بھارت کی طرح اب پاکستان میں سوشل میڈیا کا میدان جنگ بھی انتشار کا شکاربنتا جا رہا ہے۔ نا سمجھی یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی ترقی کی پر فخر تقریبات کی بجائے نو جوانوں کو رشوت، مہنگائی، بد عنوانی، زور زبر دستی، دھوکہ دہی، منافع خوری جیسے غیر متعلق مسائل میں الجھایا جا رہا ہے
کیا زمانہ آ گیا ہے کہ جو سچ بولے اس کو بھی سو تاویلیں کرنی پڑتی ہیں۔ بات منہ سے نکلی نہیں کہ اس کے ہزار مطلب سامنے آجاتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ ایک زمانہ تھا کہ سلفی سلفی ہوتے تھے۔ سچے توحید پرست، اللہ کو ایک ماننے والے۔ ایک لفظ کا ایک ہی معنی۔ اب سیلفی میدان میں آ گئے ہیں جو پرستش تو ایک کی ہی کرتے ہیں لیکن صرف اپنی۔ ان میں بھی دو فرقے ہیں ایک تو سوشل میڈیا پر اپنی سیلفیاں شیئر کرکے پوجا پاٹ سے فارغ ہو لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنے گورو کے لئے جیتے ہیں۔
خیریت جانبین مطلوب کے بعد عرض ہے کہ آج کل احتیاط کے طور پر بات کہنے سے پہلے مدعا بیان کر دینا لازمی ہو تا جارہا ہے ورنہ زبان تو اللہ نے ہر ایک کو دی ہے۔
آج کا مدعا یہ ہے کہ جس عنوان سے ہم بات کہنا چاہ رہے ہیں وہ تعلق تو سکھ مت سے رکھتا ہے لیکن اس میں ہمارے لئے بھی سبق ہیں کیونکہ سکھ مت بھی توحید پرست مذہب ہے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ہم اس عنوان کو مذہبی حیثیت نہیں دیتے۔ ہم پہلے تو اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ’’جو بولے سو نہال‘‘ کا جملہ غیر مذہبی سیاق میں بھی مذہبی ہی رہتا ہے۔ اس کو غیر مذہبی معنی نہیں پہنائے جا سکتے۔ دوسرے ہم یہ بھی بتائیں گے کہ جب بھی اس کو غیر مذہبی سیاق و سباق میں استعمال کیا گیا سکھ مذہبی رہنماؤں نے اس پر احتجاج کیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر اس عنوان کو غیر مذہبی معنی میں استعمال کر رہے ہیں اس سے توحید پرستوں کو سخت دکھ پہنچ رہا ہے۔
’’جو بولے سو نہال۔ ست سری اکال‘‘کا مطلب یوں ہے کہ: فلاح پائی اس نے جس نے خدائے واحد کی صداقت کا اعلان کیا۔ تاریخی طور پر یہ نعرہ ’’جےکارا‘‘ یعنی فتح کی للکار ہے جو گورو گوبند جی کے چیلے حملے سے پہلے لگایا جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے اس میں واہے گورو جی کا خالصہ۔ واہگورو جی کی فتح کا اضافہ بھی کردیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گورو گوبند جی کے چیلے گورو کے فدائی تھے جو جان ہتھیلی پر لے کر نکلتے تھے۔ یہ جنگ بھی خالص مذہبی ہوتی تھی اور یہ نعرہ بھی خالص مذہبی تھا۔ جنگوں کا زمانہ ختم ہو گیا تو اس نعرے کو سیاسی میدان اور سماجی تبدیلیوں کی تحریکوں میں بھی لگا یا جانے لگا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن کچھ نا سمجھ لوگوں نے اسے طنز اور مزاح کا رنگ دیا اور بعض نے اسے غیر مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کیا تو اس کی مذہبی حیثیت متنازعہ ہو گئی۔ ہم یہ بات دو مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ ایک منٹو کا مشہور افسانہ ہےاور دوسری 2005کی انڈین فلم ہے دونوں میں یہ نعرہ غیر مذہبی استعمال کی وجہ سے متنازعہ ہو گیا۔
پہلی مثال سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ہے۔ پاکستان کی آزادی کے موقع پر سکھوں کی سیاسی پہچان پر طنز کے لئے منٹو نے ایک سکھ کی کہانی لکھی جو پاکستان کی سرحدوں کو خلط ملط کر تا رہتا ہے۔ اسے پاگل بنا کر پیش کیا ہے تاکہ اس کنائے میں سرحدوں کے ساتھ آبادی کی تقسیم کو پاگل پن بتا یا جا سکے اور کوئی الزام بھی نہ آئے۔
اس سکھ کا اصل نام بشن سنگھ تھا جو ایک کھاتا پیتا زمیندار تھا لیکن اس کے رشتے دار اس کی زمین ہتھیانے کے لئے اسے پاگل قرار دلوا کر پاگل خانے میں داخل کر گئے۔ جہاں ہندو، مسلمان سکھ سب ایک ہی پاگل خانے میں جمع تھے۔ پاگل خانے میں خبر لیک ہو گئی کہ پاکستان بننے والا ہے اور پاگلوں کا بھی تبادلہ ہوگا۔ کرتے کرتے ہندو ہندوستان چلے گئے۔ اب صرف مسلمان رہ گئے تھے یا بشن سنگھ۔ اس کے رشتے دار ہندوستان جا چکے تھے۔ اس لئے وہ ملنے بھی نہیں آتے تھے۔ اس کی زمین اب کسی مسلمان کے قبضے میں تھی۔ بشن سنگھ کے لئے سوال تھا کہ اس کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں جائے گا۔ پاکستان میں یا ہندوستان میں۔
اس کے لئے یہ جاننا ضروری تھا کہ وہ کہاں جائے گا۔ سنجیدہ مسئلہ تھا اس لئے سوال انگریزی میں کر نا ضروری تھا۔ سوال براہ راست بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے لئے مناسب تمہید بھی چاہئے لیکن اشارے اور کنایے میں ۔ چنانچہ اس نے بہت سوچ سمجھ کر سوال یوں ترتیب دیا ’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی لالٹین ‘‘۔ منگ دی دال یعنی مونگ کی دال کا سادا سا کنایہ اصل میں دال یعنی وال یعنی دیوار یعنی سرحد کی مانگ کی جانب اشارا تھا۔ جب اس سوال کا جواب نہ ملا تو اس نے ’’لال ٹین ‘‘ کی بجائے ’’وال آف دی پاکستان گورنمنٹ ‘‘ اور جب اس پر بھی خاموشی رہی تو پاکستان کی بجائے ’’وال آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ‘‘کا پوچھنا شروع کردیا۔ ہوسکتا ہے سکھوں نے مسلمانوں کی طرح ٹوبہ ٹیک سنگھ بنا لیا ہو۔ ان پاگلوں میں ایک سیلفی خود کو خدا سمجھتا تھا۔ بشن سنگھ نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ ابھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کہیں نہیں ۔ بار بار یہی جواب سن کر ایک دن بشن سنگھ کا پاگل پن بھی جواب دے گیا ۔ایسے سیلفی خدا کی بات کیسے مان لیتا جو مسلمانوں کی طرفداری کر رہا تھا اور فیصلے کو لٹکائے جارہا تھا۔ آخر کو اس کی توحید پرستی بول پڑی۔ اب تک جو دل میں چھپائے بیٹھا تھا وہ پورا سوال نعرہ بن کر زبان پر آ گیا۔
’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال ‘‘۔
خدا جانبدار نہیں ہو سکتا۔ فتح پاکستان کی ہے نہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی، فتح ہے تو صرف گوروجی کی۔
منٹو کے طنزیہ اسلوب میں توحید کا یہ جیکارا بے سیاق ہو کر رہ گیا۔
اس کی دوسری مثال بالی وڈ کی 2005کی فلم ’’جو بولے سو نہال‘‘ ہے۔ اس میں مذہبی جیکار کے غلط استعمال پر بھارت میں سکھ رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا۔سینیما گھروں میں 14 مئی 2005 کو فلم لگی تو مظاہرین نے فلم کے پوسٹر جلادئے۔ سینیما گھروں کی توڑ پھوڑ کی ۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ آخر کار فلم بین ہوئی اور 22مئی کو سینما گھروں سے اتار دی گئی۔ اتنا شدید احتجاج کس بات پر ہوا اس کے لئے کہانی کا پلاٹ دیکھتے ہیں۔
کہانی ایک ہردلعزیز کانسٹیبل نہال سنگھ کی ہے جو اپنی وفاداری ، دیانتداری اور لگن کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہے۔ ایک دن گشت کے دوران اس کا ٹاکرا ایک مجرم رومیو سے ہو جاتا ہے جو اصل میں ایک بین الاقوامی دہشت گرد ہے اور پیسے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ سب ملکوں میں اس کی تلاش ہے اس لئے کسی ملک میں نہیں ٹھہرتا۔ نہال سنگھ اسے پکڑ لیتا ہے۔ وہ ایسی کہانی سناتا ہے کہ اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور نہال سنگھ اسے بھاگ جانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد میں سرکار کو پتا چلتا ہے کہ رومیو بین الاقوامی دہشت گرد ہے تو نہال سنگھ پر دہشت گردی میں مدد کا الزام لگتا اور اسے غدار قرار دے کر نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ نہال سنگھ کو نوکری سے زیادہ اپنی بدنامی کا دکھ ہے ۔ اپنے ہی گاوں کے لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں۔
ادھر امریکہ میں ایجنسیوں کو خبر ملتی ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد رومیو نیو یارک میں داخل ہو چکا ہے اور اس کا منصوبہ صدر امریکہ کو قتل کرنا ہے۔ ایف بی آئی رومیو کی تلاش شروع کرتی ہے۔ لیکن رومیو اپنے بارے میں کہیں بھی کوئی سراغ نہیں چھوڑتا اس لئے ایف بی آئی کے لئے مسئلہ ہے کہ تلاش کہاں سے شروع کرے۔ ہوتے ہوتے سراغ ملتا ہے کہ رومیو بھارت میں پکڑاگیا تھا اور نہال سنگھ کانسٹیبل نے گرفتار کیا تھا۔ دنیا میں وہی ایک ہی شخص ہے جو رومیو کو پہچانتا ہے۔ ایف بی آئی نہال سنگھ سے رابطہ کرتی ہے اور اسے ایف بی آئی میں باقاعدہ ملازمت دے کر نیو یارک لے آتی ہے۔ نہال سنگھ صرف ایک شرط پر اس ملازمت کے لئے تیار ہوتا ہے کہ وہ رومیو کو گرفتار کرکے اپنے گاوں لے جائے گا جہاں وہ پورا سچ لوگوں کو بتا کر اس کے نام سے غداری کا دھبہ مٹائے گا۔ کہانی کے بقیہ حصے سے ہمیں سروکار نہیں۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ نہال سنگھ انتہائی وفادار شخص ہے اور اپنی وفاداری کی شہرت کو قائم رکھنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
سکھ مذہبی رہنماوں کا اعتراض بہت بنیادی اہمیت کا تھا۔ اس کا تعلق نہال سنگھ کی وفاداری کی کہانی سے نہیں بلکہ اس کے مذہبی فلسفے سے تھا۔ اس اعتراض کو پوری طرح سمجھنے کے لئے ملکی وفاداری کی بجائے مذہبی وفا داری کے فلسفے سے آگاہی ضروری ہے۔ اس لمبی بحث میں پڑے بغیرمختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی رہنماوں کے دو ہی اعتراض تھے۔ ایک تو یہ کہ فلم میں عریانی اور فحاشی بہت زیادہ ہے اور اس پس منظر میں اس مذہبی جملے کا استعمال مذہبی اقدار کا تمسخر ہے۔ ہمیں بھی اس بات سے اتفاق ہے کہ ان فلموں میں عورت اور مذہب دونوں کی عزت کو پیسوں کے لئے بیچا جاتا ہے۔ فلم والوں کی یہ دلیل بھی دل کو نہیں لگتی کہ لوگ ایسی فلمیں پسند نہیں کرتےجن میں مذہب اور عورت شامل نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگوں کے مذہبی جذبات اور خواتین کے احترام کی روایات کا مذاق ہے۔ یہ مذہب کو چورن بنا کر پھا نکنے اور خواتین کو دانہ بنا کر تماشائیوں کو پھانسنے کے بہانے ہیں۔ مذہبی رہنماوں کا اعتراض بھی جائز اور احتجاج بھی بجا ہے۔ کہانی کا اصل مقصد نہال سنگھ کی وفاداری کو اجا گر کرنا ہے۔ اسے اس وفاداری میں دیش بدری اور امریکہ کی چاکری بھی گوارا ہے۔
مذہبی رہنماوں کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ ان مذہبی الفاظ کو فلمی گانے کا حصہ بنا یا گیا۔ گانے کے بول ملاحظہ ہوں
گورو کا اپنےمان رکھ لے، ہتھیلی پہ اپنی جان رکھ لے
چڑیوں کے سنگ باز لڑا دے، چلے شیر کی چال
جب کیتا پنجابیاں نے
کیتا ایدھا مان
کیتا اے کمال
جو بولے سو نہال
ست سری اکال
نہال سنگھ اپنے ساتھی پولیس افسروں سے کہتا ہے کہ گورو کی عزت کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کے نکلو۔ چڑیوں کے ساتھ باز سے پنجہ لڑادو۔ شیر کی چال چلو۔ پنجابی جب بھی گورو کی عزت بچانے کے لئے نکلے تو ہمیشہ کمال کیا ہے۔ جس نے بھی خدا کے ایک ہونے کا نعرہ لگایا وہ کامیاب اور نہال ہوا۔
یہ بات صحیح ہے کہ اس گانے میں جیکار کو پنجابیت، اور شیر وغیرہ سے ملادیا ہے جن کا براہ راست مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ چیلا گورو کا مان رکھنے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر سچ بات کرے تبھی نہال ہوتا ہے۔ لیکن مذہب کو یا وفاداری کو پنجاب میں محدود کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس سے مذہب کو تو نقصان پہنچتا ہی ہے تاریخ اور جغرافیہ بھی زد میں آ جاتے ہیں۔
سکھ رہنماوں کی نصیحتوں پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے بھارت میں جو بے راہروی جنم لے رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ 2015 سے سکھ جوانوں میں ایک گانے کی ویڈیو بہت مقبول جا رہی ہے جس میں ’’جو بولے سو نہال ست سری اکال‘‘ کا نعرہ رشوت، بد عنوانی ، معاشی بد حالی اور ظلم کے خلاف جنگ کی للکار بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان میں بھی صورت حال مختلف نہیں ۔ یہاں بھی توحید پرستی کی جگہ اختلاف اور انتشار نے لے لی ہے۔ علامہ اقبال کی نصیحت پر بھی کسی کا دھیان نہیں رہا
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟
بھارت کی طرح اب پاکستان میں سوشل میڈیا کا میدان جنگ بھی انتشار کا شکاربنتا جا رہا ہے۔ نا سمجھی یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی ترقی کی پر فخر تقریبات کی بجائے نو جوانوں کو رشوت، مہنگائی، بد عنوانی، زور زبر دستی، دھوکہ دہی، منافع خوری جیسے غیر متعلق مسائل میں الجھایا جا رہا ہے۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
