زیادہ پرانی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میمو کمشن کی سربراہی کرتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سب کو اچھے لگتے تھے۔ انہوں نے میمو کمشن رپورٹ دی جس میں کہا گیا تھا کہ اُس وقت امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی ملک کے وفادار نہیں۔ تب اس رپورٹ پر مسلم لیگ (ن) اور کچھ دیگر حلقوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ تاہم معزز جج پیپلز پارٹی کو ضرور کھٹکنے لگے۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ نے یہ کیس ختم کردیا۔ مسلم لیگ (ن) کے آخری دورحکومت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کوئٹہ میں ہونے والی…
Author: اعزاز سید
اعزاز سید معروف تحقیقی نامہ نگارہیں، ان کا شمار پاکستانی صحافت کی تاریخ کے چند نمایاں تحقیقی صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے تحقیقی موضوعات پاکستان میں سول فوجی تعلقات ، ان کے اندر اتار چڑھاؤ، پاکستان میں عسکریت پسندی کی تاریخ اور علاقائی تعلقات کا احاطہ کرتے ہیں۔ مختلف قومی و بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں، اوروہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز چینل ’جیو‘ سے وابستہ ہیں۔ ان کے زیرنظر مضمون میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ پاک سعودی تعلقات کی حیثیت اور…
26 نومبر 2008 کو بھارتی شہرممبئی میں حملہ ہوا تو الزام پاکستان پر لگا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا پاکستان پر حملے کی باتیں کرنے لگا۔ بھارتی پولیس ممبئی حملے میں ملوث ایک شخص اجمل قصاب کو زندہ پکڑنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ بھارت نے ابتدائی تحقیقات کیں اور 5 جنوری 2009 کو ایک ” ڈوزئیر” پاکستان کو ارسال کردیا۔ جس میں ممبئی حملوں کی ذمہ داری لشکرطیبہ پر عائد کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اجمل قصاب اور اسکے ساتھی پاکستانی شہری تھے۔ معاملہ پاکستان میں آیا تو اس وقت قومی سلامتی کمیٹی کے مشیر میجرجنرل محمود درانی…
پاکستانی صحافت میں آجکل پوری تصویر دکھائی جاتی ہے نہ مکمل خبرسامنے آتی ہے ۔ مکمل سچ مکمل کنڑول میں چلا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا بلکہ آج پیدا ہونے والی صورتحال ایک بتدریج عمل کا نتیجہ ہے۔ جنرل مشرف کے دور حکومت سے اب تک صحافت تین بنیادی ادوار سے گذر چکی ہے ۔ تیسرا دور مکمل ختم تو نہیں ہوا مگر چوتھا دور چپکے سے جنم لے چکا ہے۔ پہلادور2002 سے2007 پر محیط ہے جو نئے دور کی صحافت کا آغاز ہے ۔ دوسرا دور2007سے2014کا دور ہے جو کافی حد…
زیر نظر مضمون اسی صفحہ پر 18فروری 2018 کو شائع ہوچکا ہے۔ مگر ننھی زینب کا قاتل آج اپنے انجام کو پہنچا ہے۔ قارئین کی دلچپی کے پیش نظراس مضمون کو دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔(ادارہ تجزیات) معروف صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں ننھی زینب کے محلے روڈ کوٹ میں داخل ہوں تو گلی میں بارہ ربیع الاول پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں کی گئی سجاوٹ آج بھی موجود ہے۔ انہی رستوں میں ننھی زینب کبھی اپنی مسکراہٹیں بکھیرا کرتی تھی،مگر اب اس سجاوٹ میں زینب کو انصاف دلانے کے لیے لگے…
سات اگست کی صبح نگران وزیرداخلہ اعظم خان سے رابطے کا خیال آیا۔ سوچا پتہ کیا جائے کہ وزیراعظم کے بعد بظاہر سب سے طاقتور عہدے پر براجمان شخص کیا جانتا ہے ۔ فون پر رابطہ کیا اور کچھ دیر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اعظم خان سابق بیوروکریٹ ہیں جنہوں نے اپنا کیرئیرایوب خان کے دور میں شروع کیا تھا۔ الزامات سے دور نیک نامی کی نوکری کی اور رئٹائر ہوئے۔ اپنی بات کر جاتے ہیں اور اپنے دائرہ کار اور دائرہ اختیاردونوں کو بھولتے بھی نہیں۔ باتیں جاری تھیں کہ میں نے پوچھا خان صاحب بتائیں کہ اپوزیشن…
یہ اس ریاست کی کہانی ہے جہاں کوئی دوسرا نہیں صرف کمپنی طاقتور ہے۔ اس کے سامنے کوئی ٹھہرسکا نہ ٹھہر پایا۔ ریاست میں کمپنی مال و دولت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اثرورسوخ اور طاقت سے بھی جانی جاتی ہے ۔ اس کے بہت سے منصوبے ہیں اور اگر کوئی اس کے کسی منصوبے کی راہ میں حائل ہو تو اسکی خیر نہیں۔ کمپنی نے ہر صورت اپنا کام کرنا ہے ، مقصد صرف کمپنی کا مفاد ہے اور مفاد ہر صورت حاصل کیا جائے گا ، ایسے تیسے یا جیسے۔ قانون ،قاعدہ سب ردی۔ کمپنی کوئی رکاوٹ پسند…
نوٹ : یہ مضمون دی نیوز کے لیے اعزاز سید نے تحریر کیا تھا۔ تاہم اسکا اردو ترجمہ پہلی بار کیا گیا ہے ۔ وقت اور حالات کی تبدیلی کے باعث ہم نے اعزازسید کی مشاورت سے مضمون میں کچھ تبدیلیاں اور نئی معلومات بھی شامل کیں ہیں۔ (ایڈیٹر) اسلام آبا دمیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سویلین حساس ادارے، انٹیلی جنس بیورو کا صدر دفتر انٹیلی جنس بیورو ہیڈ کوارٹر کی بجائے "کے” بلاک کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ وفاقی دارالحکومت میں واقع مارگلہ کی پرشکوہ پہاڑیوں کی جانب سیکرٹریٹ کے آخری کونے میں ایک چوٹی پر…
میں نے کبھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ میرے مذہبی عقائد پر کچھ کہے یوسف رضا گیلانی کی برطرفی غلط تھی ، ہمیں اس کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے تھی مریم نے میرے ساتھ مشکل وقت نبھایا شادی کے بعد مریم نواز لاہور میں اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر مانسہرہ میں اپنے سسرال میں دس مرلے کے مکان میں منتقل ہوگئیں ۔ نئے نویلے جوڑے کے پاس سوزوکی کی 1000 سی سی کار تھی کیونکہ اس وقت کیپٹن صفدر کی یہی استطاعت تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ سب اس کے لئے مشکل ہے مگر اس نے…
عبوری وزیر اعظم غلام مصطفیٰ نے انہیں وزیر اعظم نواز شریف سے متعارف کروایا۔ کیپٹن صفدر اور جنرل کیانی نے دونوں وزرائے اعظم جتوئی اور شریف کے ساتھ کام کیا۔ ان کی شادی سے پہلے خاتون اول کلثوم نواز اور وزیر اعظم نواز شریف ان کے گھرآئے۔ ان کی شادی ارینج تھی تاہم اپوزیشن نے کئی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔ اسلام آباد : 6 اگست1990 کو عین اسی دن جس دن صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بے نظیر کی حکومت کو برطرف کیا پاکستان فوج کے111 بریگیڈ کے ایک نوجوان کپتان محمد صفدر کی عبوری وزیر اعظم…
