بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور بلا اشتعال فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیک کا نام کیوں دیا جا رہا ہے؟ پروپیگنڈا جدید عہد کا خطرناک ہتھیار ہے۔جھوٹ کبھی سچ کا بدل نہیں ہو سکتا۔پروپیگنڈا کرنے والے البتہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔یہ ایک آرٹ ہے۔ اسے ہنر سے استعمال کیا جاتا ہے۔بے ہنر آدمی کے ہاتھوں کیا گیا کام اپنے تخلیق کار کی فنی کمزوری کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے۔ایسے ہی جیسے بھارت کا پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کا پروپیگنڈا ۔اس سے پہلے بھی وہ نامراد ہوا تھا اور اب بھی اسے دنیا…
Author: طاہریسٰین طاہر
ہمیں سیاسی بلوغت میں ابھی وقت لگے گا ،خاندانی سیاسی نظام کے بجائے ہمیں بہرحال سیاسی جماعتوں کے اندر ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔ اختیارات کا حصول حکومتوں کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر سیاسی و فوجی حکومتوں کا مقصد ان اختیارات کو عوامی مقاصد و مفادات کے لیے استعمال کم اور ذاتی و گروہی مقاصد کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہماری ملکی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ اختیارات کے حصول اور پھر ان کی تقسیم پر فوج،سول حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشمکش بھی رہی۔ یہ کشمکش آج تک جاری ہے۔سادہ…
افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دو مختلف فیصلے دو مختلف ضروریات کے تحت ہوئے۔ ایک فیصلہ وفاقی کابینہ نے کیا اور ایک فیصلہ افغان صدر نے۔ وفاقی کابینہ کا فیصلہ بے شک اتحادیوں کے دباؤ اور میاں صاحب کے نظریاتی لگاؤ کا نتیجہ ہے،جبکہ افغان صدر کا فیصلہ ،افغانوں کی تاریخی طور پہ ثابت شدہ بے وفائی ، ان کی احسان فراموش نفسیات ،بھارتی خواہشات اور خطے میں تبدیل ہوتی سیاسی…
پولیس آفیسر کے مطابق” زیادہ تر بچے ماں باپ کی سختی کی وجہ سے گھر چھوڑ کر گئے تھے اور فی الوقت پنجاب میں کسی قسم کا منظم اغوا کاروں کا گینگ کام نہیں کر رہا” شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ریاست کی ہوا کرتی ہے اور ریاست اپنی یہ ذمہ داری اپنے اہم ترین ادارے حکومت کے ذریعے ادا کرتی ہے۔پاکستان کے شہری مگر اس حوالے سے کم نصیب واقع ہوئے ہیں ۔ریاست اپنی بیشتر بنیادی ذمہ داریاں بھی ادا کرتی نظر نہیں آ رہی۔اس امر میں کلام نہیں کہ شہری خوف میں مبتلا…
طیب اردغان کے ردعمل نے تعلیمی اداروں،سول سروس،پولیس،فوج اور عام افراد میں ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ایک خوف ہے جو اردغان اور ان کی حکومت پر بھی طاری ہے اور اداروں سے لے کراپوزیشن اور عام ترک پر بھی۔ افراد کی طرح معاشرہ بھی خوف کے عالم میں اپنی اجتماعی مثبت صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کامران نہیں ہوتا۔خوف ایک مستقل مصیبت ہے،اس سے چھٹکارے کے لیے اگر مستقل مزاجی اور مثبت رویہ اختیار نہ کیا جائے تو یہ خوف نئی نئی مصیبتوں کو جنم دیتا ہے۔فرد ہو یا معاشرہ،جب تک مثبت اور تعمیری سوچ کے تحت آگے نہیںبڑھتے…
