعلقات اور رسائی کا فن ہے۔ سائل اپنے تعلقات کا بھر پور استعمال کرے تو ٹیسٹ میں بھی اچھے نمبرز، انٹرویو بھی کمال کا ہوجاتا ہے پیارے سائل! امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے اور زندگی کے معاملات گھسیٹنے کی کو ششیں جاری و ساری ہوں گی۔ آپ سے چند باتیں کرنی تھیں اور کچھ اہم نصیحتیں بھی، تاکہ زندگی کی اس دوڑ میں جس منزل کی تلاش میں آپ سرگرداں ہیں اس میں کامیابی آپ…
تعلیمی اداروں کے نصاب میں تخصیص کا ہونا کوئی بری بات نہیں، اگر ستر سال قبل ہی ایک بنیادی نصاب مقرر ہوجاتا تو آج تعلیمی میدان میں معاشرہ تفریق و تقسیم کا شکار نہ ہوتا۔ ویسے بھی ایسے معاشرے میں جہاں غربت اور ناخواندگی بڑھتی جارہی ہو وہاں یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ ہی معاشرتی تقسیم کے خاتمے کا سبب بننے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ’’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت‘‘(1966ء) کاایک حوالہ یاد آگیا جو آج بھی کارآمد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ایک…
پاکستان کے اندر مدارس کا نظام ایک مستحکم پہچان رکھتا ہے۔اس کی اپنی ساخت اور فکری منہج ہے جو ملک میں ہمیشہ زیربحث رہتے ہیں۔حکومت ایک عرصہ سے مدارس کے نظام ونصاب میں تبدیلی لانے کی خواہاں ہے اور مذہبی حلقے کے ساتھ اس پر بات چیت کرتی رہتی ہے،لیکن اب تک فریقین کے مابین اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا۔رواں سال بیرونی دباؤ اور داخلی سطح پر پالیسی کی تبدیلی کے باعث مدارس کے اُمور ایک بار پھر سامنے آئے ہیں اور کچھ پیش رفت ہوتی دکھائی دی ہے۔زیرنظرمضمون میں مدارس کے نظام اور ان کے مسائل کا تاریخی احاطہ کیاگیا…
حکومت پاکستان کا دینی مدارس کے ساتھ مختلف امور میں اختلاف اور بات چیت کا مسئلہ گزشتہ 70 سال سے چل رہا ہے۔ وہ بنیادی مسائل جن پر طویل عرصے سے فریقین کے مابین کے بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے ان میں مدارس کی رجسٹریشن، نصاب تعلیم، ان کی اسناد، فنڈنگ اور عصری علوم کا پڑھانا وغیرہ شامل رہے ہیں۔ اس طویل تاریخ میں ایک چیز واضح ہے کہ اہل مدارس ہمیشہ حکومت ساتھ تعاون کے لیے تیار رہے ہیں۔ 11/9 کے بعد پاکستان کے تناظر میں جو بتدریج تبدیلی کے آثار نمایاں ہوئے ان میں سے ایک دینی…
پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 2005، اس کے بعد 2010 اور اب 2019 میں حکومت اور دینی مدارس کے معروف پانچ وفاقات (اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان) کے ذمہ داروں کے مابین مذاکرات کے بعد اتفاق رائے سے پھر ایک تحریری معاہدہ طے پایا جا چکا ہے۔ جس کے مطابق مدارس رجسٹریشن، 1860 ء کے قانون سوسائٹی ایکٹ کے آزاد ہوکروفاقی وزارت تعلیم و تربیت و پیشہ وارانہ امورکے ساتھ نئے سرے سے رجسٹریشن کا آغاز کرے گا۔ وفاقی وزارت تعلیم و تربیت و پیشہ وارانہ امورکے وزیر موصوف شفقت محمود صاحب کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے…
جنوری 2017 کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کی زیر نگرانی تیار کردہ "پیغام پاکستان” کے کے نام سے نیا بیانیہ تحریری دستاویز کی صورت میں تشکیل دیا گیا جوکہ ریاست پاکستان کے موجودہ رجحان کی ترجمان ہے۔ اس کے بنیادی نقاط مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ، ریاست کے خلاف محاذ آرائی، تخریب و فساد، دہشت گردی اور ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے جیسے مسائل تھے۔ ابتدائی طور پر پاکستان کےمعروف اور جید 1800 اور اب تک 5000 سے زائد علمائے کرام نے "پیغام پاکستان "کی …
