Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خوابوں کی تاریخ اور ان کے نتائج
    کالم

    خوابوں کی تاریخ اور ان کے نتائج

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجنوری 11, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خواب انسانی نفسیات کا ایک لازمی جزو ہے،جو زندگی میں کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہے وہ خواب ضرور دیکھتا ہے۔ ایک خواب وہ ہے جو حالت بیداری میں انسان دیکھتا ہے اور ایک خواب وہ ہو تا ہے جو  نیند کی حالت میں دیکھا جا تا ہے ۔حالت بیداری میں دیکھے جانے والے خواب اکثر اوقات حالتِ نیند میں مجسم ہو کر سامنے آتے ہیں۔مذہب او رروحانیت میں خوابوں کی بہت اہمیت ہے ۔انبیاء علیہم السلام  کے خواب وحی کی ایک قسم ہوتے تھے۔غیر انبیاء یعنی  اولیاء وصالحین کے خوابوں کی حیثیت مبشّرات (بشارتیں)کی سی  ہے۔غیر انبیاء کے خوابوں سے متعلق متفقہ علیہ رائے یہی ہے کہ یہ ظنی ہوتے ہیں یعنی ان کی حقیقت یقینی اور قابل اعتبار نہیں ہوتی۔اس لیے ایسے خوابوں کوبیان کرنے سے منع کیا جاتا ہے ، خاص طور پر جب اس سے فتنہ و گمراہی اور بد عقیدگی کا اندیشہ ہو ۔خواب سے کم از کم یہ حقیقت ضرور متر شح ہوتی ہے کہ صاحب خواب تمام دن سو چتا کیا ہے اور اس کی نفسیات کے مختلف پہلو خواب کے ذریعے سامنے آ جاتے ہیں۔ صاحب خواب کے رجحان اور تو جہ کا پتا اس کے خواب سے ہو تاہے ۔یہاں تک بات درست ہے لیکن اس کی بنیاد پر جب خیالات و نظریات اورعزم و ارادہ کی بلند و با لا عمارت کھڑی کی جاتی ہے ،وہاں سے ایک خرابی جنم لیتی ہے اور وہ ہے افراد کا کسی مضبوط نظریہ سے وابستہ ہونے کی بجائے فقط ایک گمان اور ظن سے وابستہ ہو کر کسی بڑی تبدیلی کی امید لگا بیٹھنا ۔
    مسلم تاریخ کے سیاسی حالات میں ہمیں ایسے بہت سے خواب سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں کہ کسی بڑی شخصیت نے بزرگ،صوفی ،عالم یا عام مسلمان کے خواب میں آ کر مشکلات سے نکلنے اور کامیابی کی خبر مسلمانوں کو دی۔ اس کے باوجود ان مشکلات سے نجات نہ مل سکی اور مسلمان پے در پے زوال کا شکار ہوئے ۔دور یزید ہو یا سقوط بغداد ،مسلم اسپین کی بر بادی ہو یا مغلیہ حکومت کا زوال ، کسی فاتح کی فتوحات ہوں یا کسمپرسی میں مسلمانوں کی فریاد۔ہر موقع پر ،نتائج بشارات کے بر عکس ہوئے۔اگر چہ کچھ نتائج خواب کیمطابق بھی ظاہر ہوئے لیکن ان حالات کا حقیقی تجزیہ کیا جائے تو مثبت نتائج کی دیگر وجوہات بھی سامنے آتی ہیں۔
    تخلیق پاکستان سے قبل بزرگوں نے خواب دیکھے۔ تخلیق پاکستان کے حوالے سے ہی نہیں قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے حوالے سے بھی خوابوں کو بیان کیا گیا ۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے تناظر میں جناب ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے بھی جذباتی خوابوں کو بیان کیا جا تا ہے۔  خادم حسین رضوی  نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ دھمکی آمیز انداز میں دعوت  جنگ دی ہے کہ تم پاکستان پر حملہ کرو۔اس  گفتگو کے پیچھے بھی ایک خواب ہے جس  کے مطابق پاکستان کی حفاظت کی نوید سنائی جا چکی ہے۔
    گزشتہ صدی کے آخری عشروں میں ڈاکٹرطاہر القادری نے اپنی تحریک کی بنیاد بھی  ایک طویل خواب پہ رکھی ۔وہ اپنے دیگر خواب بھی اپنی ذاتی مجلسوں میں سناتے رہتے ہیں۔جب ان کے خوابوں پہ اعتراضات ہوئے تو ان کے ادارے کی طرف سے اِن اعتراضات کے ردّعمل میں ایک کتاب شائع کی گئی جن میں علماء کرام ،بزرگان دین اورصوفیاء کرام کے خوابوں کو نقل کیا گیا تھا جس میں پوشیدہ پیغام یہ تھا کہ جب ماضی کی بر گزیدہ شخصیات کے خواب دیکھنے پر اعتراض نہیں تو پھر آج کی "بر گزیدہ شخصیت”کے خواب دیکھنے پر اعتراض کیوں؟یہ بات غیر جانبدارانہ تجزیے کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر عقیدت مند اپنے رہنما اور شیخ کے خوابوں کو ان کی فضیلت کے باب میں بیان کر تا ہے تو پھر آج کی شخصیت کے عقیدت مند خوابوں کو اس کی فضیلت میں بیان کیوں نہیں کر سکتے ۔ جوکام کل جائز تھاتو آج نا جائز کیسے ہو گیا؟
    آج کل ایک خواب  پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے حوالے سے بھی میڈیا میں گر دش کر رہا ہے ۔اس خواب کی صورت کچھ ایسی ہے جس میں عمران خان ایک نجات دہندہ بن کرسامنے آتے ہیں۔جن کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کی تقدیر بدل جانے کا خواب دیکھا جا رہا ہے ۔ خواب حوصلہ، ہمت اور کامیابی کا استعارہ بن سکتاہے لیکن قومیں کٹھن سے کٹھن حالات میں جہد مسلسل سے ہی آگے بڑھتی ہیں اور قدرت کا اصول بھی یہی ہے ۔”بے شک اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت کونہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت کونہیں بدلتی ۔”

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسیاسی ارتقاء کا ابطال
    Next Article معاشرے میں بڑھتی درندگی۔۔۔مستقل حل کیا ہے؟
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by