Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ساتھ نہیں لڑ سکتی
    کالم

    حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ساتھ نہیں لڑ سکتی

    اسلم اعوانBy اسلم اعوانجولائی 7, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مولانا فضل الرحمٰن کی اے پی سی میں اختلافات کی خبروں کے بعد حکومت اگر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف احتسابی کاروائیوں کو محدود کرکے چھوٹے گروپوں کو مینیج کرلیتی تو سیاسی اضطراب میں کچھ کمی آسکتی تھی مگر افسوس کہ نیب اور اے این ایف جیسے سرکاری اداروں کی فعالیت کی بدولت قومی سیاست معمول کے وظائف کی طرف پلٹنے کی بجائے تھکا دینے والی کشمکش کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ البتہ رانا ثنااللہ کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں گرفتاری کی ٹائمنگ کافی اہم تھی۔ اس ایشو کی میڈیا میں بھرپور کوریج کے باعث سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے خلاف وکلاء کا احتجاج پس منظر میں چلا گیا۔

    بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد نے شعوری کوشش کے ذریعے 2018 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سے ابھرنے والی کشیدگی کے دائروں کو وسعت دے کر سیاست کی پوری جدلیات کو تہہ و بالا رکھنے کی جو حکمت عملی اپنائی، اس کا اصل ہدف نواز لیگ کو پیچھے دھکیل کے پیپلزپارٹی کے سیاسی کردار کو نمایاں کرنا تھا لیکن خلاف توقع مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت مخالف تحریک اس منصوبہ کو پوری طرح روبعمل لانے کی راہ میں حائل ہو گئی۔ بلاشبہ جے یو آئی  نے اپنی طاقتور فعالیت کے ذریعے نہ صرف پریشان حال نواز لیگ کو سہارا دیا بلکہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے چھوٹے گروپوں کو بھی مایوسی کی دلدل میں گرنے سے بچایا۔ یہ مولانا فضل الرحمٰن ہی تھے جنہوں نے شدید ترین اختلافات کے باوجود پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کامیابی حاصل کی اور پچھلے دس ماہ کے دوران پیپلزپارٹی کی طرف سے گورنمنٹ کے خلاف اپوزیشن کی ہر کوشش کو ناکارہ بنانے کی پالیسی کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن آصف علی زرداری کو چیئرمین سینٹ کی تبدیلی کے فیصلہ تک لانے میں کامیاب ہو گئے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں بلوچستان کے کہنہ مشق سیاستدان میرحاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ کا امیدوار بنانے پہ متفق ہوگئیں تو اسے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت کا اعجاز سمجھا جائے گا۔

    قصہ کوتاہ، تنازعات کو بڑھانے کی پالیسی سے حکومت کو وہ نتائج نہیں مل سکے جو وہ حاصل کرنا چاہتی تھی، اسکے برعکس انہی تنازعات کی شدت نے بکھری ہوئی اپوزیشن کو متحد ہونے میں مدد دی۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو معاملات کو سلجھانے کی بجائے تنازعات کو وسعت دینے کی پالیسی سے حکومت سیاسی ماحول میں کوئی نیا رجحان تو تخلیق نہ کر سکی لیکن یہی جدلیات حزب اختلاف کے بیانیہ کو مقبولیت عطا کرنے کا سبب ضرور بنی۔ مرکزی دھارے کے میڈیا میں حکومتی پالیسیوں پہ تنقید کا فائدہ بھی بالواسطہ حزب اختلاف ہی کو ملتا ہے لیکن سوشل میڈیا پہ اپوزیشن کی جارحانہ مہم رائے عامہ کو حکومت کے خلاف صف آرا کرنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئی۔ اپوزیشن والے سوشل میڈیاکی وساطت سے کمرتوڑمہنگائی کے خلاف عوامی ناراضگی کو اینٹی گورنمنٹ تحریک میں بدلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عوامی دکھوں پہ ماتم کناں رہنے کی پالیسی عوامی حمایت کے حصول کا موثر وسیلہ ہوتی ہے۔

    مریم نواز کی طرف سے نواز شریف کو العزیزیہ مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی گفتگو پہ مشتمل مبینہ وڈیو کا فشاں بھی کسی طاقتور مزاحمت کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے

    اس کشمکش سے حکومت کو کچھ ملے نہ ملے پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کو میدان سیاست میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کا سنہرامواقع مل گیا۔ صف زرداری کی جعلی بنک اکاونٹس کیس میں گرفتاری اگرچہ نواز لیگ کے خلاف کی جانے والی تادیبی کاروائیوں کو دھندلانے کا شاخسانہ تھی لیکن یہ پیش دستی بھی پیپلزپارٹی کے لیے مظلومیت کی ردا اوڑھنے کا ذریعہ بنی، حتّی کہ جیو نیوز کے کیپٹل ٹاک میں آصف زرداری کا انٹرویو رکوانا بھی پیپلزپارٹی کی پروجیکشن کا موثر وسیلہ ثابت ہوا۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز لیگ نے حالات کے جبر کے تحت پیپلزپارٹی کی راہیں کشادہ بنانے کی ریاستی پالیسی کو قبول کر کے درست راہ عمل اپنائی۔ لیگ والے جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی لامحالہ سیاسی اقدار میں یقین رکھنے والی ایسی جمہوری جماعت ہے جو سیاسی روایات اور بقاء باہمی کے قرینوں کا لحاظ رکھے گی۔ پیپلزپارٹی کو اگر پیشقدمی کی مہلت ملی تو اس کا فائدہ تمام جمہوری قوتوں کو ملے گا۔

    حکومت اپنی سیاسی حمایت بڑھانے کی بجائے دن بدن اسے گھٹانے کی پالیسی پہ کاربند دکھائی دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنمنٹ اے این پی، قومی وطن پارٹی اور مذہبی تنظیموں سمیت چھوٹی جماعتوں کو ہم نوا بنا کے نواز لیگ کو تنہا کرتی مگر افسوس کہ وہ اپنے ساتھ پہلے سے منسلک ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل کو بھی مطمئن نہیں رکھ سکی۔ اس کے برعکس مشکلات کے بھنور میں الجھی  نواز لیگ کی قیادت، سیاسی ساکھ کی حامل  جے یو آئی اور بی این پی بزنجو سمیت چھوٹے گروپوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت مسلم لیگ نواز کے اندر سے چند صلح جو افرادکو الگ کرنے کی سکیم کو بھی عملی جامہ نہ پہنا سکی، پہناتی ہی کیسے؟ جب شہباز شریف کو اتنی سہولت بھی نہ مل سکی کہ وہ خود یا اپنے بچوں کی جاں بخشی کرا کے مسلم لیگ کے ممبران اسمبلی کو یہ بیغام دے سکتے کہ ان سے وابستہ ہونے والوں کی کھال بچ جائے گی، پوری خود سپردگی کے باوجود جب شہباز شریف کو اپنے بیوی بچوں سمیت نیب کی تحیقات کا سامنا کرنا پڑا تو اس سے پارٹی کے اندر نوازشریف کے مزاحمتی بیانیہ کو تقویت ملی،لیگ ممبران اسمبلی جان گئے کہ سرنڈر کرنے کے باوجود بھی عزت بچے گی نہ سیاسی ساکھ۔

    غیر محدود احتسابی کاروائیوں کی بدولت خود شریف فیملی کے خاندانی دائرہ میں بھی یہ احساس پختہ ہوتا گیا کہ سیاست کی بساط پہ ان کے لیے مزاحمت کے سوا تمام راہیں مسدود ہیں۔ مریم نواز کی طرف سے نواز شریف کو العزیزیہ مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی گفتگو پہ مشتمل مبینہ وڈیو کا فشاں بھی کسی طاقتور مزاحمت کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ اگر حکومت چومکھی لڑائی لڑنے کی بجائے توازن برقرار رکھتی تو نوبت یہاں تک پہنچتی۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ ساری مسلم لیگی قیادت مریم نواز کے پیچھے بیٹھ کے عدلیہ پہ اس مہلک وار کی پشت پناہی کرتی۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ چوہدری نثار جیسے توانا کردار بھی عبرت کا نشان بن گیا، انہیں بھی کوئی ایسی سہولت نہ مل سکی جس کے ذریعے وہ نواز لیگ کے اندر موجود مفاہمت کے حامیوں کے لیے کشش کا باعث بنتے۔ لہذا مجبوراً نواز لیگ کی دوسری اور تیسری صف کی لیڈر شپ کو اپنا وزن نوازشریف کے مزاحمتی بیانیہ کی حمایت میں ڈالنا پڑا۔ چنانچہ شہباز ڈاکٹرائن کی ناکامی کے بعد نواز لیگ کی لیڈر شپ کا مریم نواز کے ہاتھ جانا یقینی تھا۔

    اب پنجاب سے تعلق رکھنے والی ملک گیر جماعت کی مزاحمت خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کی چھوٹی جماعتوں کے علاوہ وکلاء تنظیموں کو بھی مقتدرہ کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلے دے سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن تو روز اول ہی سے آئینی بالادستی کی فیصلہ کن جنگ لڑنے کے حامی تھے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ مریم نواز کے مزاحمتی کردار سے متاثر ہو کے پیپلزپارٹی جیسی مفاہمت کی عادی جماعت کی نوخیز قیادت بھی شوقیہ انداز میں اسی راہ کو اپناتی نظر آئی جس کا انتخاب نواز لیگ کی شوریدہ سر قیادت نے با امر مجبوری کیا۔

    بلکہ نیب اور اب اے این الف کی جانب سے مقدمات کی یلغار کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کی دلیرانہ للکار سن کے حکومتی منڈیر پہ بیٹھی، ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل بھی پرواز کیلئے پر تول رہی ہیں۔ حالانکہ صورت واقعہ یہ تھی کہ اے پی سی میں مولانا کی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز کو  پذیرائی اس لیے نہ ملی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کویقین تھا، انہوں نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کے ممبران اسمبلی کی اکثریت استعفے نہیں دے گی۔ دھرنوں کے وقت ایسے ہی تجربہ سے پی ٹی آئی خود بھی گزری، عمران خان نے جب قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کیا تو کئی پی ٹی آئی ممبران نے استعفے دینے سے انکار کر دیا،جنہوں نے استعفے دیے وہ بھی اسپیکر ایاز صادق کو پیغام بھجواتے رہے کہ فزیکل ویریفیکیشن کے بغیر ان کےاستعفے قبول نہ کئے جائیں۔ اس صورتحال میں نظر یہ آتا ہے کہ اپوزیشن گرداب میں ہے لیکن درست فیصلے کر رہی ہے، جبکہ حکومت طاقت میں ہوتے ہوئے بھی تھکن سے چُور دکھائی دیتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاختر مینگل حکومت کو بلیک میل نہیں کر رہے
    Next Article قبائلی اضلاع میں برائے نام انتخابات
    اسلم اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by