Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پاک امریکا تعلقات کی بحالی کیسے ممکن ہے؟
    کالم

    پاک امریکا تعلقات کی بحالی کیسے ممکن ہے؟

    اسلم اعوانBy اسلم اعوانجولائی 22, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت جنوبی ایشیا کے امن اور سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔ دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی کی حامل ایٹمی قوت اور طاقتور جہادی نظریات کا مرکز ہونے کے علاوہ اس کرہ ارض کی اہم ترین جغرافیائی پوزیشن رکھنے والی یہ قوم عالمی سیاست پہ اثرانداز ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پہ اگلے دس سالوں میں مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں آنے والی وہ ممکنہ تبدیلیاں، جن سے پوری دنیا کا مستقبل معلق ہو گا، پاکستان کے کردار سے جڑی نظر آتی ہیں (خود پاکستان کا مستقبل بھی انہی عالمی تنازعات کے انجام سے وابستہ رہے گا)۔

    بین الاقوامی امور کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں وار آن ٹیرر کے اہم اتحادی ہونے کے باوجود خطہ میں پاکستانی مفادات کو پس پشت ڈال کے امریکہ نے انڈیا کو غیر معمولی پذیرائی دی، جسے پاکستان کی قربانیوں کی ناقدری اور اس کے کردار کو غیر اہم ثابت کرنے کی شعوری کوشش سمجھا گیا۔ شاید اسی طرز عمل کی بدولت دونوں ملکوں کے مابین باہمی اعتماد کے رشتے کمزور ہوئے۔ دوسرے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن بارے دونوں ملکوں کے نقطہ ہائے نظر میں اختلاف اور مفادات میں کچھ ٹکراو کی وجہ سے بھی پچھلے اٹھارہ سالوں میں پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری بڑھتی رہی جس سے دونوں مملکتوں کے درمیان سفارتی تعلقات اور وسیع ملٹری معاونت محدود ہوتی گئی۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بتدریج پاکستان کی فوجی امداد بند اور آرمی افسران کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ معطل کر کے دباو ڈالنے کے آخری حربہ کو بھی آزما ڈالا۔ ادھر امریکہ کے زیر اثر کام کرنے والی عالمی اسٹبلشمنٹ نے پاکستان کا معاشی گھیراو کرنے کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے زیردام لانے کی خاطر دہشتگردوں کی مبینہ مالی معاونت کے الزام میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں بھی ڈلوایا۔

    ان حالات میں پاکستان نے اپنی قومی سلامتی اور تزویری مفادات کے تحفظ کے پیش نظر نہایت محتاط انداز میں پالیسی شفٹ کے ذریعے امریکہ کی بجائے علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے معاشی و دفاعی رشتوں کی استواری کے ذریعے متبادل راہیں تلاش کر لیں۔ چنانچہ دفاعی ضرورتوں اور اقتصادی روابط کے حوالے سے اب مغرب پہ پاکستان کا انحصار کم ہو گیا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ، تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ اور روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اسی پالسی شفٹ کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ تاہم اس اعصاب شکن سفارتی و نفسیاتی کشمکش کے باوجود امریکی انتظامیہ کے عالمی مفادات اسے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی پہ مجبور کررہے ہیں لیکن پاکستان کے لئے اب پرانی راہوں پہ واپس پلٹنا زیادہ پُرخطر اور دشوار ثابت ہو گا ہاں البتہ اس نئی صورت حال میں موجودہ سطح پہ تعلقات میں کہیں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، چنانچہ یہ سوچنا کہ وزیراعظم عمران خان امریکی انتظامیہ کے ہرتقاضے کو پورا کرنے کی حامی بھر لیں گے ممکن نظر نہیں آتا۔

    پاکستان امریکہ کے ساتھ کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن کسی بھی علاقائی تنازعہ میں الجھنے سے قبل وہ اپنی قومی سلامتی اور خطہ کے مفادات کو پیش نظر ضرور رکھے گا

    پاکستان امریکہ کے ساتھ کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن کسی بھی علاقائی تنازعہ میں الجھنے سے قبل وہ اپنی قومی سلامتی اور خطہ کے مفادات کو پیش نظر ضرور رکھے گا۔ اس وقت امریکہ کی پہلی ترجیح افغان جنگ سے دامن چھڑانا ہوگی، جہاں پاکستانی تعاون کے بغیر اس کی محفوظ واپسی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان بھی افغان جنگ کے خاتمہ اور ایک نمائشی فتح  کے ساتھ امریکی واپسی میں معاونت کیلئے تیار ہوجائے گا۔ اس کا اندازہ دس جولائی کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کے اس اعلامیہ سے لگایا جا سکتا ہے جسے واشنگٹن سے جاری کیا گیا اور جس کا عنوان تھا (Four-Party Joint Statement on Afghan Peace Process)چار ملکی اجلاس سے لاتعلق رکھنے پہ انڈیا نے اعتراض اٹھایا اور سابق افغان صدر حامدکرزئی نے اپنے تازہ ٹویٹ کے ذریعے ایسے اجلاسوں میں دیگر ملکوں کی شمولیت کا مطالبہ بھی کیا۔

    تاہم مشرق وسطی میں جاری کشمکش بھی کوئی غیراہم معاملہ نہیں جس کے ساتھ اسرائیل کی بقا اورعربوں کے آئل ذخائر پہ امریکہ سمیت مغربی دنیا کی پوری معیشت کا انحصار ہے۔ اس لیے امریکی افغان امن عمل میں تعاون کے علاوہ شرق الوسط کی تنازعات میں پاکستانی کردار کو بڑھانے کا تقاضا کر سکتے ہیں اورشاید یہی مخمصہ امریکی طرز عمل میں تبدیلی کا بنیادی محرک بنا ہو گا۔ امریکن تو ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کے عادی تھے اس لئے افغانستان میں طالبانی مزاحمت کو کچلنے میں ناکامی کے بعد پہلے انہوں نے پشتون قوم پرستوں اور بلوچ  علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کے ذریعے دباو ڈالنے کے علاوہ کشمیر ایشو اور دیگر علاقائی تنازعات میں بھارتی موقف کی کھلی حمایت کے ذریعے پاکستان کو تابع  لانے کی اسٹریٹیجی اپنائی لیکن یہ طویل المدت حکمت عملی زیادہ کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ بالآخر ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے اور افغان تنازعہ کے پرامن حل کے لئے پاکستانی تعاون لینے کی خاطر اعتماد سازی کیلئے جو اقدامات اٹھائے ان میں بھارت نواز افغان قوم پرستوں کو پیچھے دھکیلنے کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دینا بھی شامل تھا۔

    بہرحال عمران ٹرمپ ملاقات میں معاملہ صرف افغان جنگ میں امریکی مشکلات کو کم کرنے  تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شرق الوسط، ابنائے ہرمز اورگلف سے جڑے ہوئے کچھ نادیدہ تغیرات بھی پاک امریکہ مذاکرات کا موضوع بن سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں امریکی اتھارٹی پاکستان کو معاشی مشکلات کے بھنور سے نکالنے، ٹیتھان کمپنی کے ساڑھے چھ ارب ڈالر کے ہرجانے کو مینیج کرنے اور ایف ٹی اے ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے عوض بلوچستان میں ایسے فوجی اڈوں کی فراہمی کا تقاضاکر سکتی ہے جہاں سے ایرانی تنصیبات کوباآسانی ہدف بنایا جا سکے گا اور چینی عزائم پر قریب سے نظر رکھنے کا موقع بھی ملے گا ۔لیکن  پاکستان کے پالیسی ساز وں کو شاید یہ قبول نہ ہو۔

    امریکہ کو اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے سعودی عرب کے علاوہ پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے امریکی دفاعی ادارے  پاکستان سے ملٹری تعلقات کی بحالی کیلئے بیتاب ہیں۔ اس وقت سینٹرل کمانڈ اور پنٹاگان ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی معاونت اور دفاعی روابط ختم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے خود امریکی منصوبہ سازوں کی اپنی خودسری کے نتیجہ میں سعودی عرب اور پاکستانی عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت و بیزاری بڑھتی رہی، جو اب ناقابل واپسی حد تک پہنچ چکی ہے۔ متذکرہ بالا دونوں مسلم ملکوں کی مقتدرہ بھی امریکی عزائم کو شک کی نظروں سے دیکھتی ہے۔ سات دہایوں پہ محیط پاک امریکہ تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے لیکن اس وقت دونوں ممالک کے باہمی تعلقات تاریخ کے نازک ترین مرحلہ سے گزر رہیں۔ لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ  افغانستان کی جنگ کا انجام اور جنوبی ایشیا کے امن کا مستقبل عمران ٹرمپ ملاقات سے منسلک نظر آتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعلم الکلام کے جدید مباحث: ایک سیمینار کی رُوداد اور چند تأثرات
    Next Article پاکستان میں معدوم ہوتی مادری زبانیں اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات
    اسلم اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by