Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بلوچستان ملکی اور عالمی صف بندیوں میں کہاں کھڑا ہے ؟
    کالم

    بلوچستان ملکی اور عالمی صف بندیوں میں کہاں کھڑا ہے ؟

    راحت ملکBy راحت ملکاپریل 18, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    موجودہ حکومت میں شمولیت اختیار کرنے والے منتخب اراکین اسمبلی چونکہ روائتی قبائلی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ اٹھارویں ترمیم سے کما حقہ واقف نہیں تھے اور یوں جوق در جوق وزارت ملنے کی امید یا وعدہ پر مسلم لیگی بنتے گئے۔

    بلوچستان میں اگلے انتخابی نتائج اور اتحادی نوعیت کیا ہوگی؟یہ صوبائی سطح کا اہم سوال ہے تاہم مرکزی حکومت کی تشکیل پر صوبے کے انتخابی نتائج گہرے اثرات مرتب کرنے سے عاری ہی ہوں گے تاہم صوبائی حکومت کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی ماضی کی طرح مخلوط ہی ہوگی اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہونگے؟اس بارے ٹھوس پیش گوئی ممکن نہیں۔تجزیاتی قیاس آرائی کے دائرے میں مختلف امکانات کا اظہار ممکن ہے۔

    مسلم لیگ ن جماعتی اعتبار سے صوبائی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اسی تناسب سے مسلم لیگ بلوچستان میں تنظیمی ڈھانچے کے فقدان کی بھی مالک ہے۔اسمبلی میں اکثریت کا زیادہ تر انحصار بااثر قبائلی شخصیات جنہیں الیکٹ ایبل بھی کہا جاتا ہے کا بعد از انتخاب وزارتوں کے وعدوں پر مسلم لیگ میں شمولیت پر ہے۔بلاشبہ مسلم لیگ نے براہ راست بھی زیادہ سیٹوں پر انتخابی کامیابی حاصل کی ہے مگر وہ بھی جماعتی تنظیم کی بجائے امیدوار کے ذاتی،خاندانی یا قبائلی اثر و رسوخ اور مالی حیثیت پر تھا۔بلاشبہ یہ اعتراض دیگر جماعتوں پر بھی وارد ہوتا ہے مگر باقی جماعتوں کی تنظیمی ساخت اور پوزیشن بہرطور مسلم لیگ سے مختلف ہے۔جمعیت العلمائے اسلام بلا شک واحد بڑی اور تنظیمی سطح پر اپنا ووٹ بینک رکھنے والی جماعت ہے جو الیکٹ ایبل پر کم تر انحصار رکھتی ہے۔موجودہ حکومت میں شمولیت اختیار کرنے والے منتخب اراکین اسمبلی چونکہ روائتی قبائلی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ اٹھارویں ترمیم سے کما حقہ واقف نہیں تھے اور یوں جوق در جوق وزارت ملنے کی امید یا وعدہ پر مسلم لیگی بنتے گئے۔

    آئینی قدغن اور چند دیگر مجبوریوں اور سب سے بڑھ کر مخلوط حکومت کی موجودگی میں حتمی فیصلے شریک جماعتوں کی رضا مندی پر منحصر رہے اس طرح بیشتر آزاد منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی وزارت سے محروم رہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کی توقعات مکمل طور پر پوری نہیں ہوسکیں۔چنانچہ شبہ ہے کہ مسلم لیگ کے متعدد اراکین اسمبلی انتخابات سے قبل جماعت سے علیحدگی اختیار کرلیں گے جن میں چند وزرا کے نام بھی بیان کئے جارہے ہیں۔امکان غالب ہے کہ مسلم لیگ صوبائی اسمبلی میں اپنی موجودہ مقداری قوت24ارکان برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ایک دوسرا تناظر البتہ موجود ہے جو موثر بھی ہوسکتا ہے وہ ہیں سابق وزیراعلیٰ و گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کی سیاسی فعالیت۔مختلف قد آور سیاسی قبائلی شخصیت سے ذاتی رابطوں کے بعد وہ صوبے کی سیاست کے اہم کھلاڑی بن سکتے ہیں وہ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کریں گے یا پی پی میں اس بارے کوئی رائے نہیں دی جاسکتی۔لیکن یہ طے ہے کہ وہ ایک مضبوط انتخابی اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو انتخابی نتائج اور اگلی صوبائی حکومت کی تشکیل اور اس کے اجزائے ترکیبی کی حیثیت طے کرنے میں بڑا کردار ادا کرے!

    نیشنل پارٹی ،بلوچستان نیشنل پارٹی،مینگل اور عوامی اگر انتخابی اتحاد قائم کرلیں تو اس کے بھی سیاسی اثرات انتخابی معرکے اور حکومت تشکیل کی نوعیت بدل سکتے ہیں۔ہر صورت میں صوبے میں مخلوط حکومت بننے کا واضح امکان ہے تو کم از کم یہ بھی طے ہے کہ مسلم لیگ ن اس کا اہم حصہ ہوگی جبکہ اے این پی اور جمعیت العلمائے اسلام اگلی حکومت میں صوبے کے پشتون علاقوں کی نمائندگی کرے گی۔یہ عمومی قیاس آرائی صوبے کے سیاسی و صحافتی و تجزیہ کاروں میں پائی جاتی ہے۔

    صوبائی حکومت کی ہئیت ترکیبی سے قطع نظر بلوچستان کی سیاسی اہمیت پہلے سے دو چند ہو چکی ہے اور اس کے دو اہم سبب ہیں۔

    -1    گوادر بندرگاہ کی فعالیت،راہداریوں کا نقشہ اور سی پیک کی نوعیت وغیرہ

    -2    افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات اور وہاں قیام امن کےلئے طے ہونے والی سہ فریقی حکمت عملی کی جزیات(سہ فریقی،پاکستان،چین اور روس)

    دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ متذکرہ صدر سہ فریقی اتحاد نے گزشتہ مہینوں ماسکو میں افغان مسئلہ کے حل کےلئے کانفرنس/مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس میں افغان حکومت جو مسئلہ کی اہم فریق ہے شریک نہیں تھی۔ممکن ہے کہ مذکورہ کانفرنس فریقین سے ماورا مسئلہ کے حل کی حکمت عملی مرتب کرنے یا مشاورتی عمل ہو یا اب جبکہ ماسکو کانفرنس کا دوسرا دور ہونے جارہا ہے تو امریکہ نے بھی اس میں شرکت سے انکار کردیا جو بذات خود افغان مسئلہ کا فریق بلکہ بہت حد تک اہم فریق ہے۔اس کی مثال طالبان کا کابل حکومت سے بات چیت سے انکار والا منفی رویہ ہے۔امریکا،کابل اور طالبان اگر انکار یا فرار پر مبنی رویے پر گامزن رہے تو افغان مسئلہ حل کرنا پیچیدہ رہے گا۔پاکستان اور بلوچستا کے تناظر میں گوادر بندرگاہ کی فعالیت وسط ایشیا کےلئے تجارتی گیٹ وے،سی پیک اور افغانستان کو بحری تجارتی سہولت نیز روس کی اس اہم منصوبے میں شمولیت متقاضی ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کا قابل یقین بھرپور اور موثر بندوبست ہو جائے۔دریں حالات بلوچستان کی اگلی حکومت میں جے یو آئی کی موجودگی کا تمام تر دارومدار اس اہم سلگتے ہوئے علاقائی مسئلہ کے حل کی حکمت عملی پر ہوگا۔کیا جے یو آئی طالبان کو مذاکراتی عمل میں شرکت پر رضا مند کرنے کی استعداد رکھتی ہے؟یا،کیا وہ پاکستان میں طالبان کے مبینہ ٹھکانوں کے خاتمے اور مہاجرین کی وطن واپسی کےلئے کردار ادا کرنے پر آمادہ یا اہلیت کی حامل ہے؟

    مذکورہ دونوں سوال جے یو آئی کی سیاسی حیثیت متعین کریں گے اور اس کے بلوچستان کی سیاسی ثقافت و سماجی صورتحال پر وسیع اثرات ہوں گے۔

    جو چیز بلوچستان کےلئے بنیادی اور عوامی حیثیت رکھتی ہے وہ پاکستان کے معاشی،دفاعی تذویراتی اقدامات اور مستقبل کےلئے اہم ہے۔بلوچستان کو گوادر سے وابستہ تحفظات کے تدارک کی عملی یقین دہانی و اختیار ملنا چاہیے تاکہ چاہ بہار بندرگاہ جس کا زمینی انفراسٹرکچر مکمل ہے گوادر پر سبقت حاصل نہ کرسکے۔

    گوادر کو چاہ بہار سے کوئی چیلنج درپیش نہیں۔سوال گوادر بندرگاہ کے زمینی تجارتی راستوں اور ڈھانچے اور ذرائع رسل و رسائل کی تکمیل کا ہے جو بنیادی طور پر راہداری کے مرکزی راستے کی غیر مبہم نشاندہی تک موضوع بحث رہے گا۔

    خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد ایک اہم سوال ہے پاکستان کی اس میں شمولیت کے تمام منفی اثرات کا پہلا اثر سرزمین پر مرتب ہوگا۔بادی النظر میں مذکورہ عسکری گٹھ جوڑ،ایران یا شیعہ مخالف تاثر رکھتا ہے جس کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف کریں گے جبکہ پاکستان ریاستی سطح پر بھی اس کا حصہ ہوگا(شنید یہی ہے) تو پھر خدانخواستہ ایرانی سعودی کشیدگی کے کسی امکانی مرحلے میں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پاکستانی سپاہ کو ایران کے خلاف دوسری دفاعی لائن بننے سے روکا جاسکے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجب میں مشال خان بنتے بنتے بچ گیا
    Next Article میئر اسلام آباد کے دورُخ
    راحت ملک

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by