Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گداگری میں اضافہ روکنے کے لئے معاشرتی رویہ بدلنا ہوگا
    کالم

    گداگری میں اضافہ روکنے کے لئے معاشرتی رویہ بدلنا ہوگا

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاگست 2, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں مانگنے والا زیادہ کماتا ہے اور کمانے والا کم کماتا ہے۔ ہم کسی کو اس کا حق دینے سے گھبراتے اور مانگنے والے کو خیرات دے کر روحانی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے اس تضاد نے معاشرے میں گدا گری کے کلچر کی حوصلہ افزائی اور محنت و مزدوری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

    ایک این جی او نے دو بچوں میں سے ایک کو مانگنے کے لیے اور دوسرے بچے کو مزدوری کے لیے بھیجا۔ مزدور بچہ شام کو 500 روپے کما کر لایا اور مانگنے والا بچہ 5000 روپے لے کر آیا، اسی سروے اور مثال سے ہمارے Mindset کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک فروٹ کی ریڑھی کے ساتھ فقیر چادر بچھا کر زمین پہ بیٹھا ہوا ہے۔ جب ہم فروٹ لیں گے توقیمت کم کروانے کے لیے اس غریب سے لڑیں گے اور صبح سویرے اٹھ کر منڈی جا کر فروٹ لانے والے اور سارا دن کھڑے ہو کر محنت کرنے والے اس محنت کش کی ریڑھی پہ اپنی مرضی کے پیسے پھینک کر فروٹ اٹھا کر لے آئیں گے اور گزرتے ہوئے فقیر کی جھولی میں اپنے بچوں کا صدقہ بھی ڈال دیں گے جبکہ پھل فروش بوڑھا انسان ہماری توجہ کا زیادہ حقدار ہے اگر ہم اسے دو پیسے زیادہ بھی دیں گے اس سے بھی اللہ خوش ہوگا اور وہ عمل ہماری آخرت میں زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا۔

    میں صبح اپنے بیٹے کو کالج چھوڑنے کے بعد اشارے پہ اکثر رُکتا ہوں، وہاں ایک فقیر گردن کے گرد کالر لگائے، عرصہ دراز سے ہاتھ میں تسبیح لے کر مانگ رہا ہے، ایک جوان خاتون اسی اشارے پہ مانگتی ہے۔ آج تک اس کا کالر نہیں اترا اور وہ صحت یاب نہیں ہوا۔ اس سے اگلے اشارے پہ ایک خاتون بڑا سا اشتہار پکڑے نظر آتی ہے جس پہ لکھا ہوتا ہے ”میں بیوہ ہوں میرے دو بچے ہیں ان کی روٹی کیلئے مدد کریں”۔ اگر آپ غور کریں تو آپ کو اشاروں، چوکوں اور خاص سڑکوں پہ کوئی نیا گدا گر دکھائی نہیں دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حقیقی ضرورت مند نہیں ہیں یہ مافیا اور قبضہ گروپ ہیں۔ انہوں نے مقامات تقسیم کر رکھے ہیں جہاں کوئی نیا گداگر نہیں آسکتا اگر آنا چاہے تو پہلے اسے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اگر اجازت کے بغیر یا ضد سے کھڑا ہو گا تو اس کا حشر بُرا کر دیا جائے گا۔

    جب آپ کسی ایسے شخص کو بھیک دیتے ہیں جو مستحق نہیں ہے گویا آپ نے کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم کر دیا

    ہمارے محلّے میں ہر جمعرات کو مانگنے والی خاتون سے میں نے کہا ہمیں ایک ملازمہ کی ضرورت ہے اگر تم ملازمت کرو تو اس ذلت کی زندگی سے تمہیں چھٹکارا مل جائے گا، اُس روز کے بعد اس نے مجھ سے بھیک مانگنا چھوڑ دیا۔ ایسی اجتماعی برائی پر قابو پانے اور ختم کرنے کے لیے افرادِ معاشرہ کا بیدار ہونا اور عملی اقدام کرنا از حد ضروری ہے۔ جب ہم کسی بھکاری کو بھیک دیتے ہیں گویا ہم گداگری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں اور محنت کش کی حوصلہ شکنی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا۔

    مذہب نے کبھی گداگری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، مذہب نے محنت سے کمانے کو پسند کیاہے۔ حدیث پاک ہے ”کمانے والا اللہ کا دوست ہے”۔ تاجر کے متعلق فرمایا: ”ایماندار تاجر روز قیامت انبیاء وصدیقین کے ساتھ ہوگا”۔ رسول اللہ نے مانگنے والے کو اسی کے سامان کی فروخت کے بعد ملنے والی رقم سے اسے رَسی اور کلہاڑا خریدنے کی تلقین فرمائی تاکہ وہ لکڑیاں کاٹ کر حلال روزی کمائے۔ علماء کرام نے پروفیشنل گداگر کو بھیک دینا حرام اور ناجائز لکھا ہے کیونکہ جب آپ کسی ایسے شخص کو بھیک دیتے ہیں جو مستحق نہیں ہے گویا آپ نے کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم کر دیا۔ اس لیے یہ بات ذہن میں رکھئیے کہ آپ کے اس عمل سے ضروری نہیں ہے کہ آپ اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں ۔ممکن ہے غیر حقدار کو دینے کی وجہ سے کل روز قیامت آپ کا مواخذہ ہو کہ اللہ کی اس نعمت کو آپ نے ایک ایسے شخص کو دے کر ضائع کیا جو اس کا حقدار نہیں تھا۔ انفاق، صدقہ اور خیرات کی قبولیت کا مقام اتنا ہی بلند ہوتا ہے جتنا اسے اعلیٰ مقام و مقاصد کیلئے خرچ کیا جائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article’دوٹوک‘ سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ کی بے لاگ تبصروں پر مشتمل کتاب
    Next Article خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ، بلوچ تہذیب کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by