Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خطبہ جمعہ اور خطبا ء کی ذمہ داری
    کالم

    خطبہ جمعہ اور خطبا ء کی ذمہ داری

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاپریل 5, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کہاجاتا ہےکہ مہاتمی گاندھی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ مسلم راہنماؤں کو اپنی آواز پہنچانے کے لیے کسی اجتماع  کو منعقد کر نے کی ضرورت نہیں ہوتی،انہیں ان کے دین کی طرف سے یہ سہولت میسر ہے کہ دن میں پانچ مر تبہ نماز با جماعت کا اہتمام کیا جا تا ہے، ہر ہفتے جمعہ کا اجتماع اور سال میں دو عیدوں کا اجتماع منعقد کیا جا تا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر اجتماعات بھی منعقد ہوتے ہیں جن میں مسلم راہنما جو پیغام دینا چاہیں، وہ پیغام لو گو ں تک پہنچاتے ہیں۔

    جمعہ کا اجتماع مسلم معاشروں میں دیگر اجتماعات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔بنیادی طور پر یہ ذمہ داری حکومتی نمائندو ں کی ہے کہ وہ عوام سے خطاب کر تے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر تے لیکن پاکستان میں یہ ذمہ داری علمائے کرام ادا کرتے ہیں جو مساجد کی ذاتی انتظامیہ کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں۔ بعض مساجد میں مدارس بھی قائم کیے گئے ہیں، اس طرح وہ  مسجد کے خطیب و عالم اور مدرسہ کے ناظم کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کر تے ہیں ۔ہم مساجد میں متعین خطباء کرام کو دوحیثیتوں  میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جو صرف خطیب ہیں اور جمعہ پڑھاتے ہیں ،ان کا محلے اور علاقے میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہوتا ۔دوسرے وہ خطیب حضرات  جن کا وہاں ایک مضبوط حلقہ ارادت و عقیدت ہوتا ہے، بعض او قات وہ اس وجہ سے کئی افراد کی دلآزاری اور تکلیف کا باعث بھی بنتے ہیں، ان میں سے ایک تکلیف تو یہ ہے کہ ایسے خطبا ءکی اکثر مساجد میں نماز جمعہ کبھی اپنے مقررہ وقت پہ نہیں پڑھایاجاتا۔ مثلاًنماز جمعہ کا وقت 2بجے ہے تو وہاں جماعت 2:30سےپہلے کبھی کھڑی نہیں ہو گی، یہ بھی دیکھنے میں آ یا ہے کہ اِدھر نماز جمعہ ختم ہوئی اور ادھر نماز عصرکا وقت شروع ہو جا تا ہے ۔
    بظا ہر یہ مسئلہ اہم اور بڑا دکھائی نہیں دیتا لیکن اس تا خیر پہ عوام کا ردِعمل اور شکوہ بہ اندازِ بدتمیزی اس مسئلے کی سنگینی کی طرف اشارہ کر تا ہے ۔اکثر افراد کو یہ کہتے سنا گیاہے کہ  ہمارے خطبا ء تقاریر بہت اعلیٰ کر تے ہیں لیکن خود عمل نہیں کر تے ۔یہ کہتے بھی سنا گیا کہ  اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں ایفائے عہد کی تلقین کر تے ہیں کیا وقت پہ تقریر ختم کر نا اور نماز جمعہ کھڑی کر نا یہ عہد شکنی نہیں ہے ؟۔یہ حقیقت ہے کہ نماز جمعہ میں شرکت کرنے والے لوگ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، دکاندار، ملازمت پیشہ،  ڈاکٹر وغیرہ کوئی ایسے مجبور لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی مریض کو ہسپتال اور کسی طالب علم کو امتحانی سنٹر لے کر جا نا ہو تا ہے۔عوامی ردِعمل بجا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے علماء و خطبا ء ایسا رویہ کیوں اختیار کر تے ہیں؟ اس رویے کے پس منظرمیں کئی وجو ہات ہوتی ہیں جن کا جا ننا ضروری ہے ۔
    بنیادی وجہ دعوتی سوچ کا فقدان ہے ۔اگر مدارس میں اس تربیت کا اہتمام کیا جائے اور ایسا ماحول مہیا کیا جا ئے جس میں پروان چڑھنے والا طالب علم دین کا داعی اور مبلغ بنے ،اپنے مسلک کا وکیل،مناظر اور خطیب نہ بنے۔دراصل داعی اور مبلغ اپنے آپ کو سب سے پہلے اخلاقی اوصاف سے متصف کر تا ہے وہ سمجھتا ہےکہ میرے بو لنے سے زیادہ میرے عمل کا اثر ہے ۔ایک گھنٹے کی تقریر کے بعد میں وقت پہ نماز جمعہ کھڑی نہ کر سکا تو میں نے اپنا کہا ہوا سب کچھ ضائع کر دیا۔داعی و مبلغ بو لتا کم اور عمل زیادہ کر کے دکھاتا ہے۔
    دوسری وجہ خطابت و تقریر با قاعدہ ایک فن اور صنعت بن چکی ہے ،جس میں دین کی روح مفقود ہے ۔خطیب اپنا معاوضہ اس طرح طے کر تے ہیں جیسے کسی گلو کار،قوال اور اداکار سے طے کیا جا تا ہے ۔اس لیے جمعہ کے اجتماعات ہوں یا کوئی اور مذہبی اجتماع، کوشش کی جاتی ہے کہ ایسا خطیب ہو جو عوام کو رلا بھی سکے اور ہنسا بھی سکے جس کی گفتگو” فروٹ چاٹ "کی طرح ہو جس میں ہر شے حسب ذائقہ موجود ہو۔
    تیسری وجہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت کا ما حول ہے ۔جس میں اپنی اصلا ح کے جذبے سے زیادہ دوسرے کی اصلاح کا جذبہ کار فر ما ہو تا ہے ۔ اپنی غلطیوں اور خطاؤں پہ نظر تب ہو، جب غلطیوں اور خطاؤں کے امکان کا خیال ہو۔ نقائص اور خا میاں طے شدہ ہوتی ہیں اور وہ دوسرے مسلک و فرقہ کے لو گو ں میں ہی ہوتی ہیں۔ ایسے ما حول میں کیسے کر دار سازی اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کی مثالیں قائم ہوں گی ۔یہ چند وجوہات ہیں جن کے باعث خطبا وعلما اس سوچ اور رویے سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہ رہے ہیں کیا وہ خود اس پہ عمل پیرا بھی ہیں یا نہیں ؟۔عوام سے اعلیٰ اصولوں کی پیروی کا تقاضا کر تے ہیں کیا ہم بھی اس کی پیروی کر تے ہیں یا نہیں؟۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپشتون تحفط موومنٹ
    Next Article سعودی عرب کے اخوان مخالف اقدامات
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by