Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کشمیر کا مسئلہ اور طاقت کا سوال
    کالم

    کشمیر کا مسئلہ اور طاقت کا سوال

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولستمبر 3, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل خواہ وہ سیاسی ہوں یا علاقائی ان کا حل "طاقت” سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہاں "طاقت” سے میری مراد مثبت ہے، منفی نہیں۔ اگر ایک قوم تعلیمی و سائنسی، تجارتی و سفارتی اور سیاسی و معاشی استحکام حاصل کرتی ہے تو اس کی آواز نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ  دنیا اس کی ہمنوا بھی بنتی ہے۔ ورنہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو قوم اپنے موجودہ حاصل کردہ خطہ زمین کو خوشحالی اور استحکام نہیں دے سکی وہ مزید کچھ کرنے کی اہلیت کیسے رکھ سکتی ہے؟

    مسئلہ کشمیر ایک خاص علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ انسانیت اور عالمی برادری کا نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کا بن کر رہ گیا ہے۔ سال ہا سال سے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ظلم کی یا آزاد نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے اکثر مسلمان ہیں۔ اس ظلم و جبر کی وجہ صرف اسلام دشمنی ہے۔ ایک طرف عالَم کفر ہے اور دوسری طرف عالَم اسلام۔ اس دعوے کے مقابل اگر ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے جہاں مسلمانوں پہ ظلم ہوا وہاں اقوام متحدہ نے ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور امریکہ مدد کے لیے بھی آیا۔ جہاں جہاں کامیاب سفارت کاری ہوئی وہاں مغرب نے حمایت بھی کی۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مغلوب کو ہمیشہ حاکم سے شکایت ہوتی ہے۔ بلکہ ان پہ جانبداری کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک نفسیات ہے کہ وہ حق نہ ملنے کو ظلم خیال کرتا ہے لیکن جب حق دیا جائے تو پھر اس حق کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو اس کے مقابل دعویدار کا ہوتا ہے۔ وہ اسے ظلم خیال نہیں کرتا لیکن اپنے ساتھ کی ہوئی حق تلفی کو چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے یا ہورہا ہے۔

    پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور امن و امان کی صورت حال ہمیں اس قابل نہیں چھوڑتی کہ ہم دنیا سے ڈٹ کر بات کر سکیں

    سب سے پہلے اس رویے پہ غور اور اسے Review کرنے کی ضرورت ہے کہ آیاکہ ہم جس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، وہ مسئلہ کیا ہے؟ اور وہ مسئلہ فقط ایک خاص قوم کا ہے یا وہ ایک علاقہ اور خطے کا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر میں رہنے والے لوگوں پہ ظلم و جبر کا معاملہ سال ہا سال سے جاری ہے۔ لیوکون ییو (Lew Kuan Yew) نے اپنی کتاب From Third World To First میں مختلف ممالک کے سربراہان سے تعلقات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں نہروسے لے کر نرسیمہا راؤ اور پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے وزرائے اعظم(نواز شریف،بے نظیر بھٹو)تک سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ وہ پاکستان کی داخلی سیاست پہ بھی مختصر تبصرہ کرتا ہے لیوکون کو جدید سنگاپور کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔

    اس کتاب کا بطور مثال حوالہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح لیو پاکستان کی تجارت و سیاست کا ذکر کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے دنیا ہمارے داخلی معاملات سے بخوبی واقف ہے۔ ہمارے نقائص اور کمزوریاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ دنیا ہم سے ہماری صلاحیت و اہلیت کا درست استعمال چاہتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور امن و امان کی صورت حال ہمیں اس قابل نہیں چھوڑتی کہ ہم دنیا سے ڈٹ کر بات کر سکیں۔ ہمارے مسئلے ہیں کہ شیطان کی آنت کی طرح بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ہم ان مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے "توجہ ہٹاؤ” پالیسی اختیار کر کے ایک نئے مسئلے کا Shelter ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔ عوام روز بروز مہنگائی، غربت اور نفسیاتی امراض کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

    خدانخواستہ حالت جنگ میں ایسی قوم یا ملک کتنا وقت  Servive کر پائے گا جس ملک کے اندرونی حالات مستحکم نہ ہوں۔ جنگیں کمیت کے زیادہ فرق سے لڑی جا سکتی ہیں لیکن کیفیت کے زیادہ فرق سے لڑنا نا ممکن ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے مستقل اور دیرپا حل کے لیے ہمیں دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان سیاست، معیشت اور تعلیم میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکیا اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی کا خواب دیکھا جاسکتا ہے؟
    Next Article مزاحمتی اور علیحدگی پسند تحریکوں کا مستقبل
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by