Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»رمضان المبارک اور ہمارے رویے
    کالم

    رمضان المبارک اور ہمارے رویے

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولمئی 25, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    رمضان المبارک کے آتے ہی ہمارے ملک میں بہت کچھ مختلف ہو نا شروع ہو جا تا ہے ،کچھ مثبت اور بہت کچھ منفی۔مثبت یہ کہ لوگوں میں دینی تعلیمات کی طرف ایک رجحان پیدا ہو تا ہے جس سے ایک روحانی ماحول پیدا ہو تا ہے ۔بند گانِ خدا مساجد میں دن رات حاضری دیتے  ہیں،قر آ ن مجید کی تلاوت کر تے اور مخلوقِ خدا کی خدمت کر تے ہیں ۔گھروں میں بھی ایک مختلف ما حول دکھائی دیتا ہے ۔بچے بوڑھے مر دو عورت کسی نہ کسی صورت میں ذکر الہی میں مصروف ہوتے ہیں ۔گھروں میں مل بیٹھ کر سحر و افطار کا ما حول ہماری مشرقی روایت کی ایک روشن مثال ہے جو صدیو ں سے قائم اور جاری ہے ۔مسلمان باقی مہینوں کی نسبت اس ماہ میں زیادہ غریبوں ،مفلسوں اور بیواؤں پہ خرچ کر تے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں دیگر اسلامی ممالک میں یہی پا کیزہ اور پر سکون ما حول دکھائی دیتا ہے۔
    رمضان المبارک میں ایک ایسا طبقہ بھی متحرک نظر آ تا ہے جو سارا سال نقب لگا کر رمضان کا انتظار کر رہا ہو تا ہے۔ رمضان المبارک میں غیر معمو لی مہنگائی کا سا منا کر نا پڑتا ہے ۔ اس ماہ مبارک میں بہت سے غریب گھرانوں کو فروٹ کے بغیر روزہ افطار کر تے دیکھا ہے کہ غریب مسلم اور غیر مسلم اس بات کا انتظار کر تے ہیں کہ رمضان المبارک گزر جا ئے تاکہ وہ فروٹ اور گوشت خرید سکیں۔اس مہنگائی کے پیچھے ہمیں یقین ہے کہ ہنود و یہود کی سازش کار فر ما نہیں ہے ۔حکومتِ وقت رمضان بازار کا اہتمام کر  تی ہے اور عوام کو اربوں کی سبسڈی دیتی ہے ۔مجھے اس طریقہ کار کا زیادہ علم تو نہیں ہے لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہو تا ہے حکومتِ وقت ایسا طریقہ کار تشکیل کیوں نہیں دیتی جس کے مطابق مجموعی طور پر مہنگائی کنٹرول میں آ جائے ۔رمضان بازار میں فروٹ ،سبزیاں اور دیگر اشیا پہ سبسڈی کے ساتھ ملک میں مہنگائی کا خاتمہ ہو اور لو گو ں کو معیاری اشیا کم قیمت پہ مہیاہوں۔اس میں ذرِہ بھی شک نہیں ہے کہ یہ کلی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔اس میں جو زیادتی ہوتی ہے اس کا خاتمہ حکومت وقت ہی کرسکتی ہے ۔
    ایک ادنیٰ سی گزارش عوام کی خدمت میں بھی ہے ۔رمضان المبارک صبر و بر داشت کا مہینہ ہے یہ ہمیں استغنا کی تعلیم دیتاہے،لالچ،حرص اورطمع سے ہمارے دل کو پاک کر تا ہے ۔روزے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے تن سے زیادہ من پہ توجہ کریں، اپنے ظاہر سے زیادہ باطن کو سنواریں ۔روزہ تقویٰ و شکر اور تزکیہ نفس کا بنیادی ذریعہ ہے یہ سب کچھ وہ تعلیم و مقصد ہے جسے ہم میں سے ہر ایک سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، ایسا کیوں ہے کہ گیارہ مہینے ہم اتنا فروٹ اور دیگر اشیا خوردنی نہیں کھاتے جتنا ہم رمضان المبارک میں کھا جا تے ہیں ۔گیارہ مہینے کا فروٹ ایک طرف او ررمضان المبارک کا فروٹ اس سے زیادہ ہے ۔ہمیں اس نکتہ کی طرف توجہ کر نی ہے جو رو حانیت ہمیں رمضان المبارک میں حاصل کر نی چا ہیئے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم یہ مہینہ دیگر مہینوں سے زیادہ دنیا داری کی نذرکر دیتے ہوں ۔اگر ہم اس مہینے کو بھوک، پیاس اور اپنی خواہشات کو کنٹرول کر نے کا مہینہ بنا لیں تو یقیناًمہنگائی کر نے وا لا مافیا بھی کنٹرول میں آ جائے گا۔۔ ایسی صورتِ حال کی ایک وجہ یہ بھی ہے جس کا میں نے ذکر کر دیا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تما م سال گاہے بگاہے روزہ رکھتے تھے ۔پیر کے دن پابندی سے روزہ رکھتے ۔جمعرات  اورجمعہ کا بھی روزہ رکھ لیتے ۔ایام بیض(چاند کی تیرہ ،چو دہ، پندرہ تاریخ)کے روزے بھی رکھتے۔شعبان کے روزے رکھتے ۔یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے۔شوال کے چھ روزے اور  ایسے بہت سے روزے رکھتے تھے ۔

    اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی اس عادت کو اختیار کر لیں تو شاید روزہ عادت میں آ جانے کے باعث ہم وہ نہ کریں جو ہم رمضان میں کر تے دکھائی دیتے ہیں۔ روزہ ہماری عادت اور روٹین میں شامل ہوجائے تو ہمارا رویہ رمضان کے روزوں سے متعلق بھی مختلف ہو جائے گا ۔خصوصی اہتمام کے نام پہ دستر خوان کو مختلف کھانوں اور ڈشوں سے بھر نے کے رواج میں بھی کمی آ ئے گی۔مہنگائی کو کنٹرول کر نے کا ایک طریقہ قناعت و سادگی بھی ہے۔۔ ڈیمانڈ میں کمی آئے گی تو مہنگائی بھی کنٹرول ہوجائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنوازشریف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
    Next Article کیا تاریخ خاموش رہ سکتی ہے؟
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by