Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»فوج سے کبھی پیسے نہیں لیے
    کالم

    فوج سے کبھی پیسے نہیں لیے

    اعظم خانBy اعظم خانجون 10, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نواز شریف نے 1990 میں ہونے والے  انتخابات سے متعلق اپنے حلفاً تحریر کیے گئے  بیان میں  یہ  دعویٰ کیا ہے کہ انہوں کبھی آئی ایس آئی سے پیسے نہیں لیے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنا یہی موقف ایف آئی اے کے سامنے بھی دہرایا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف سے فوج کے دواہم حساس اداروں  ایم آئی اور آئی ایس آئی سے مالی امداد لینے کے بارے میں جواب طلب کیا تھا۔

    میں ہمیشہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آیا ہوں، کبھی کسی کی بیساکھی استعمال نہیں کی ۔

    مجھے ایک صحافی کی حیثیت سے مختلف مجالس میں متعدد بار نوازشریف سے اس بارے  پوچھنے کا موقع ملا لیکن ہمیشہ وہ اسے اپنا  ناپسندیدہ ترین موضوع قراردیتے رہے۔ بہت کم مواقع ایسے ہیں کہ انہوں نے اس سے متعلق بات کی ہو۔ جب بھی اس سے متعلق سوال کیاگیا تو  انہوں نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا۔ احتساب عدالت میں ان سے جب سوال کیا کہ آپ ماضی میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ سیاستدان رہے ہیں اور آپ کے سیاسی سفر کا آغاز بھی مارشل لاء کے دور سے ہوا۔ محمد نوازشریف نے اس پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا جب بھی پاکستان میں کسی سیاستدان نے سر اٹھایا تو ایسے ہی حالات تھے۔ انہوں نے واضح طور پر 1990 پر کوئی موقف نہیں دیا لیکن یہ کہا کہ وہ 1988 اور پھر 1990 میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرکے اقتدار میں آئے۔عوام کے علاوہ وہ ماضی میں بھی کسی کے ممنون احسان نظر نہیں آتے۔ متنازعہ ماضی کے بارے میں ان کےقریبی دوست پرویز رشید نے کہا جب عمران خان 1990 اور 2013 سے متعلق یہ الزامات دہراتے ہیں کہ نوازشریف فوج کی مدد سے اقتدار میں آئے تو  وہ خود بتائیں کہ آج عمران خان کہاں کھڑے ہیں اور ان کی اپنی پوزیشن کیا ہے؟ نوازشریف نے خاموشی سے پرویز رشید کی بات سنی اور اس پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ نوازشریف یہ سمجھتے  ہیں کہ فوج کے بالواسطہ  یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طور سیاست میں ہمیشہ ہی کردار رہا ہے جس کی وجہ سے ہر دور میں ہر سیاستدان کو یہ چیلنج درپیش رہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیسے معاملہ کرے۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ اس مشکل صورتحال میں سیاستدانوں سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور وہ سیکھ کر مزید آگےبڑھنے  کا سفر طے کرتے ہیں۔  عمران خان کا معاملہ اس حوالے سے  مختلف ہے اوران کی سیاست بند گلی والی ہے۔ سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ اور فوج کے سربراہ سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کچھ عناصر کی طرف سے سیاست میں غیر آئینی مداخلت کا خود بھی نوٹس لیں کیونکہ جہاں یہ فوج اور سپریم کورٹ کی ساکھ سے جڑا ہوا موضوع ہے وہیں یہ قوم کی بقا کے لیے بھی ایک خطرناک کھیل ہے۔

     

    فوج کا بالواسطہ یا بلاواسطہ  کسی نہ کسی طور سیاست میں ہمیشہ کردار رہا ہے،جس وجہ سے ہرسیاست دان کو چیلنج درپیش رہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیسے معاملہ کرے۔ اس مشکل صورتحال میں سیاستدانوں سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور وہ سیکھ کر مزید آگےبڑھنے  کا سفر طے کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے جس دن نوازشریف کو ایک گھنٹے کے نوٹس پر طلب کیا تو وہ اس وقت پانامہ ریفرنسز کے سلسلے میں ٹرائل کورٹ میں موجود تھے۔ یہ 6 جون کا ایک شدید گرم دن تھا۔ نواز شریف کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو جج محمد بشیر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس پر سماعت کررہے تھے۔ انہوں نے وہ سماعت ملتوی کردی کیونکہ نواز شریف کے کیس سے زیادہ اہمیت کسی اور کیس کو حاصل نہیں ہے اور نہ ہی عدالت شریف خاندان کے علاوہ کسی اور کی شنوائی کرنے کو تیار نظر آتی ہے۔ نواز شریف نے صحافیوں سے بات چیت شروع ہی کی تھی کہ ان کے خصوصی معاون آصف کرمانی نے ان کے کندھوں سے اوپر ہاتھ بڑھا کر ان کی آنکھوں کے سامنے موبائل فون رکھ دیا۔ پیغام پڑھتے ہی نواز شدیف کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔ نوٹس کے مطابق نواز شریف کو ہدایت تھی کہ چھوٹی عدالت میں نہ بیٹھیں، سیدھا بڑی عدالت آجائیں۔

    آج مریم نواز عدالت نہیں آئی تھیں  اور اپنی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھجوائی تھی ۔  بیٹی کو غیر موجود پاکر سابق وزیراعظم نے کمرہ عدالت میں موجود اپنے دیگر رفقا سے فوری مشاورت شروع کردی۔ کمرہ عدالت میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جیسے ہر کوئی دوسرے سے کوئی بات پوچھ رہا ہو؟ باہر سے کچھ مزید پارٹی رہنما اور صحافی بھی کمرہ عدالت پہنچے تو صورتحال مزید واضح ہوگئی۔ جج محمد بشیر بھی صورتحال کا خاموشی سے بغور جائزہ لے رہے تھے۔ نیب کے پراسیکیوٹرز ایون فیلڈرریفرنس میں حتمی دلائل دے رہے تھے کہ نوازشریف نے اپنے وکلاء کوبھی مشاورت کے لیے روسٹرم سے اپنے پاس بلا لیا۔ جج محمد بشیر صورتحال کو بھانپ گئے تھے کہ کچھ غیر معمولی حالات بن گئے ہیں۔ انہوں نے عدالتی کارروائی میں وقفے کا اعلان کردیا۔

    نواز شریف اب تک  80 سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں اورایسے میں یہ پیغام ملا کہ یہ ٹرائل چھوڑ کر ایک دوسرے ٹرائل کا حصہ بن جائیں۔ سابق وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو صاف بتا دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں 1990 دھاندلی کیس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہاpre poll riggingتو اب ہورہی ہے۔ اس دھاندلی کا آغاز میرے خلاف پانامہ فیصلے سے ہوا پھر پارٹی صدارت سے ہٹا کر تاحیات نااہل کر دیا۔ سینیٹ میں candidates کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کردیا گیا جس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام لیے بغیر کہا ہر چیز کاsuo moto لیتے ہیں لیکن جو مسلم لیگ کے لوگوں کو ہٹا کر دوسری جماعتوں میں شامل کرتے ہیں ،اس کا  بھی کسی نے نوٹس لیا کہ نہیں؟ بول ٹی وی کی صحافی علینہ نے سوال کیا فون کالز تو پرویز رشید سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کو بھی موصول ہوئی ہونگی تو جو پارٹی چھوڑ جاتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ وفادار نہیں ہیں؟ نواز شریف نے کہا کہ آپ کو شاید ساری صورتحال کا پتہ نہیں ہے کہ کس طرح کچھ لوگ اس ملک میں operate کرتے ہیں۔ جب آپ کو پتا چلے گا تو پھر آپ مجھ سے سوال کرنا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک دن قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ 2018 تبدیلی کا سال ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ تبدیلی کو عام طور تحریک انصاف کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ لیکن نوازشریف ایسا نہیں سمجھتے اور اس بیان کو بھی مثبت قراردیتے ہیں۔ میں نےاس بریفنگ کے تناظر میں جب سوال پوچھا کہ کیا 2018 تبدیلی کا سال ہے؟ سابق وزیر اعظم نے کہا تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا، تبدیلی ہوکر رہے گی اور تبدیلی اس ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ ابھی اس موضوع پر اظہار خیال کررہے تھے کہ جج کمرہ عدالت میں دوبارہ آگئے اور نوازشریف ایک پارٹی رہنما کے گھر چلے گئے جہاں اپنے وکلاء کے ساتھ مل کر انہوں نے 1990 کے انتخابات سے متعلق الزامات پر سپریم کورٹ میں جواب دینے کی حکمت عملی پر مشاورت کی اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وکیل کے ذریعے  عدالتی کارروائی کا حصہ بنیں گے، البتہ خود چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے وہ پیش نہیں ہونگے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article نواز شریف کی چیف جسٹس پر تنقید
    Next Article دورِ زوال کا نوحہ
    اعظم خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by