Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»میئر اسلام آباد کے دورُخ
    کالم

    میئر اسلام آباد کے دورُخ

    سجاد اظہرBy سجاد اظہراپریل 19, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جب ان خیراتی اداروں کو کاروبار حکومت میں حصہ ملے گا توکل یہی اس کی رٹ کو بھی چیلنج کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ حکومتوں کے کارپرداز کتنے پانی میں ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بات آتی ہے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی، تو حکومت ان کی فلاحی سرگرمیاں گنوانا شروع کر دیتی ہے ۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پانی کی کمی کا شکار ہے ۔جب یہ شہر آباد کیا جا رہا تھا تو اس میں پانی کی ترسیل کے لئے نواح میں سملی ڈیم بنایا گیا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہر کی آبادی میں اضافہ ہوا تو پانی کا یہ ذخیرہ شہر کی ضروریات  پوری کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہو گیا ۔آج کل اسلام آباد میں پانی کی کمی کا مسئلہ اس حد تک شدت اختیار کر چکا ہے کہ جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں پانی کی فراہمی کی ایک تشہیری مہم چلا رکھی ہے جس میں شہری حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے پر توجہ دیں ۔

    امیر ِ شہر شیخ عنصر عزیز جو اسلام آباد کے پہلے منتخب میئر ہیں انہوں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے فلاحی ونگ ‘‘فلاح ِ انسانیت فاؤنڈیشن ’’کو کہا کہ وہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی میں تعاون کریں ۔آج کے اخبارات میں شیخ عنصر عزیز کا یہ بیان شہ سرخیوں اور ان کی تصاویر کے ساتھ شائع ہوا ہے ۔یعنی وفاقی دارالحکومت کے باسیوں کو پانی کی فراہمی کے لئے حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہے جبھی تو وہ فلاحی اداروں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ یہ کام کریں ۔

    آج ہی کے روز انگریزی اخبار دی نیشن کے سٹی پیج پر ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے  کہ اسلام آباد کے میئر نے منسٹر انکلیو جہاں پر وفاقی وزرا ، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہیں ہیں وہاں پر میئر کی رہائش گاہ بنانے کے لئے ایک ایسا پلاٹ مختص کیا گیا ہے جس کا سائز سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہوں سے بھی دوگنا ہے ۔اس پلاٹ کا سائز 4744 مربع گز ہے ۔سی ڈی اے اس پر میئر کے شایان ِ شان رہائش گاہ بنانے کی منظوری اپنے فروری کے اجلاس میں دے چکا ہے ۔خبر میں بتایا گیا کہ میئر کو ان کی رہائش گاہ کی تعمیر کے لئے مختلف پلاٹ دکھائے گئے مگر انہوں نے منسٹر انکلیو میں موجود اس پلاٹ کو ترجیح دی ۔

    یعنی ایک طرف شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے فلاحی اداروں سے اپیلیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اپنے محلوں کی تعمیر کے لئے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ  کی رہائش گاہوں کو بھی مات دے دی گئی ہے جو قائمقام صدر اور وزیر اعظم کے عہدے کے بھی اہل ہوتے ہیں ۔یہ ہے وہ عمومی رویہ جو ہماری اشرافیہ میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔اشرافیہ کی دیکھا دیکھی عوامی نمائندے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا ضروری سمجھتے ہیں ۔میئر اسلام آباد اپنے شہریوں کو فلاحی اداروں کے رحم و کرم پرچھوڑ رہے ہیں ۔وہ ادارے جو عوام سے صدقات اور خیرات کے پیسے اکھٹے کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں کی مدد کی جا سکے جو ضروریات زندگی پوری نہیں کر سکتے مگر یہاں تو حکومت اپنی ذمہ داریوں کابوجھ بھی ان خیراتی اداروں کے کندھوں پر ڈال رہی ہے ۔ظاہر ہے جب ان خیراتی اداروں کو کاروبار حکومت میں حصہ ملے گا توکل یہی اس کی رٹ کو بھی چیلنج کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ حکومتوں کے کارپرداز کتنے پانی میں ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بات آتی ہے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی، تو حکومت ان کی فلاحی سرگرمیاں گنوانا شروع کر دیتی ہے ۔

    اگر شہروں میں پینے کا پانی بھی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن مہیا کرے گی ۔ضرورت پڑنے پر ملکی سرحدوں کی حفاظت بھی وہی کریں گے توپھر ریاست کہاں دانا چگنے میں مصروف ہے ؟اگرریاست کے کارپرداز اپنے محلوں کی تعمیر میں مصروف رہیں گے توآنے والے کل میں یہاں کسی کے گھر نہیں بچیں گے ۔جب تک ریاست اپنے فرائض ادا نہیں کرے گی تب تک غیر ریاستی عناصر اس کے لئے چیلنج بنتے رہیں گے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبلوچستان ملکی اور عالمی صف بندیوں میں کہاں کھڑا ہے ؟
    Next Article عسکریت پسندی کےجہادی بیانیے کی تشکیل میں مدارس کا کردار
    سجاد اظہر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by