پچھلے ہفتے چترال میں تباہ کن سیلاب آیا جس نے علاقے کے طول و عرض میں انفراسٹرکچر کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔ سر شام ایک دوست انباکس میں یوں آدھمکے۔ "یار یہ سیلاب دیکھ کر تم باؤلے ہی ہوجاتے ہو۔ ہاتھ ہولا رکھیے۔ سیلاب پر فیس بکی کمنٹ اور پوسٹ کچھ زیادہ ہورہے ہیں۔” ان کے ساتھ جو بات چیت ہوئی وہ وسیع تر ذاتی مفاد میں شائع نہیں کرسکتا۔ مگر پھر رات کے اس پہر سوچ رہا ہوں کہ واقعی سیلاب کی تصاویر، سیلابی ملبے کے اوپر پڑے بسترے، بستے، دیگر گھریلو اشیا، امدادی کاموں میں مصروف رضاکار، چمکتے…
