Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بلوچستان کے طلبہ بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں
    کالم

    بلوچستان کے طلبہ بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں

    گہرام اسلم بلوچBy گہرام اسلم بلوچجولائی 27, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے لے کر بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے تک، شروع سے ہی بلوچ نوجوانوں کو تعلیم کے میدان سے دور رکھا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طلبہ اپنے حقوق کے لیے جب تک سڑکوں پہ نہیں نکلتے اس وقت تک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی سُنی جائے۔ بلوچستان میں تعلیمی مسائل ویسے تو دوچار نہیں ہیں لیکن یہاں امتحانات کے بعد نتائج کی عدم شفافیت کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگتا ہے۔ چاہے پبلک سروس کمیشن کے ہوں یا دیگر مقابلہ جاتی امتحانات، سب جگہ شکوک و شبہات موجود ہوتے ہیں۔ نتائج پر کسی کو اطمینان نہیں ہوتا۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حالیہ نتائج میں بھی بے شمار طلبہ و طالبات متاثر ہوئے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔

    ستر سال بعد بلوچستان جیسے ہر لحاظ سے پسماندہ صوبہ میں میں گزشتہ دور حکومت میں تین میڈیکل کالجز جھالاوان، مکران اور لورلائی  منظورہوئے اور بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ تمام کالجز کے پرنسپلز بھی تعینات ہوئے۔ داخلہ ٹیسٹ کا مرحلہ  مکمل ہو۔ ایک بیچ تعلیمی سلسلہ مکمل بھی کرنے والا ہے۔ مگر ابھی ہونے والے ٹیسٹ کے بعد اچانک PMDC (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل  کونسل)نے بلوچستان کے لیے ایک مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ تینوں کالجز  پی ایم ڈی سی کے شرائط وضوابط کوپورا نہیں کر رہے ہیں لہذا رجسٹریشن نہیں ہے تو ملازمین کو بھرتی کرنا بھی کالعدم ہوگا اور اس کو بنیاد بنا کر حتمی میرٹ لسٹ آویزاں کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔

     کیا یہ بلوچستان کی ہر نسل کے مقدر میں لکھا ہے کہ اسے اپنے ہرحق کے لیے سڑکوں پہ دھرنا دینا ہوگا؟

    جس ادارے کا ایک پرنسپل لاکھوں روپے تنخواہ لے رہا ہے اور باقی ملازمین بھی مراعات وصول کررہے تھے، اب اس میں یہ نیا فیصلہ کر کے کیا حاصل کیا جارہا ہے؟ اور کیا یہ صوبے اور ملک کے کمزور بجٹ پہ بوجھ نہیں ہے؟ جن طلبہ و طالبات کو اپنی کلاسوں میں ہونا تھا وہ نوجوان اب پریس کلب کوئٹہ کے سامنے بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں۔ ان کے والدین پہ کیا بیت رہی ہو گی۔ کتنوں کے والدین نے اپنے بچوں کو جفاکش محنت مزدوری کرکے  پڑھایا ہے، مگر اس معاشرے کے حکمرانوں کوکوئی پروا نہیں ہے۔ چند متعلقہ افسران اپنے ذاتی مفادات اور انا کی خاطر طلبہ کی تعلیم اور مستقبل کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ بلوچستان کی ہر نسل کے مقدر میں لکھا ہے کہ اسے  اپنے ہرحق کے لیے سڑکوں پہ دھرنا دینا ہوگا؟

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر آل میڈیکل کالجز کےمتاثرہ طلبہ و طالبات کے کیمپ کے برابر میں شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے فارماسسٹس بھی بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل  بولان میڈیکل کالج بی ایم سی کے ایک طالب یوسف پرکانی نےاس نظام سے تنگ آکر خود کشی کر لی۔ بلوچستان کے طالب علم اس سے زیادہ قربانی نہیں دے سکتے۔ اشرافیہ سے التجا ہے کہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ  کر ان طلبہ کا کچھ خیال کریں۔

    بلوچ نوجوان پڑھنا چاہتا ہے۔ اسے کم ازکم یہ حق تو دیا جائے۔ اگر طلبہ کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کسی اور صوبے میں ہوتی تو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر ایک زبردست احتجاج شروع ہوتا۔ پورا ملک ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا۔ اس خبر کو اہم سمجھا جاتا، لیکن یہ بلوچستان کی خبر ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر تین کالجز کے طلبہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں۔ ہم صرف درخواست اور امید کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی بے چینی پر دھیان دیا جائے۔ ان کے پڑھنے کے حق کو تسلیم کیا جائے اور اس سے متعلقہ مسائل حل کیے جائیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپولیس کو مزید کتنے اختیارات چاہئیں؟
    Next Article عالمگیریت کی طرف پیش رفت اور مذاہب کا مستقبل (2)
    گہرام اسلم بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by