Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قندوز حملہ: ردِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
    کالم

    قندوز حملہ: ردِ عمل کیا ہونا چاہیے؟

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاپریل 13, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    قندوز میں ہونے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں101حفاظ کرام شہید ہوئے ۔اس کے بعدمسلم دنیا میں شدید ردِعمل سامنے آیا اور امریکہ و یورپ پر شدید تنقید کی گئی۔ردِ عمل میں بہت سے مسلم والدین نے بچوں کوقرآن مجید حفظ کرانے کا عہد کیا ۔کئی ایسے والدین سے بھی رابطہ ہوا جنہوں نے باقاعدہ سکول سے اپنے بچوں کو اٹھا کر مدارس ومساجد میں حفظ کے لئیے داخل کرا یا ہے ۔
    بچوں کے والدین کے جذبات قابل تحسین و تعریف ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جس قوم کے خلاف جذبات کے تحت بچوں کو حفظِ قرآن کے لیئے داخل کرا یا گیا ہے کیا اس طرح اس کا مقابلہ ممکن ہے ؟ حفاظ کرام کی شہادت کے ردِ عمل میں ہو نا یہ چا ہیئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کو سائنس دان ،قانون دان،جدید مذہبی سکالر ،معیشت دان اور ماہر تعلیم بنانے کا ارادہ کرتے تا کہ مغرب کا مقابلہ انہی کے ہتھیار کے ذریعے سے کیا جائے۔

    اگر والدین حفظ قر آن کا جذبہ رکھتے ہیں تو اس عظیم کام کے لیے وہ خود کو پیش کر سکتے ہیں ۔ میں نے ایسے کئی خوش نصیب والدین دیکھے ہیں جنہوں نے ادھیڑ عمری میں قرآن مجید حفظ کیا۔ مسلمانوں کے دورِعروج میں یورپ نے اپنی کتاب مقدس حفظ کر نے کے بجائے مسلمانوں میں جدید مروج علوم پہ مشتمل کتب و تحقیق کو اپنے ممالک میں لا کر ان پر کام کیا، کتب کے تراجم کیے گئے اور مزید ان پہ کام کا آغاز کیا گیا۔بنیادی طور پر یہ وہ رویہ ہے جو قوموں کو آگے لے کر جا تا اور اس قابل بنا تا ہے کہ وہ طاقتور قوم کے مقابل کھڑی ہو جا ئے ۔

    بحیثیت مسلمان ہم اپنے معاشروں کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہمیں قر آن مجید پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئے گی  لیکن قر آن مجید  کو سمجھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ان میں بھی وہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جنہوں نے اپنے ما حول ،فرقہ اور جماعت سے بے نیاز ہو کر قرآن مجید کوسمجھا ہو۔مسلم معاشرے علمی واخلاقی زوال کی جس پستی کو چھو رہے ہیں وہ کسی  داناسے پو شیدہ نہیں ہے ۔

    ہماری سر زمین عظیم قانون دان،فقیہ ،سائنسدان ،فلاسفر اور ماہرین تعلیم پیدا کر نے سے بانجھ ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ بانجھ پن سالوں کا ہے بلکہ یہ صدیوں پہ محیط ہے،ہم جس قوم کے مقابل ردِ عمل میں جذباتی قدم اٹھاتے ہیں وہ قوم صدیوں سے ایسے بڑے لوگ پیدا کر رہی ہے اور اپنی ترقی وعروج سے لطف اندوز ہو رہی ہے ۔ان کے ہاں نظام تعلیم ہو یا نظام جمہوریت ،سائنسی ترقی ہو یا سیاسی استحکام ،نظام عدل ہو یا نظام معیشت ،اس نے ہر شعبے میں کمال ترقی ہی نہیں کی بلکہ انسانیت کو اس سے مستفید ہونے کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔

    ردِ عمل میں اگر  آگے بڑھنا ہے اورمقابلہ کر نے کی خواہش ہے بھی تو اس کے لیےدرست سمت پر اپنے سفر کا آغاز کیا جائے۔قرآن مجید حفظ کر نے سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن قرآن مجید کی حقیقی تفہیم ہی اس دورِ زوال سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔رہبا نیت اور ترکِ دنیا کے بجائے کارزارِ دنیا میں حکمت و فراست کے ساتھ آگے بڑھنے کی تعلیم ہمیں قر آن مجید سے ہی ملتی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپشاورمیں پشتون تحفظ تحریک کاکامیاب جلسہ
    Next Article پختون تحفظ موومنٹ: حقوق کی جنگ یا غداری
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by