Author: افشاں صبوحی

کاروباری طبقہ زور دے رہا ہے کہ سیاستدانوں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کریں۔اپنی جعلی اخلاقیات کو چھوڑ کر ترقی کا سوچیں۔وعظ اور تقریروں سے لوگوں کے پیٹ نہیں بھرتے ،روزگارسے ہی ایسا ممکن ہوتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے کاروباری طبقے نے مطلق العنانی کو جمہورت پر ترجیح دی۔ نواز حکومت کی پالیسوں پر تحفظات کے باوجود اس بار بزنس سیکٹر نے وزیراعظم کے خلاف مہم جوئی کی حوصلہ شکنی کی۔ ان کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معیشت کو فائدے سے…

Read More