گلگت بلتستان میں شیعہ اسماعیلی، شیعہ اثناعشری،نوربخشی اور سُنّی مسلمان فرقوں کی تاریخ کا سرسری سا جائزہ لینے سے ہی یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ مذکورہ چاروں مسلمان فرقے صدیوں تک کسی مذہبی جھگڑے اور فرقہ ورانہ تصادم کے بغیر صلح و آشتی اور باہمی محبّت و روا داری کے ساتھ رہے ہیں۔ جیسا کہ جون بڈلف لکھتے ہیں کہ: ”جن علاقوں میں سنّی اور شیعہ ساتھ رہتے ہیں وہاں وہ ایسے صبر و تحمّل کا مظاہرہ کرتے ہیں جو مسلمانوں کے دوسرے علاقوں میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ آپس میں شادیاں بھی کرتے…
Author: ڈاکٹر نیک عالم راشدؔ
(پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) (دوسری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) یہ حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے کہ مسلمانوں نے، جیسا کہ شروع میں ذکر آچکا ہے، ابتداء ہی سے جدّت پسندی کا اصول اپنالیا ہے۔ خواہ وہ سماجی و ثقافتی معاملہ ہو یا دینی و فکری مسئلہ، ہرشعبے میں ضرورت کے تحت تجدّد (نئے پن) کو اپنالیا ہے، چنانچہ یونان و مصر اور ایران و شام کے فلسفیانہ اور سائنسی معلومات کو مسلمانوں نے لے لیا اور اپنے فلسفے، دینیات اور ادبیات کی تشکیل کے لیے انہیں بروئے کار لایا۔ اس طرح ہندوستان سے…
(پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) بغداد کی عبّاسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے مدِّ مقابل ایک اور خلافت تھی جسے خلافتِ بنو فاطمہ یا دولتِ فاطمیّہ کا نام دیا جاتا ہے اور اس کا دارالخلافہ پہلے قیروان اور اس کے بعدمصر کا شہر قاہرہ تھا۔ اگرچہ ان کی خلافت مذہبی۔ سیاسی استحقاق کی بنیاد پر حاصل کی گئی تھی، کیونکہ ان کا نسلی تعلّق حضرت فاطمہ زہرا ؑکے واسطے سے براہِ ر است نبی آخر الزّمان ﷺ سے تھا، اس لیے خود کو بنو امیہ اور بنو عبّاس سے خلافت کا زیادہ مستحق سمجھتے تھے،…
پاکستان میں روشن خیالی کے تصور پر بحث میں مختلف زاویہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں جن میں سے ایک زاویے پر زیرِنظر مضمون میں تاریخی تناظر میں مفصل نظر ڈالی گئی ہے۔ مقالہ نگار نے روشن خیالی کے مفہوم اوراس کے جدید مغربی پس منظر سے بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ روشن خیالی نے عقل کے آزادانہ استعمال، سائنسی تجربیت اور احترامِ انسانیت کے نظریے کو فروغ دیا۔ بعدازاں دینِ اسلام میں روشن خیالی اور رواداری کے وسیع تصور اور اسکی اہمیت و افادیّت سے بحث کی گئی ہے۔ مقالہ نگار کا مؤقف ہے کہ برِصغیر میں…
پاکستان کے دانشوروں نے نظریۂ ضرورت کے تحت پاکستان جیسے نظریاتی، جغرافیائی اور تزویراتی اہمیّت کی حامل ریاست کی بنیادوں کی حسّاسیت کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے غیر سنجیدگی اور غیر علمی طریقے سے مختلف تشریحات و تعبیرات سامنے لائے۔ کبھی اسلامی نیشنلزم اور کبھی روحانیت پر مبنی پاکستانی نیشنلزم کے نظریات پیش کیے گئے۔ چنانچہ ایک پاکستانی دانشور پی۔ کے۔ خان نے کہا کہ ’’ اسلامی نیشنلزم بنیادی طور پر دوسری قوموں کے نیشنلزم سے مختلف ہے۔‘‘ نیز کہا کہ یہ ایک طرز حیات ہے اور جس میں عوام افلاس اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور پاکستانی صحافی اور دانشور زیڈ۔ اے سلہری کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نیشنلزم منفرد ہے اور نوعیت کے اعتبار سے علاقائی ہونے کے بجائے روحانی ہے۔
انسانی تاریخ میں ایسی شخصیتیں شاذ ہی گزری ہیں جو بیک وقت علمی و ادبی، تخلیقی و تحقیقی اور سماجی و انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔ایسی شاذو نادر شخصیات میں سے ایک برِّ صغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف شخص سر سیّد احمد خان (1817-1898) کی ذات والا صفات بھی ہے۔ بلاشبہ سرسیّد ایک جامع الصفات انسان تھے اور یقیناً وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بجا طور پر ایک صاحبِ طرز ادیب، نامور محقّق، مشہور مؤرّخ بلکہ اردو میں تاریخ نویسی کے بانی، عقائد و کلام…
