سماجی، معاشی اور سیاسی سطح پر ان تمام مسائل اور مشکلات کے باوجود جن کا پاکستان کو سامنا رہتا ہے، یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ بین الاقرامی شہرت رکھنے والے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ملک کی حالت اس کے بارے میں عالمی سطح پر بننے والے تأثر اور درجہ بندیوں کے برعکس بہتر نظر آتی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ ملک میں کس کی حکومت قائم تھی پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت اور بحرانوں کے دوران لچکدار اور سخت جان ہونے کا مظاہرہ کا ہے۔ دہشت گردی کا مسئلہ ہو، زلزلہ اور سیلاب کے اوقات ہوں،…
Author: افشاں صبوحی
بیت جانے والی دہائی پاکستان کے لئے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ گزشتہ 72 سال کی ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک پوری دہائی جمہوری دور میں گزری( کل کیا ہویہ اللہ جانتا ہے)۔ یہ بذات خود کرب ناک ماضی سے چھٹکارے کی ایک علامت ہے اور اس امر کا حق دار ہے کہ اسے منایا جائے۔ تاہم کئی سوالات باقی رہ جاتے ہیں مثلاََ کیا جمہوریت کا غیر منقطع دور اپنے وعدے پورے کرسکا؟ آزادی اظہار رائے اور ترقی کی فراہمی؟ کیا اس کی وجہ سے لوگوں کی معاشی مشکلات کم ہوئیں اور انہیں ایک متناسب…
پاکستان یکے بعد دیگرے بحرانوں کی زد میں ہے۔ یہ درست ہے کہ تمام اشاریے ایک ہی سمت نہیں جارہے، تاہم جمہوری عمل کے اندر سیاسی خلفشار کا جو ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اُس نے ملک کے اقتصادی منظرنامے پر ناامیدی اور مایوسی کا غبار ڈال دیا ہے۔ تواتر کے ساتھ حکومتی مشینری کے سامنے آنے والی غیرحوصلہ افزا خبروں کی لہرنے ملک میں سرمایہ کاری کرسکنے والے عناصر کی ہمت پست کی ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے کہ جب آئی ایم ایف نے چند ہفتے قبل ہی پاکستان کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے…
گذشتہ سے پیوستہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی اسٹاف رپورٹ سے پاک چین اقتصادی راہداری کے سورماؤں میں اطمینان کی لہر دوڑی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ چین نے بھی سکون کا سانس لیا ہے جواپنے’ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو‘ منصوبے کی پہلی کلیدی منزل کے طور پر پاکستان کا انتخاب کر چکا ہے۔ چین کے اس منصوبے کا مقصد اپنی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنا اور مستقبل کے عزائم کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ اگر یہ محض اتفاق ہے تو انتہائی معنی خیز ہے۔ایک طویل خاموشی کے بعد پاک چین اقتصادی…
آٹھویں مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل کے لیے نویں قومی مالیاتی کمیشن کے مشاورتی عمل کا آغاز رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔مالیاتی مرکزیت کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو انتہائی احتیاط اور سمجھداری سے متنازعہ ایجنڈے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ میسر شواہد کے مطابق اس حوالے سے وفاق اور صوبوں میں سیاسی بیان بازی کے علاوہ عملاً کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔اس حقیقت کے باوجود آئندہ ایوارڈ سےبین الصوبائی اور صوبوں اور وفاق کے مابین تقسیمِ وسائل کے نظم میں تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے۔نئی مردم…
پاکستان کے تجارتی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے وزارتِ تجارت کے کرتا دھرتا ؤں نے بلند وبانگ دعوؤں ، جہاں گردیوں اوراکتا دینے والے لایعنی اجلاسوں کے سوا ملک کی کوئی خدمت سر انجام نہیں دی۔ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ، حصص گر گئے ہیں، تجارتی شرائط وضوابط شراکت داروں کے رحم و کرم پر ہیں اور علاقائی تعاون کا پیش نامہ (ایجنڈا) سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ نجی تجارتی شعبہ اور اس کے نمائندہ ادارے اس صورتِ حال سے پہلو تہی نہیں کر سکتے مگر وہ مناسب نفع پر مبنی تجارتی حکمتِ عملی پر اکتفا کرنے کے…
سیاست سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا ایسانجی شعبہ ہے جس میں کوئی بھی بلا خوف سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ یہ ملکی طاقت کی حرکیات سے آگاہی رکھتا اورمشکل اوقات میں اس کا رخ متعین کرنے کی طرف ان کی جبلی رہنمائی کرتا ہے ۔ ایک اجلاس میں ابتر کاروباری ماحول کیلئے سیاسی رہنماﺅں کو ذمہ دار ٹھہرانا سپہ سالار اعلیٰ کو نظامِ سلطنت سنبھالنے کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر بصیرت افروز تھی۔کیا یہ ملکی سلامتی کے کسی نئے لائحہِ عمل کی عکاس تھی؟ مصدقہ معلومات کی عدم…
تاہم پاکستان کی معیشت میں چین کی بڑھتی ہوئی فعال شراکت سے افرادی قوت کو کھپانے کے ابھرتے قومی امکانات دیکھے جار ہے۔ کارکردگی خود کو منواتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شامل توانائی، انفراسٹرکچر اور گوادر سمیت دیگر صنعتی منصوبوں پر کام کے آغاز نے ناقدین کی بازگشت کو دبا دیا ہے اور معاشرے پر اپنی افادیت ظاہر کرنا شروع کردی ہے۔جیسا کہ پاکستان میں افرادی قوت کو درپیش مانع زبان مسائل اور مہارت سازی میں فرق جیسی مشکلات کا سدباب کرنے کے لیے منظم میگا سماجی اقتصادی منصوبے کا فقدان…
پاکستانی تاجر دہشت گردی کو اپنے کاروباروں کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں جس سے نہ صرف ملک کا بیرونی دنیا میں تاثر مجروح ہورہا ہے بلکہ اس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حاصلہ شکنی بھی ہوتی ہے ۔ پاکستان کے کاروباری طبقے کو کوئٹہ دھماکے سے ایک بار پھر سخت دھچکا لگا ہے ۔والدین خوف زدہ ہیں کمپنیاں اور ان کے ملک سے باہر شراکت دار اس انتظار میں ہیں کہ حالات کب بہتر ہوتے ہیں انتظامیہ کب ملک میں امن و امان بحال کرتی ہے ۔کئی معروف سرمایہ کاریہ گمان کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کی…
تمام علاقوں اور طبقوں کے باورچی خانوں کے بجٹ کے حجم میں اضافے کے باعث ایک اندازے کے مطابق امسال رمضان میں550ارب روپوں کا کا روبار ہوا۔ ہمیشہ کی روایت برقرار رکھتے ہوئے،اس رمضان میں بھی کھانے پینے کی اشیاءکی زائد قیمتوں کی وجہ سے گھریلو ماہانہ اخراجات کی سطح بلند ہی رہی۔تمام علاقوں اور طبقوں کے باورچی خانوں کے بجٹ کے حجم میں اضافے کے باعث ایک اندازے کے مطابق امسال رمضان میں550ارب روپوں کا کا روبار ہوا۔ اگر ہم اس تصور کو قبول بھی کرتے ہیں تو اس سے جنم لینے والے سوالوں کاجواب دینا آسان نہیں ہوگا۔اتنا…
