Author: ڈاکٹر عزیز الرحمن

پاکستان کی سیاست کے ساختیاتی مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ سول ملٹری تعلقات کا ہے۔ اس مسئلے کی بازگشت قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک ہر دور حکومت میں سنائی دیتی ہے اور اسی کے شاخسانے کے طور پر ملک میں مارشل لاء لگتے رہے۔ عام طور پر سویلین بالادستی یا پھر فوجی حکومتوں کے دفاع میں ہمارے ہاں جذباتی باتیں بہت کی جاتی ہے مگر زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے یکطرفہ ٹریفک چلادی جاتی ہے۔  پاکستان کی سیاست میں کسی بھی فریق کی بالادستی کا معاملہ براہ راست اس سوال کے ساتھ…

Read More

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈان اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں یہ کہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کا ٹرائل پاکستان میں مکمل نہیں ہوسکا اور یہ کہ کیا ہمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو ممبئی طرز کے حملوں میں لوگوں کو قتل کرنے کی کھلی چھٹی دینی چاہیئے! اس بیان کے ساتھ ہی میڈیا پر پورے زوروشور سے یہ کمپین شروع ہوگئی ہے کہ نواز شریف نے انڈیا کی خوشنودی کے لئے یہ بیان دیا ہے اور  دراصل یہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی طرف سے…

Read More

محمد بن سلمان کی امریکی/ٹرمپ پالیسی رنگ لا رہی ہے اور صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ اوبامہ دور میں کیے جانے والے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی و یورپی ممالک اور ایران کے درمیان ایران میں خمینی کے انقلاب بعد کے دور میں جو پابندیاں عائد کی گئیں تھی کو بتدریج اٹھانے کے بارے میں تھا۔ اس معاہدے کی رو سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور جواب میں اقتصادی پابندیوں کو ختم کیا جانا تھا۔ ایران کو اس معاہدے کے بعد اپنا تیل فروخت…

Read More

یہ مسئلہ "منظور” کا نہیں ہے بلکہ نامنظور ہونے کا ہے کہ یہ قوم جو پہلے ہی ہر طرح کی عصبیت کی بنیاد پر منقسم ہے اسے ایک نئی شناخت اور عصبیت کے دائرے میں سمیٹ کر ملک کی نظریاتی بنیادوں اور اداروں کو ہدف تنقید بنایا جائے۔ غلطیاں سب ہی سے ہوتی ہیں اور اداروں سے بھی ہوئی ہیں۔ اس وقت بھی سرزد ہورہی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا علاج زہر کو تریاق سمجھ کر کیا جائے۔ منظور پشتین/پاشتین کے جلسوں میں جو سیاسی کلچر پروان چڑھایا جارہا ہے اس کے ڈانڈے اسی…

Read More

حالیہ دنوں پاکستان میں بیانیہ بدلنے اور نیا بیانیہ تشکیل دینے کی بحث نے خاصا زور پکڑا ہے۔ پیغام پاکستان کے نام سے ایک متبادل بیانیہ سامنے بھی آیا ہے جس پر بڑی تعداد میں علماء نے دستخط کیے ہیں اور اس میں ہر قسم کی دہشت گردی اور عسکریت کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ نے میونخ میں سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے بدلتے ہوئے بیانیے کے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ پاکستان میں عسکری کارروائیوں کی غیرمشروط مذمت ضرور ہونی چاہیے اور ریاستی عملداری کے…

Read More

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران جعلی ادوایات کی تیاری کے الزامات کی بنیاد پر اسلام آباد میں قائم ایک دواساز کمپنی ایورسٹ فارماسیوٹیکلز کے مالک کو گرفتار کروا دیا۔ عدالت کے اس فیصلے کی بڑے پیمانے پر تشہیر و تحسین کی جارہی ہے کہ ادوایات جیسی حساس اور ضروری پراڈکٹس بھی اگر جعلی بن رہی ہیں تو یہ امر تشویش کا باعث ہے۔ سپریم کورٹ اگر صحیح معنوں میں جعلی ادویات کا تدارک کر پائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہوسکتی ہے۔ مگر اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ جعلی…

Read More

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے حالیہ دنوں میں ریاض، مدینہ اور مکہ کے ایک عجلت میں کیے گئے سفر کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران پہلے سے کیے گئے متعدد اسفار کے تجربات کی یاد تازہ ہوئی اور خیال آیا کہ کچھ اہم نکات آپ کے ساتھ بھی شئیر کیے جائیں۔ سعودی عرب میں جن دوستوں سے مجھے بات چیت کا موقع ملا ان کی اکثریت ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں سے متفق نظر آئی۔ گو کہ محمد بن سلمان کی معاشی پالیسیاں خاصی سخت اور سماجی تبدیلی کی پالیسی مملکت کی دیرینہ روایتوں سے…

Read More

سپریم کورٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر مثبت اور منفی تبصروں کی بھرمار ہے۔ میرے جیسے کئی لوگ سپریم کورٹ کے حالیہ پے در پے صادر ہونے والے فیصلوں کو مستحسن نظروں سے نہیں دیکھ رہے کہ اس سے سیاست کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ اس سے مجھے جسٹس )ر) افتخارمحمد  چودھری کی عدالتی فعالیت کا دور بھی یاد آتا ہے کہ ہم میں سے کئی لوگ اس وقت چیف کے جانثار بن کر عدالتی فعالیت کی حمایت میں کیسے کیسے دلائل دیا کرتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا مسئلہ ہو یا…

Read More

دو روز قبل اس اعلان کے ساتھ ہی کہ مزید پاکستانی فوجی ٹریننگ کے لیے سعودی عرب بھیجے جائیں گے،ملک بھر میں  ایک شور شرابا شروع ہوگیا ہے۔ سینیٹ کے چئیرمین نے اس حوالے سے وضاحب طلب کر لی ہے اور کئی ممبران مثلا شیریں مزاری اور فرحت اللہ بابر وغیرہ کے تنقیدی بیانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ہمارے لبرل دانشور ایک طرف تو معروضی حقائق کی بات کرتے ہیں اور جذباتی فیصلوں پر مبنی خارجہ پالیسی کو غلط قرار دیتے ہیں۔ مگر جب بھی پاک سعودی تعلقات کی بات آتی ہے تو وہ اپنے تعصبات کے اسیر ہوکر پاکستان…

Read More