Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»نیکی اور پاکستان میں بڑھتی غربت
    کالم

    نیکی اور پاکستان میں بڑھتی غربت

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولمئی 27, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے ”پسند و محبوب” کی شرط لگا کر ہمیں یہ بات سمجھا دی ہے کہ اعلیٰ مقاصد کے حصول اور آخرت میں جنت اور رضائے الٰہی پانے کے لیے ہر وہ خرچ کرنا پڑے گا جسے خرچ کرنے کے لیے تمہیں تمہارا نفس روکے اور تمہاری عقل تمہیں ضرب و تفریق کی فکر میں ڈال دے۔ قرآن مجید نے مال کمانے کی ممانعت نہیں کی، بلکہ مال جمع کرنے کو ناپسند فرمایا۔ قرآن مجید اخلاقی خرابیوں کے پیدا ہونے کی وجہ مال کا جمع کرنا قراردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ذات الٰہی اور یوم آخرت پہ بھی ایمان نہیں رہتا۔

    اسلام اپنے ماننے والوں کے گھروں، معاشروں اور خاندانوں میں "انفاق” کا کلچر پیدا کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ سب سے زیادہ تاکید خرچ کرنے کی کرتا ہے۔ فقط تاکید نہیں بلکہ اس کی تفصیل بھی بیان کر تا ہے۔ صدقہ و خیرات، زکوٰةو فطرانہ وغیرہ۔ جن پہ خرچ کرنا ہے ان کی تفصیل بھی بیان کر دی ہے۔ رشتہ دار، یتامیٰ، مساکین، مسافر، سائل، قیدی، غلام ،مقروض اور فقراء۔ اس تفصیل کا مقصد یہ نہیں ہے معاشرے پہ غربت کا راج رہے اور امراء کا طبقہ سالانہ زکوٰة دے۔ مندرجہ بالا افراد میں چند سکے تقسیم کرتے رہیں بلکہ ریاست و معاشرہ کو مل کر غربت و افلاس کے خاتمے کے لئے اپنے وسائل کے منہ کھول دینے چاہئیں۔ اپنی مرضی کے چند سکے خرچ کر دینے سے رب راضی نہیں ہوتا اور نہ جنت کا راستہ آسان ہوتا ہے۔ نیکی کو حاصل کرنے کے لئے بڑا کام کرنا ہوتا ہے اور بڑی قربانی دینی ہوتی ہے۔

    اسلام اپنے ماننے والوں کے گھروں، معاشروں اور خاندانوں میں "انفاق” کا کلچر پیدا کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ سب سے زیادہ تاکید خرچ کرنے کی کرتا ہے

    اگر معاشرے میں بھوک مفلسی دیکھ کر ہمیں دکھ نہیں ہوتا، ننگے غربت زدہ بچوں کی موجودگی میں ہم بیش قیمت لباس خریدتے ہیں۔ سڑکوں اور محلوں میں بھیک مانگتے لوگ دیکھ کر ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا توہمیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ اگر ہمیں اپنے ہمسائے کی خبر نہیں یا خبر ہے تو پرواہ نہیں ہے تو اِسے ایمان کی علامت نہیں ظلم کی علامت کہتے ہیں۔ کفر کے معاشرے قائم رہتے ہیں ظلم کے معاشرے مٹا دیے جاتے ہیں خواہ ان معاشروں میں بہت نمازیں ادا کی جارہی ہوں، روزے رکھے جا رہے ہوں اور حاجیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو۔ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھی دی ہے۔ غربت و افلاس میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ اخراجات کے مطابق آمدن نہ ہونے کے باعث تنخواہ دار طبقہ بہت مشکل میں ہے۔ وہ خاندان جو پانچ افراد پہ مشتمل ہے اس کا سربراہ مسائل، مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔

    ہر سال خود کشی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سفید پوش طبقہ اپنی سفید پوشی کے بھرم کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے لیکن وہ اب سفید پوش نہیں رہا، غرباء و فقراء میں شامل ہو چکا ہے۔ ایسے مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی آگے بڑھنا چاہیے جن کے پاس مالی وسائل ہیں، جن کے اخراجات لاکھوں کروڑوں میں ہیں، جو پُر تعیش اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں چاہیے اپنے طرز زندگی کو سادہ بنائیں۔ دوسروں کا خیال رکھیں۔ اگر وہ اپنے ملازمین و وابستگان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیں کہ وہ بھی سہولت سے زندگی گزار سکیں، تو یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ حکومت و ریاست کو ایسی معاشی پالیسی بنانی چاہیے کہ جن کے پاس حد درجہ وسائل ہیں، ان سے کسی پالیسی کے تحت وصول کر کے ملک کے غریب عوام کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے۔ تعلیم ،صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

    حکومت، ریاست اور مالدار افراد کو پاکستان کے موجودہ حالات پہ فکر مندی کے ساتھ کام کرنا چاہیے ورنہ یہ حالات ہمیں انتشار و افتراق کی طرف لے کر جا رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو غریب کا ہاتھ ہو اور امراء کے گریبان۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپشتون تحفظ تحریک کے مسئلہ میں پارلیمنٹ کی لاتعلقی نقصان دہ ہے
    Next Article ہم خلیج فارس میں ایک اور جنگ سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں؟
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by