اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 75 سالوں میں بتدریج سیاست اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی ہے۔ اس کا اظہار سیاستدانوں کے بیانات سے ہوتا ہے
کہتے ہیں انسان کی گفتگو اور کلام سے ، اس کے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔ پرُقارطرز کلام اور شائستہ لہجہ سے انسان کی تربیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ فحش کلامی اور بہتان طرازی جس کا شیوہ ہو گو یا اس کی تربیت کسی بہتر ماحول میں نہیں ہوئی اور اس کی صحبت بھی اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ سیاستدان ،علماءکرام اور دانشور جہاں معاشرے کے مرّبی ہوتے ہیں وہاں یہ نمائندہ بھی ہوتے ہیں یعنی ان کی گفتاراور کلام معاشرے کی مجموعی اخلاقی حیثیت کا تعین بھی کرتی ہے۔
اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 75 سالوں میں بتدریج سیاست اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی ہے۔ اس کا اظہار سیاستدانوں کے بیانات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف اور حریف سیاستدان کے متعلق فحش کلامی اور بہتان طرازی کا جس طرح بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر ذہنی افلاس کا شکار ہیں۔
میں آپ کو ماضی میں لئے چلتا ہوں، یہ ماضی اتنا پرانا نہیں ہے جب اس ملک کی سیاست میں مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا عبدالستار خان نیازی ، نواب زادہ نصراللہ خان،بلخ شیر مزاری،عبدالولی خان، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد،سید ابولاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، ملک معراج خالد، معراج محمد خان جیسے سیاستدان ہوا کرتے تھے، جن کے پاس بیٹھ کر انسان کی شخصیت میں سلجھاﺅ اور نکھار آتا تھا۔ ان سیاسی شخصیات میں سے مجھے جن کی زیارت اور ملاقات کا موقع ملا،ان کے لہجے کی مٹھاس آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے، لباس کی بھینی بھینی خوشبو آج بھی مشامِ جاں کومعطر کرتی ہے ، جن کی شخصیت کی جاذبیت آج بھی نگاہوں میں جذب ہے۔ متانت ، پروقار چال، چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ ، حریف پہ گہرا لیکن شائستہ طنزوتنقید ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ انہوں نے کبھی کسی کی سرِ بازار پگڑی نہیں اچھالی تھی ، کسی کے ناموں کی ہجونہیں کی تھی۔ اختلاف کرتے اور برملا کرتے، ڈنکے کی چوٹ پہ کرتے لیکن ایسا نہیں کہ خواتین منہ چھپائیں یا مرد سر جھکائیں، سرپرست چینل بدلیں یا ٹی وی بند کردیں۔طبیعت میں بلاکی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی کے مقابل سیاستدان وحکمران کو خاموش کرا دے۔
اگر اس سے بھی پہلے ماضی کے جھرونکوں میں جھانکیں تو قائداعظم محمد علی جناح ، نواب زادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر………… فقط گفتارہی نہیں بلکہ کردار بھی ایسا جو ایمانداری کے خمیر سے اٹھا ہوا۔بلکہ ایسا کردار حب الوطنی کے بے مثال جذبے سے گندھا ہوا۔ برطانیہ اورامریکا کے تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ…………باہر کے ممالک میں کوئی اکاﺅنٹ نہیں ، کوئی خزانہ نہیں لوٹا، بیرون ممالک میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی۔ اب تو برطانیہ اور امریکا سے پڑھ کر آنے والوں کا بھی کوئی اخلاقی معیار نہیں رہا۔ گلی کوچوں اور محلوں کے اوباش لڑکوں کی بھی کوئی اخلاقیات ہوتی ہے کہ وہ کسی کی بہن ،بیٹی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ یہ ایسے سیاستدان ہیں کہ دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو دائیں بائیں کھڑا کر کے بھی فحش کلامی اور بہتان طرازی میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے ۔
احمد فراز سے کسی نے پاکستانی سیاست کے عروج و زوال سے متعلق سوال کیا تو احمد فراز مرحوم نے کہا‘‘اندازہ کر لو! تخلیق پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے صدر قائداعظم محمد علی جناح تھے اور اب…………’’ احمد فراز نے جس سیاستدان کا نا م لیا وہ اس حوالے سے قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے کبھی ٹیلی ویژن کی خبر اوراخبار کی سرخی بننے کے لئے کسی پرکیچڑ نہیں اچھالا………… کبھی Blame gameکا حصہ نہیں بنے اگرچہ پرویز مشرف کی حکومت کا حصہ بن گئے۔
بدقسمتی سے آج پاکستانی سیاست کے صفِ اوّل کے سیاستدان اس‘‘گناہ’’ کے مرتکب ہو رہے ہیں ان میں عمران خان ، آصف زراری اور شہباز شریف شامل ہیں ۔شہباز شریف صاحب نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں جس طرح آصف علی زرداری کے متعلق گفتگو کی ،آج کل ویسے ہی الفاظ آصف علی زرداری استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ عمران خان صاحب کرپشن کے خلاف اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کب اور کہاں زبان وبیان کی کرپشن کر گئے ہیں۔ حریفانہ کشمکش میں،اگر وہ تہذیب و اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑتے تو وہ پاکستان کے ایک باکمال سیاستدان ہوتے۔ وہ اپنی زود رنج طبیعت کے باعث ، پاکستان میں مزید خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ جن میں ایک خرابی زبان درازی اوراپنے مخالف کو غیر انصافیانہ ، طریقے سے لتاڑنا بھی شامل ہے۔ نوجوان طبقہ عمران خان کی ‘‘حق گوئی’’کی وجہ سے ‘‘آپے سے باہر’’ کے کلچر کی نذر ہو چکا ہے۔
ہمارے سیاستدانوں میں ایک قسم ایسے سیاستدانوں کی ہے جنہیں ‘‘شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار’’کہنا غلط نہ ہو گا۔انہوں نے اپنے شاہوں سے بھی بڑھ کر ان کی وفاداری اور نمک حلالی میں ایسے ایسے الزامات ،تہمتیں اور فحش کلامی کی ہے کہ اللہ کی پناہ …………ان وفاداروں میں مولا بخش چانڈیو،طلال چودھری،نعیم الحق،عابد شیر علی،رانا ثناءاللہ ، فیصل واڈاورفوادچودھری کے نام سرفہرست ہیں۔یاد رہے !پارلیمنٹ کی طرح یہاں بھی مسلم لیگ (ن )اکثریت میں ہے، جن لوگوں نے قوم کی تربیت کرنی تھی وہ خود اعلیٰ اخلاق، سیاسی تربیت اور سنجیدہ شخصیت سے محروم ہیں ۔اس سے بڑھ کر پاکستانی قو م کاالمیہ کیا ہو گا۔
