Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بچوں کا جنسی استحصال، ہم کیا کرسکتے ہیں؟
    کالم

    بچوں کا جنسی استحصال، ہم کیا کرسکتے ہیں؟

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاکتوبر 11, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ سال پاکستان میں کم عمر بچوں/بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 4000 واقعات رونما ہوئے۔ یہ وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے، جو واقعات رپورٹ نہ ہو سکے ان کی تعداد کتنی ہے؟ اس کا کسی کوعلم نہیں ہے۔ واقعات رپورٹ نہ کرنے کی والدین نے دو وجوہات بتائی ہیں (یہ وہ والدین ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ خاموشی اختیار کی اور بعد میں زبان کھولی) پہلی وجہ: انہوں نے بتایا کہ بد نامی کے ڈر سے ہم خاموش رہے۔ دوسری وجہ: پولیس کا غیر انسانی اور سنگدلانہ رویہ ہے جس کی وجہ سے وہ خاموش رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو والدین اپنے بچوں کا کیس تھانہ میں لے کر گئے ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اسے دیکھ کر ہم خاموش ہو گئے۔ ان دو کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں۔ فی الحال ان دو پہ ہم بات کرتے ہیں۔

    پہلی وجہ ہمارے سماجی رویوں پہ سوالیہ نشان ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی ناکردہ گناہ کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ بچے یا بچی نے معاشرے میں رہنا ہے، اس نے تعلیم حاصل کرنی ہے، اس نے کاروبار کرنا ہے اس کا رشتہ کہیں طے پانا ہے، اس کے سماجی تعلقات قائم ہونے ہیں۔ وہ تمام زندگی اسی بدنامی کے ساتھ جیتا ہے کہ اس کے ساتھ فلاں وقت اورعمر میں یہ فعلِ بد ہوا تھا۔ اگر لڑکی ہے تو اس کے ساتھ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہوتا ہے کہ اس نے کسی کی بیوی اور بہو بننا ہے۔ والدین اس خیال سے رپورٹ نہیں کرتے کہ اس الزام کی وجہ سے ہماری بیٹی کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔ حالانکہ وہ بے گناہ ہے اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوا،جبراً ہوا۔

    اس طرح والدین کی خاموشی اور تھانے نہ جانا ہمارے نظام عدل کی کارکردگی پہ عدم اطمینان کا اظہار ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ملزم سیشن عدالتوں میں گرفتار ہوتا اور ہائی یا سپریم کورٹ سے رہا ہو جاتا ہے۔ عدل و انصاف کے حصول کے لئے لوگوں کی زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے حق سے محروم رہتے ہیں۔ دادا کا کیس لے کر پوتا عدالتوں میں ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ دیوانی مقدموں میں لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن داد رسی نہیں ہوتی۔

    پاکستان میں جنسی زیادتی کے بڑھتے کیسز کے باعث کچھ ذمہ داریاں بحیثیت فرد ہم پہ عائد ہوتی ہیں اور کچھ ذمہ داریاں بحیثیت معاشرہ لازم ہوتی ہیں۔

    کسی دور میں محلے اور علاقے میں سب ایک دوسرے کے بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ صرف اپنے بڑوں کا نہیں بلکہ سب کے بڑوں  کا احترام اور ان کا ڈر ہوتا تھا۔ اس کلچر کو بھی زندہ کرنے کی ضرورت ہے

    ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کریں، ان کی حرکات و سکنات پہ نظر رکھیں، ان کے آنے جانے کے اوقات کا خیال رکھیں، ان کے سکول اور کالج میں ان کی مصروفیات سے باخبر رہیں، اپنے بچوں کی عادات اور طرز زندگی کا صرف جائزہ نہ لیں بلکہ ان کی بہتر تربیت کے لئے وقت نکالیں اور ان کے نفسیاتی رویوں کو بھی گہری نظروں سے دیکھیں۔ یہ ذمہ داری ہر باپ اور ہر ماں کی ہے۔

    بحیثیت معاشرہ ہمیں دوسرے کے بچے اور بچی کو اپنی اولاد خیال کرنا چاہیے۔ کبھی کسی معاملے کو اس وجہ سے Ignore نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور کی اولاد ہے۔

    کسی دور میں، محلے اور علاقے میں سب ایک دوسرے کے بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ صرف اپنے بڑوں کا نہیں بلکہ سب کے بڑوں  کا احترام اور ان کا ڈر ہوتا تھا۔ اس کلچر کو بھی زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گلی کوچوں میں آوارہ پھرنے والے بچوں یا نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی اداروں سے باہر ہے۔ ان کی اکثریت جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی یا بناتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو سکول بھیجیں۔ اگر ان کے سکول جانے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ جنسی جرائم کی ایک بڑی وجہ چائلڈ لیبر ہے۔ اگر کسی گھر میں کم عمر بچی یا بچہ ملازم ہے تو یہ فعل غیر قانونی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس حوالے سے پولیس کو اطلاع کریں یا اس خاندان کو اس غیر قانونی فعل سے مطلع کریں تاکہ وہ اس سے باز آئے۔

    ہم نے گھر بڑے بنا لیے، ہر طرح کی سہولت جمع کرلی لیکن ایک دوسرے سے بے پرواہ ہو گئے، ہمدردی کی جگہ بے حسی، دوستی کی جگہ لا تعلقی اور نگرانی کی جگہ بے پرواہی نے لے لی ہے۔ ہم نے سکھ کے ساتھ اپنے دکھ بھی علیحدہ کر لیے ہیں۔ جب سکھ علیحدہ ہوئے تو دکھ بھی علیحدہ ہو گئے۔ اس خیال سے بے پروا ہو گئے کہ یہ آگ دوسرے کے گھر میں لگی ہے میرا گھر تو محفوظ ہے حالانکہ وہ آگ ایک روز میرے گھر بھی پہنچ سکتی ہے۔ دولت اور سٹیٹس کی دوڑ میں، ہم سادہ اور آسان نکاح کی روایت کو بھول گئے اور ہمارے سماج میں نکاح مشکل اور مہنگے ہو گئے۔ اپنے بچے اور بچی کے لئے جہیز اور ولیمہ کے انتظام میں وقت اتنا بیت جاتا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری نوجوان نسل کس راہ پہ چل چکی ہے۔ یہ معاشرے کے ہر فرد امیر و غریب اور متوسط طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کے نکاح کو سادہ اور آسان بنائیں تاکہ خوشی اور مسرّت کا محور انسانی رویے اور حُسن سلوک بنیں، دولت اور سرمایہ نہ بنیں۔

    انسان کے لیے قدرت نے فطرت کو پیدا کیا ہے۔ اگر اس پہ عمل آسان نہ ہو تو انسان پھر غیر فطری اور بے رحمی کے راستے اختیار کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کا ذمہ دار فقط فرد نہیں بلکہ پورا سماج ہوتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہمارے سکول، بچے اور ڈاکٹر روبنسن
    Next Article غزوہ ہند کی روایات
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by