Author: عزیز علی داد

افکار کی تاریخ میں، معمول سے ہٹ کر مظاہر (anomalies) نے ہمیشہ مستحکم ذہنوں اور قائم شدہ نظریاتی ڈھانچوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اٹھارویں صدی میں جدیدیت کی پیدائش اور انیسویں صدی میں یورپ پر اس کے غلبے اور بیسویں صدی میں دنیا کے دیگر حصوں تک اس کی عالمگیر توسیع کے بعد، اب مابعد جدید دور میں اس کا فکری ڈھانچہ مختلف قسم کے تضادات اور غیر معمولی سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔ جسے ہم جدید دنیا کہتے ہیں، وہ جدیدیت کی اپنی عکس ہے۔ جدیدیت کے فلسفیانہ بیانیے میں دراڑیں بیسویں صدی کے دوسرے نصف…

Read More

پاکستانی لبرل غلط زمانی اور مغالطے از: عزیز علی داد پاکستان کے موجودہ فکری منظرنامے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ مختلف مکاتب فکر اور نظریات کے مخفی یا ان کے بے سوچ پہلو اور اس بے سوچی سے جنم لینے والے تضادات اب منصہ شہود پر آرہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سارے نئے سوالات "تشکیل” پا رہے ہیں۔ یہاں پہ تشکیل کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ ہمارے سامنے رونما ہونے والے واقعات موجودہ ذہنی و نظری فریم ورک کے فہم میں نہیں آرہے ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ جواب تو…

Read More

پاکستان کی علمی بوالعجبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ مذہبی معاشرہ تو ہے لیکن اس کی جامعات میں تھیولوجی، تقابل ادیان یا دوسرے مذاہب کے متعلق ایک بھی شعبہ نہیں ہے۔ اس کے برخلاف صرف سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز لندن مختلف مذاہب کے متعلق درجن بھر کوررسز آفر کرتا ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ اگر پاکستانی مذہب پہ بولنے پر آئیں تو دنیا کے ہر مذہب کے متعلق مطلق رائے دیں گے، بحث کریں گے، مگر علم ندارد۔ یعنی ہم بغیر علم کے مذہب پرست ہیں۔ اگر آپ…

Read More