Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جیل میں نوازشریف کی پہلی رات کیسی گزری
    کالم

    جیل میں نوازشریف کی پہلی رات کیسی گزری

    اعظم خانBy اعظم خانجولائی 14, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ دیواریں کھردری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی مرمت کئی دہائیوں سے نہیں ہوئی۔ اس کمرے کے ساتھ ایک واش روم ہے جس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کمرے میں ایک پرانے دورکا پنکھا ہے جو اپنی مرضی سے اپنا سرکل پورا کرتا ہے۔ اے سی اور ٹی وی جیسی سہولیات کا کوئی نام ونشان ہی نہیں ہے۔ اس کمرے میں زمین پر پڑے گدے پر ملک کے تین بار بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف گہری سوچ میں بیٹھے ہیں، نیند انکی آنکھوں سے کوسوں دور ہے جبکہ ان کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ صبح جیل مینوئل کے مطابق انہیں ناشتہ ضرور ملا لیکن خواہش کے برعکس آج ان کو اخبارات نہیں دیے گئے اورباہر کسی سے کوئی رابطے کی صورت بھی موجود نہیں ہے۔ اس جیل میں قیدیوں کو کچھ لودو کے اصول کے تحت فون کی غیراعلانیہ اجازت حاصل ہے۔ جیل سپریٹینڈنٹ نے آکر کہا آپ سے کچھ وکلاء ملنے آئے ہیں۔ نوازشریف کو یہ پولیس افسرملاقات کے لیے ایک مختص کمرے میں لے گئے جہاں ان کے وکلاء بیرسٹر سعد ہاشمی اور ظافرخان ان کا انتظار کررہے تھے۔ دونوں نے خیریت دریافت کی اور اپیل دائر کرنے کے لیے ان کے دستخط حاصل کیے۔ ابھی سابق وزیراعظم جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق آگاہ کر ہی رہے تھے کہ پولیس افسرجو خود بھی اس ملاقات میں شامل رہے، نے کہا کہ سر آپ کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ پانچ منٹ کا ہی وقت ہوتا ہے۔ وکلاء نے مریم نوازسے ملنے کی استدعا کی تو یہ کہہ کر اس کو رد کردیا گیا کہ صرف سہی ملاقات کرسکتے ہیں جن کے مریم نواز کا وکالت نامہ ہوگا۔
    مریم نواز کے وکلاء کو یہ خبر کردی گئی جس کے بعد انہوں نے دستخط حاصل کرنے کی تیاری کی اور ایک وکلاء کی ایک دوسری ٹیم جیل کی طرف روانہ کی گئی۔ مریم نواز نےبھی عام خواتین قیدیوں کےساتھ علیک سلیک کی۔ ابھی نوازشریف اور مریم نواز جیل کا لباس نہیں پہن رہے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھ ضروری استعال کی اشیاء رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
    نوازشریف کے وکلاء نے اے کلاس کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطے کیا ہے جبکہ مریم نوازنے کسی قسم کی درخواست تک دینے سے انکارکردیاہے۔ ان کی طرف سے ہاتھ سے سادہ کاغذ پر لکھے گئے خط کو ان کی سوشل میڈیا ٹیم تک بھی پہنچایا گیا جس کے مطابق انہوں نے خصوصی سلوک کی آفرٹھکرادی ہے اوراب وہ جیل میں ایک عام قیدی کی طرح وقت گزار رہی ہیں۔ "جیل تو پھر جیل ہی ہوتی ہے، اتنا آسان تو نہیں ہوتا وہاں رہنا” یہ الفاظ تھے ایک ملاقاتی کے جو سابق وزیراعظم سے مل کرواپس آرہے تھے۔ ملاقاتی کے بقول نوازشریف کے ساتھ کوئی بدسلوکی بھی نہیں کی گئی تاہم اگر جیل حکام ابھی تک ان کو وہ سہولیات ہی مہیانہیں کرسکے جو ایک سابق وزیراعظم کو ملنی چاہیں تو اس کا مطلب ہے کوئی یہ سب کچھ سبق سکھانے کے لیے ہی کررہا ہے۔ نوازشریف نے اپنے وکلاء سے باہرکے حالات معلوم کیے۔ نوازشریف نے میڈیا پر چلنے والی خبروں سے متعلق بھی دریافت کیا۔
    یاد رہے کہ نوازشریف اورمریم نواز کی فلائیٹ ہیتھرو ائیرپورٹ سے ابوظہبی ائیرپورٹ اور پھر لاہور پہنچی جہاں سے دونوں کو اسلام آباد کے نیو انٹرنیشل ائیرپورٹ پر اسپیشل طیارے سے لایا گیا۔ ہفتے کی رات نوازشریف اورمریم نواز کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیرسے رات 10 بجے کے قریب گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیاگیا۔ نیوائیرپورٹ سے باپ بیٹی کو گاڑیوں کے قافلے میں لایا گیا۔ اس قافلے میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ ٹریفک پولیس نے روٹ لگایا تو یہ اسلام آباد ہائی وے سے ہوتا ہوا نورخان ائیربیس کے قریب سے گزرکر اڈیالہ جیل پہنچا۔ میڈیا پر ایک ایسا نوٹیفیکیشن بھی سامنے آیا جس کے مطابق انتظامیہ نے سہالہ ریسٹ ہاوس کو مریم نواز کے لیے سب جیل قراردیا اور اب میڈیا کی بڑی تعداد پولیس کے اس ریسٹ ہاوس کے باہر پہنچ گئی۔ لیکن یہ نوٹیفیکشن شاید میڈیا کی توجہ بانٹنے کے لیے تھا۔ شریف خاندان کی اب میڈیا سے مکمل دوری کا منصوبہ بن چکاہے۔ وزارت قانون نے رات کو یہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا کہ نوازشریف کے خلاف باقی دوریفرنسزپرٹرائل اب جیل کے اندر ہی ہوگا۔ جج محمد بشیر، پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اورنیب کے تفتیشی افسران بھی جیل جاکرعدالتی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔ جمعہ کو نوازشریف کے خلاف فیصلہ آیا اور پھر جمعہ کو ہی نوازشریف ملک واپس پہنچے۔ نوازشریف اور مریم نوازکی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ وینٹیلیٹر پرآخری ملاقات کا میڈیا اورخاص طور پرسوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا۔ اس تصویرمیں نوازشریف انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں اپنی اہلیہ کے سرہانے کھڑے اپنی اہلیہ کے سر کوپکڑکر کچھ پڑھ رہے ہیں جبکہ مریم نواز نوازشریف کے دائیں کھڑی ہو کر اپنی ماں کو دیکھ کرروتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ اس تصویر کا بہت اثرہوا۔ لاہورمیں بڑی تعداد استقبال کے لیے باہر نکل آئی لیکن میڈیا نے ان مناظر کو بلیک آوٹ کیے رکھا۔ سینئر اینکر طلعت حسین نے اس حوالے سے ریکارڈ کیے گئے اپنے ایک پروگرام کو ٹی وی پر نشر نہ ہونے کی شکایت ٹویٹر پربھی کی۔
    جعمہ کے دن بلوچستان میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا جس میں 100 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے لیکن میڈیا نے اس واقعے کو زیادہ کوریج نہیں دی۔ جمعہ کے دن ہی بنوں میں سابق وفاقی وزیر محمد اکرم درانی کے جلسے میں خودکش حملہ ہوا اور متعدد افراد قتل ہوئے لیکن میڈیا نے اس واقعہ کو بھی زیادہ کوریج نہیں دی۔ نواشریف کی کوئی تقریر میڈیا پر نہیں چل سکی۔ سیکیورٹی کے پش نظرمیڈیا نمائندوں کےموبائل فونز سے جہاز میں لی گئی نوازشریف اور مریم نواز کی ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کردی گئیں۔ اس کے باوجود طیارے کے اندر کی تصاویراورویڈیوز منظرعام پر آئیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشفاف انتخابات اور بلدیاتی منتخب عہدیداران پر قدغن
    Next Article مری کی سیاسی صورتحال
    اعظم خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by