حالیہ عرصہ کے دوران پاک افغان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سےتجارت کا شعبہ بھی سخت متأثر رہا۔ لیکن اب اس میں بہتری کے امکانات نظر آئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم سالانہ 10 ارب ڈالر تک جاسکتا ہے جس کا زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو ہوگا۔ ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کے نتیجے میں کراچی کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹرید جس کا لگ بھگ 70 فیصد حصہ 2010 کے بعد ایران اور وسط ایشیائی ممالک کے طرف منتقل ہوا تھا اب وہ بھی دوبارہ کراچی کے راستے بحال ہونا شروع…
Author: شمیم شاہد
گو کہ 2016 کے وسط سے شمالی وزیرستان کے طول وعرض میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے شروع ہوتے ہی تشدد اور دہشتگردی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ مگر رواں سال ان واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق ایک سال کے عرصے میں گھات لگا کر قتل کرنے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس دوران 100 کے قریب افراد نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ تشدد کے ان واقعات سے خوفزدہ لوگوں کی پریشانیوں میں اُس وقت اضافہ ہوا جب کالعدم شدت پسند…
خیبر پختونخوا میں گھریلوتشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے مؤثر قانون نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حال ہی میں شمالی ضلع سوات میں ایک رقاصہ کو شوہر نے گولیاں مارکر ہلاک کردیا تھا۔ لگ بھگ چاردنوں کے دوران مینگورہ سوات کی رقاصہ مینہ دوسری خاتون تھیں جن کو شوہر نے گھر یلو ناچاقی کی بنیاد پر قتل کردیا۔ 4 مئی کو پشاور کے علاقے بشیر آباد میں خاتون گلوکارہ ثناء عرف نیلم کو بھی شوہر نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس رپورٹ…
بالآخر ایوانِ زیریں سے وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقوں کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے چھبیسواں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور ہوگیا اور جس طرح قومی اسمبلی میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار نے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ بل بغیر کسی رکاؤٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ سے بھی منظور ہوجائے گا۔ اس ترمیم سے قبائلی اضلاع سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے 16 عام اور پانچ مخصوص نشستوں پر دو جولائی کو ہونے والےانتخابا ت کا سلسلہ رک جائے گا۔ ویسے…
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں سے صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں میں سے اکثریت پر کامیابی حاصل کرلے، اور افغانستان سے ملحقہ ان علاقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کا عمل دخل مفلوج بنادے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم عمران نے تمام علاقوں کے دورے مکمل کرلیے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بلند و بانگ دعوے بھی کیے۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان سمیت کابینہ میں شامل تمام وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی ہر روز گھنٹوں…
حکومتی اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اگر ایک طرف درہ آدم خیل کے کوئلہ کانوں میں حادثات روزمرہ کے معمول بن رہے ہیں بلکہ اس سے سرکاری خزانے کو اب ماہوار کروڑوں روپے کانقصان بھی ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئلہ کی کانوں میں چاہے وہ بلوچستان کی ہوں یا نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں، حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ مگرپشاور کو جنوبی اضلاع سے ملانے والی قبائلی پٹی درہ آدم خیل کی کانوں میں حادثات تواتر سے رُونما ہوتے ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں درہ آدم خیل میں کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں لگ بھگ…
شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر میران شاہ میں پچھلے ہفتے ایک تاریخی جلسہ منعقد کیاگیا۔ اس جلسے میں اگرچہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختون تحفظ تحریک کے سرگرم کارکنوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی تھی مگر شمالی وزیرستان ہی سے شرکاء کی تعداد توقعات سے زیادہ تھی۔ جلسہ گاہ کے پنڈال کے بھر جانے کے بعد لوگ ملحقہ عمارتوں اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر صبح دس بجے سے شام تک مقررین کی باتیں سننے کے لیے ہم تن گوش تھے۔ پختون تحفظ تحریک سے لاکھ اختلاف سہی مگر لگ بھگ دوہفتوں کے…
قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ تو کردیا گیا لیکن حکومتی ادارے ابھی تک اس کے طریقِ کار کا عملی منصوبہ پیش کرنے اور قوانین کی تشکیل میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں پہلے سے رائج سول قوانین کو قبائلی اضلاع تک توسیع دینے میں بھی حکمراں جماعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ سے انضمام کی مخالفت کرنے والوں کے موقف کو تقویت مل رہی ہے اور زیادہ تر سیاسی و انتظامی حلقے اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ انضمام کا فیصلہ جلدبازی میں کیا گیا…
بالآخر پانچ مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر پختون عوام کو درپیش سیاسی، سماجی، معاشی، انتظامی، ثقافتی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے پختونخوا جمہوری اتحاد کے نام سے ایک نیا اتحاد تشکیل دیدیا ہے۔ بالکل اِسی نعرے کی بنیاد پر لگ بھگ 14 مہینوں کے دوران یہ دوسری سیاسی تحریک ہے۔ جنوری 2018 کے اواخر میں کراچی میں پولیس کے جعلی مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل پراحتجاجی مظاہروں کے دوران پختون تحفظ تحریک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اِس تحریک کا نہ صرف ملک بھر کے پختونوں نےبلکہ پاکستان سے باہر افغانوں نے بھی خیرمقدم کیاتھا۔…
امریکہ کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی اور سابق سفیر ڈاکٹر زلمے خلیل زاد نے 12 مارچ 2019 کی شام قطر کے دارلخلافہ دوحہ میں تحریک طالبان افغانستان کے رہنماؤں کے ساتھ 27 فروری سے جاری مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر زلمے اور طالبان کے ترجمان کی جانب سےعلیحدہ علیحدہ بیانات جاری کیے گئے جن کے مطابق فریقین کے مابین چار میں سے دو نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیاہے تاہم انہوں نے مزید غوروفکر اور صلاح مشوروں کے لیے باضابطہ معاہدے کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیا ہے۔ جن دو نکات پر اتفاق…
