Author: ڈاکٹر سید جعفر احمد

ہمارے معاشرے کے فکری ماحول میں جس طرح دیگر بہت سے لفظ اپنی معنویت اور انفرادیت کھو چکے ہیں، اسی طرح ‘دانشور’ کا لفظ بھی ارزانی اور کثرتِ استعمال کے باعث بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے۔ فی الاصل دانشور کون ہوتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر سید جعفر احمد حقیقی اور آزاد فکر، کثیر الشعبہ علمی بنیاد، سماج سے متعلقہ خیالات اور تصورات کا علم ہونا اور بعض دیگر پیشہ ورانہ اور علمی امتیازات کو زیربحث لاتے ہیں۔ ہمارے ہاں دانشوری کی روایت مستحکم نہ ہو پانے کے حوالے سے بھی انھوں نے فکرانگیز نکات اٹھائے ہیں۔ مصنف ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ، کراچی اور ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، سہیل یونیورسٹی، کراچی ہیں۔ (مدیر)

Read More

اگرچہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایک مذہبی ملک یا تھیوکریسی نہیں رہے گا مگر ہمارا یہ خیال ہے کہ بعد کی حکومتیں قائد کے نظریات کی عکاسی کے لیے قومی بیانیہ یا نظریہ تیار کرنے میں ناکام رہیں۔ 

Read More

حال ہی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ’احفاظ الرحمن ایوارڈ برائے جرأتِ اظہار اور آزادیِ صحافت‘ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے تناظر میں آزادیِ اظہار اور صحافت کو درپیش چیلنجز اور ان کے اسباب ومحرکات پر گفتگو کی گئی۔ اس تقریب میں ڈاکٹر سید جعفر احمد نے ’آزادیِ اظہار کے ہم عصر چیلنج‘ کے موضوع پر کلیدی مقالہ پیش کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سماجی علوم کے ممتاز اسکالر ڈاکٹر سید جعفر احمد ’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ‘ کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی کراچی کے ڈین، فیکلٹی…

Read More

پاکستان کے سیاسی کلچر میں گزشتہ چالیس برسوں میں زبردست تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ماضی کی نظریاتی سیاست (وہ جیسی بھی کمزور، مجہول یا مضبوط تھی) اب قصہِ پارینہ ہوچکی۔ سیاسی جماعتیں اب نظریوں سے زیادہ ایسے پروگراموں، منشوروں اور نعروں کے گرد اپنی سیاست استوار کرتی ہیں جن کے ذریعے وہ رائے عامہ کو یقین دلاسکیں کہ وہ برسرِ اقتدار آکر اُن کے فوری معاشی مسائل کو حل کروائیں گی۔ سیاسی جماعتیں اب سڑکیں بنانے، بجلی کی فراہمی، کروڑوں کی تعداد میں درختوں کو اگانے اور ایسے ہی دوسرے وعدوں کے ساتھ میدان میں اُترتی ہیں۔ اقتصادی میدان میں…

Read More

پاکستان کا قیام بہت بلند دعووں کے ساتھ ہوا تھا، بہت خواب تھے جو ہم نے دیکھے تھے۔ خیال یہ تھا کہ  پاکستان ایک فلاحی ریاست ہوگی، اس میں انصاف اور عدل نظر آئے گا۔ اس کے لیے بارہا اسلام کا حوالہ دیا گیا۔ اسلام کے حوالے سے یہ تصور بھی ہمارے ذہنوں میں راسخ تھا کہ یہ سماجی عدل کو فروغ دیتا اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے اسلام ایک رومانس بھی تھا۔ اس لیے دعویٰ کیا گیا کہ یہ ملک اسلام کی یہی تعبیر پیش کرے گا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ…

Read More

سماجی علوم کے ممتاز سکالر پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد، ’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ‘ کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی کراچی کے ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں۔ اس سے قبل جامعہ کراچی کے ’پاکستان سٹڈی سنٹر‘ سے وابستہ رہے۔ ادب، تاریخ اور سیاسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یہی ان کی بیشتر تحریروں کے بنیادی موضوعات ہیں۔ یہ مقالہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس منعقدہ 9 دسمبر 2021ء میں کلیدی مقالے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اس سال آرٹس کونسل…

Read More

ہندوستان کے نوآبادیاتی دور میں ہمارے اکابرین نے سماجی اور سیاسی حوالے سے جو مؤقف اختیار کیے ان کے موزون و مناسب ہونے کے بارے میں آراء وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہیں اور آنے والا ہر زمانہ نئے حالات میں نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ سرسید احمد خان کو دو قومی نظریے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان کے ہاں لفظ "قوم” کے تصور کی ارتقائی صورتوں کا مطالعہ ایک دلچسپ اور انکشافی پہلو رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اسی زاویے سے سرسید کے بیانات کی روشنی میں ان کے ہاں اس لفظ کی تعبیرات کے ارتقا کا مطالعہ کیا ہے جو فکرانگیز بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔

Read More

’تاریخ کا فیصلہ‘ (Judgement of History) معروف تاریخ نویس ڈاکٹر مبارک علی صاحب کی نئی تصنیف ہے۔ یہ اُن کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ (The News) میں وقتاًفوقتاً شائع ہوتے رہے۔ اردو اور انگریزی زبان میں ڈاکٹر صاحب کے اخباری مضامین کی، جب ایک مناسب تعداد جمع ہو جاتی ہے تو وہ ان کو کتابی شکل میں شائع کردیتے ہیں۔اردو میں اس طرح کی اُن کی کتابیں انگریزی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ان کتابوں کی اشاعت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والوں کو یہ سب مضامین بیک نظر دیکھنے کا موقع…

Read More

قراردادِ پاکستان کو منظور ہوئے 80 برس بیت چکے ہیں مگر اس کی مختلف جہات پر مسلسل بات ہوتی رہتی ہے۔ان میں سے سب سے اہم پہلو مسلمانوں کی خودمختاری کا ہے جس کی اساس پر ایک ملک بنانے کے لیے جدوجہد کی گئی۔اس قرارداد کا تاریخی پس منظر یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اپنے قائدین کی سربراہی میں پہلے یہ مطالبہ کرتے رہے تھے کہ مسلم اکثریتی وحدتوں کو خودمختاری فراہم کی جائے۔پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام سیاسی قائدین وماہرین بھی قراردادِ پاکستان کا حوالہ دیتے رہے ہیں کیونکہ یہی استحکامِ پاکستان کا حقیقی راستہ ہے۔قرارداد کی اس جہت کے تاریخی محرکات اور بعدازاں پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اس مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔سماجی علوم کے ممتاز اسکالر پروفیسر ڈاکٹر سیّد جعفر احمد”انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ“کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی(کراچی) کے ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں۔اس سے قبل وہ جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں ۸۱سال تک بطورسربراہ شعبہ خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔

Read More

آزادی کی تحریک کے دوران جداگانہ مسلم تشخص کی علامت ایک اساسی حیثیت رکھتی تھی۔ تاہم پاکستان بننے کے بعد شناخت کی تخصیص کو مختلف غیرروادارطبقات نے اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیاجس کی وجہ سے ملک کے اندر رہنے والی اقلیتیں سب سے زیادہ متأثر ہوئیں اور ان کے لیے حقوق کے مسائل پیدا ہوگئے۔ حتیٰ کہ بانیانِ پاکستان کے افکار کے متعلق بھی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں اور آزادی کے حصول کے اغراض ومقاصد کے حوالے سے ان کے واضح ودوٹوک موقف کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔زیرنظر مضمون میں ڈاکٹرسید جعفراحمد نے یہ وضاحت…

Read More