Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جنت کی حوروں کے بارے میں شکایات کی لیکس پرمرزا غالب اور ان کے بھتیجوں پرارتداد کی فرد جرم
    کالم

    جنت کی حوروں کے بارے میں شکایات کی لیکس پرمرزا غالب اور ان کے بھتیجوں پرارتداد کی فرد جرم

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعودمئی 1, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    چبھتا سوال یہ ہے کہ اگر خلافت ارضی سے مراد زمین پر اولاد آدم میں اضافہ تھا تو آدم وحوا کو شجر ممنوعہ کے قریب جانے سے روکا کیوں گیا۔ اگر یہ جرم نہیں تھا تو جنت سے نکالا کیوں گیا۔

    ہر چند کہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان  کے انکشافات سے بہت پہلے ہم صغریٰ اور کبریٰ کو ملا کراسی  نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ طالبان بالکل معصوم ہیں اور بھارت کے  بہکاوے میں  آکر ایسے کام کر رہے ہیں جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔  تاہم اندیشہ ہے  کہ اگر یہی صورت حال رہی تو طالبان جنت کی حوروں کے بارے میں بھارت میں جاری ادبی جہاد سے  بھی متاثر ہو جائیں گے۔   یہ ادبی جہاد ہندوتوا سوچ پر کھڑی  ایسی جدید خوش فہمیوں سے کشید دعاوی کے خلاف ہے جن سے آخرت سے انکار اور ارتداد لازم آتا ہے۔ ہم ایک عرصے سے اس  فتنےکے بارے میں لکھنا چاہتے تھے لیکن دو باتیں اظہارو اعذار سے مانع رہیں۔ ایک تو یہ کہ اسلامی انقلاب کے لئے جد و جہد  جو کم از کم خود کش حملوں کی حد تک حوروں سے ملاقات کے اشتیاق پر مبنی ہے کمزور نہ پڑ جائے۔ دوسرے ایسے انکشافات ان بہت سے لوگوں پر بھاری ہوں گے جو اسی حسرت  بھرے اخلاص میں جی رہے ہیں کہ حوریں صرف جنت میں ملا کرتی ہیں

    وہ تو بھلا ہو مولانا  بقول خود لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان کا جو طالبان شریعت کے ایک عرصہ ترجمان بھی رہے ہیں کہ ان کے اعترافات کے بعد ہم نے ضروری سمجھا کہ اس فتنے کی طرف بھی حامیان دین متین کی توجہ مبذول کرائی جائے۔

    بھارت میں اس ادبی جہاد کا آغاز ایسے شعرا پر ارتداد کی فرد جرم عائد کرنے سے ہو رہا ہے جو ماضی قریب میں جنت کی حوروں کے بارے میں  لا یعنی  گفتگو کے مرتکب ہوئے۔ حوروں سے تمتع کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات  پیدا کئےاور سوشل میڈیا  یعنی مشاعروں میں  سر عام حوروں کے بارے میں  ایسی بے ہودہ شکایات لگائیں جو آج کے مجاہدین کے حوصلے پست کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس ادبی جہاد کی پاکستان دشمنی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ مرتدین کی فہرست میں جہاں مرزا غالب  جیسے نامور ادیب اور شاعر شامل  ہیں جو وطن اور مدفن کے اعتبار سے  شدھ بھارتی ہیں وہاں فیض احمد فیض جیسے پاکستان کے مقبول ترین شعرا کے نام بھی لئے جا رہے ہیں  جو اب اس دنیا میں نہیں۔ صرف اس لئے کہ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہر دو کی مقبولیت پاکستان میں بڑھتی جا رہی ہے۔

    اس ادبی جہاد کا آغازجناب شعبان بیدار صفوی نے مارچ ۲۰۱۲ میں  کیا۔ انہوں نے بمبئی سے  شائع ہونے والے موقر جریدے دی فری لانسر میں "ادبی ارتداد” کے نام سے اپنے سنسنی خیز تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا کہ "شاعری ایک ایسی دنیا ہے جس میں بہکنے بہکانے کی بڑی گنجائش ہوتی ہے۔ محبوب دلنواز کی فرقت کے شکار اپنی ہوس ناک نگاہوں سے تاروں کو تانیث کا لباس پہناتے ہیں تو کبھی شفق کی ساڑھی کھینچتے ہیں”۔ وہ عرق ریز ادبی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ” فکری آوارگی کا یہ سلسلہ رکتا نہیں ہے بلکہ مذہب کی دستار بھی کوٹھے کی جھنڈی بنا دی جاتی ہے”۔ ہم یہ اقوال زریں انہی کے الفاظ میں نقل کر رہے ہیں تاکہ ادبی ارتداد کے بارے میں ان کے بظاہر مبتذل  لیکن بباطن مشتعل جذبات کا بخوبی اندازہ ہو سکے۔

    جناب صفوی کے نزدیک اس فکری آوارگی کے سرخیل مرزا غالب ہیں ۔ مرزا بیچارے ایک عرصے سے دلی کے کوچہ بلی ماران کی گلی قاسم جان میں مدفون ہیں لیکن مقالہ نگار مرزا اسد اللہ خان غالب کو چچا غالب  کہ کر بلاتے ہیں تاکہ  واقعہ حال ہی کا متصور ہو اور وہ دیگر شعرا کو ان کے بھتیجے قرار دے کر مطعون کر سکیں۔ فرماتے ہیں: "چچا غالب مزے کے آدمی تھے مگر بڑھاپے میں عقل کیا سوختہ ہوئی جنت کی حوریں بھی ٹھٹھول کی نذر ہو گئیں”۔ یہ کہ کر وہ غالب کا یہ شعر نقل کرتے ہیں

    جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

    ایسی  جنت  کو   کیا   کرے  کوئی

    اب ادبی ارتداد کے خلاف جہاد کے  اس محرک کو کون بتائے کہ یہ شعر مرزا غالب کا نہیں خاقانی ہند ذوق دہلوی کا ہے۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ذوق دہلوی کے اس شعر سے  ہمیں بھی  ایک عرصے جھنجلاہٹ رہی کہ کیا وہ حوروں سے صرف اسی لئے بیزار رہتے تھے کہ وہ لاکھوں برس  کی بوڑھی ہیں ۔ حا لانکہ اس میں کوئی شرعی امر مانع نہیں تھا۔ ان کے زمانے سے آج تک نکاح اور ازدواج کا سوال عموماً صغر سنی کے حوالے سے اٹھایا جاتا  رہا ہے۔ مفتیان کرام  کے نزدیک صغر سنی کا اشکال تو ہے  لیکن وہ  بھی محبوب کی جسمانی بلوغت ، مطلوبہ استطاعت و اہلیت اور رواج کی اجازت سے دور ہو جاتا ہے۔  چنانچہ شرعی بحث  کم عمر ناکت خداؤں سے زن شوئی کے تعلقات تک محدود رہتی ہے۔  کبر سنی قانون کی نظر میں کبھی مانع نہیں رہی صرف جگ ہنسائی کے خوف سے فتوی نہیں پوچھا جاتا ۔

    اس باب میں ایک مسئلہ نکاح بیوگان کا ضرور رہا ہے۔ شیخ سعدی سےمنسوب  یہ شعر کہ زن بیوہ مکن گرچہ حور است (بیوہ عورت حور بھی ہو تو اسے بیوی نہ بناؤ)  عام فارسی دان مسلمانوں میں سند کے طور پر ہر دلعزیز رہا ہے۔  اصلاح پسند علما  نے نکاح بیوگان کے  جواز کے بارے میں  لاکھ  فتوے دئے لیکن سعدی کے اس شعر  کی  مقبولیت کے سامنے مسلمانوں میں  وہ نکاح بیوگان کو ثواب دارین کے وسیلے سے زیادہ مقام نہ دلا سکے۔ بیواؤں کے رشتے داروں نے اصلاح پسندوں کی ایک نہ چلنے دی۔ چار کی بات تو ممکن ہی نہ تھی۔ نکاح بیوگان ہندووں کے لئے  کبھی مسئلہ نہیں بنا۔  ہندو بیوہ اپنے خاوند کے ساتھ ہی چتا میں ہنسی خوشی جل مرنا پسند کرتی تھی  اورکسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کے ہاں  حور ہو یا اپسرا ، بیوہ سے شادی پاپ تھا۔ تھک ہار کراصلاح پسند نکاح بیوگان کے خلاف مزاحمت کو ہندو اثرات سے پیدا بدعت گردان کر خاموش ہو گئے۔

    بھارت کے بعض ہندوگھرانوں  کے بارے میں  یہ خبریں  ضرور ملتی رہی ہیں کہ وہ کم جہیز لانے والی دلہن کے بیوہ ہونے کا بھی انتظار نہیں کرتے۔ سسرال والے پہلے دن سے ہی جلنے جلانے کا مکالمہ جاری کر دیتے ہیں اور اکثر یہ مکالمہ کم جہیز دلہن کو زندہ جلا کر ہی انجام پذیر ہوتا ہے۔ مسلمان اس قسم کی بدعات کا ارتکاب ضرور کرتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری بھی ہندو سماج پر ڈالتے ہیں کیونکہ مسلمان آواگون کی بجائے آخرت پر یقین رکھتے ہیں جہاں نیک مردوں کو حوریں  جہیز میں ملتی ہیں۔

    بات بھارت میں ادبی ارتداد کے اندولن کی ہورہی تھی اور حوروں سے بیوگان اور زندہ جلانے تک جا پہنچی۔  ذکر تھا جناب شعبان بیدار صفوی  کا جو غالب کےحوروں کے بارے میں اشعار میں ارتداد کی شہادت ڈھونڈ ڈھونڈ کر  لا رہے تھے۔ لکھتے ہیں کہ غالب کو شاید یقین تھا کہ جنت انہیں ملنے سے رہی اور وہ جنت والا کام کرنے سے رہے۔ پھر کیا تھا لومڑی انگور کو ہی کھٹا کہنے لگی۔

    ہم کو معلوم  ہے جنت  کی  حقیقت  لیکن

    دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

    فرماتے ہیں "اگر بے چارے چچا میاں کی طبیعت کبھی راغبِ فردوس ہوئی بھی تو دنیا کے شوق وہاں بھی پورے کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔ یہاں کی گندگی وہاں پھیلانے کی ٹھان لی اور بولے

    ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام

    قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

    چہرہ مہرہ بھی ایسا عاشقانہ تھا کہ تا حیات پری زادوں کی توجہ کو ترستے رہ گئے”۔

    ہمیں اس تحقیق پر متعدد تحفظات ہیں۔ صرف دو کا ذکر ضروری ہے۔ اول تو یہ کہ  استدلال  کی تیز روی میں انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس آخری شعر میں مرزا غالب جنت کی حوروں کی تو بات ہی نہیں کر رہے۔ وہ تو خدا کی اس قدرت کا حوالہ دے رہے ہیں جو دنیا کے پریزادوں کو جنت میں حوریں بنا کر پیش کر سکتی ہے۔ یہ در اصل اس اشکال کا جواب ہے کہ نیک مردوں کے لئے تو حوریں ہیں لیکن نیک بیبیوں کو جنت میں کیا ملے گا۔ اکابر یہی بتاتے ہیں کہ نیک بیبیوں کو انعام کے طور پر صالحین کی حوریں بنا دیا جائے گا۔

    دوسرا اعتراض یہ ہے کہ مقالہ نگار نے جس انداز سےخیال کے گھوڑے دوڑا ئے انہیں وہاں پہنچنا ہی تھا جہاں انہیں گندگی ہی گندگی دکھائی دی۔ قصور غالب کے صریر خامہ کا نہیں اس نوائے خروش کا ہے جسے مقالہ نگار نے غیب کے مضامین خیال کرلیا اور استدلال میں چپکا دیا۔

    حیرت اس بات پر ہے کہ مقالہ نگار کو اپنے استدلال میں تضاد کا بھی احساس نہیں ہوا ۔ در اصل حوروں کا یہ نفسانی تصور اس ڈر سے کشید کیا گیا ہے کہ کہیں حور و قصور اور شراب و کباب کی دنیاوی لذتوں پر مبنی قیاس آرائیوں کے بغیر جنت میں وہ کشش نہ رہے جو مطلوب ہے۔  وہ  دعوت تواسی قسم کے تصور جاناں اورجنت حوراں کی دیتے ہیں۔ لیکن جب توجہ دلائی جائے تو دنیاوی گندگی کا مدا غالب پر ڈال دیتے ہیں۔ آج بھی اس ادبی ارتداد کے جہاد کا ہدف وہ شاعر اور ادیب ہیں جو جنت اور حوروں کے  بارے میں ایسے تصورات پر طنز کےآوازے کستے ہیں۔

    جناب شعبان بیدار نے اس مقالے میں ارتداد کا جال پورے زور سے پھینکا ہے تاکہ چچا غالب کے سارے بھتیجے  ادیب اور شاعر پکڑے جا سکیں جو جنت اور حوروں کی نفسانی پیکر گری کو تصور آخرت کا تمسخر گردانتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ "عصر حاضر میں محترم کے بھتیجوں کی کون کمی ہے۔ ایک سے ایک ترقی پسند فکر اور جدیدیت کا شاہکار کہ سنتے بنے۔

    شجر ممنوعہ نہ تھا جنت میں کھانے کے لئے

    تھی فقط ترکیب آدم کو بھگانے کے لئے

    دادا جی جنت سے نکلے ان کے پوتے بے حیا

    مر رہے ہیں پھر اسی جنت میں جانے کے لئے

    شجر ممنوعہ کی جڑ کھودنا، اس کا سفوف تیار کرنا، پھلوں سے آب حیات کشید کرنا شاعروں کا کوئی نیا کھیل نہیں ہے۔ آدم علیہ السلام پر وار کرنے کے بعد مذہب کے گوشت   کا چسکا ہی لگ گیا۔ ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض نئی زندگی پا کر بھی ان کے مقابلے کا ارتدادی شاہکار پیش نہیں کر سکتے”۔

    مقالہ نگار نے بوجوہ اس بھتیجے کا نام نہیں لیا جس نے یہ شعر تخلیق کیا۔  یہ غالب کے بھتیجے تو بالکل نہیں لگتے۔ تیور دیکھیں تو انہیں اکبر الہ آبادی کے بھانجے بھتیجوں میں  شمار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کی زبان کا جدیدیت سے کوئی رشتہ دکھائی دیتا ہے نہ سوچ  کا ترقی پسندوں سے کوئی تعلق نظر آتا ہے۔  کھینچ تان کی جائے توجنت میں جانے کے لئے مرنے کے ذکر کو خود کش مجاہدوں کی جانب اشارہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن شجر ممنوعہ کو مذکر باندھ کر شاعر نے جنت میں حوا کی موجودگی پر اشتباہ کا اظہار کیا ہے۔ جس سے آدم کے بارے میں  اس ناگفتنی کا خیال بھی آسکتا ہے جس کا اس شعر میں کہیں ذکر نہیں۔

    چبھتا سوال یہ ہے کہ اگر خلافت ارضی سے مراد زمین پر اولاد آدم میں  اضافہ تھا تو آدم وحوا کو شجر ممنوعہ کے قریب جانے سے روکا کیوں گیا۔ اگر یہ جرم نہیں تھا تو جنت سے نکالا کیوں گیا۔ اگر اس وقت ممنوع تھا تو اب یہی  جنت کا انعام کیسے بن گیا۔  کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسروں کی پیروی میں ہم نے تخلیق انسانی کا بیانیہ بدل لیا ہو۔ اگر خلافت ارضی کو جنسی جہاد سے کوئی نسبت نہیں تو حوروں بھری جنت کے  نفسانی تصور سے کہیں آخرت کا عقیدہ آواگون کی کہانی میں تو نہیں بدل گیا۔ اسی دنیاوی جیون کا دوسرا دور جس میں وہی زن زر زمین کے جھگڑے۔ وہی شرابو شباب کی باتیں۔ ادبی ارتداد کے اس بھارتی جہاد سے دنیا کے پری زاد تو بیزار ہیں ہی جنت کی حورین بھی بنی آدم کو دیکھ کر بھاگنے لگیں گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleچراغ رہگزر اور ہمارامقبول بیانیہ
    Next Article کیا بلوچ شناخت خطرے میں ہے ؟
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by