Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تحریک انصاف کا ایک باغی کارکن
    کالم

    تحریک انصاف کا ایک باغی کارکن

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجنوری 7, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    2013 کے الیکشن میں بھرپور انتخابی مہم چلانے والے تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن کچھ عرصہ سے عمران خان پہ سیاسی گولہ باری اور تنقید کے نشتر چلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوست ہونے کے ناطے میں اس وقت بھی جب وہ عمران خان کی محبت میں گرفتار ہو چکے تھے ، انہیں حمایت و مخالفت میں اعتدال اورتوازن اختیار کرنے کی تلقین کرتا تھا۔ میرے یہ دوست  انتہائی تعلیم یافتہ، زیرک اورجذبات سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں۔ مسلسل وہ میرے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے فقط سیاسی نہیں بلکہ ذاتی معاملات پہ بھی تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تحریک انصاف سے اس دوری کا آغاز کب اورکہاں سے شروع ہو ا؟ وہ بولے کہ میں نے 2013کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ہر طرح سپورٹ کیا، انتخابات سے قبل عمر ان خان نے جس سیاسی بلوغت کا اظہارکیا، پارٹی میں الیکشن ہوئے، جسٹس وجیہہ الدین جیسے ایماندار شخص کو ذمہ داریاں سونپی گئی، تھنک ٹینکس کے قیام اور ان کی کارکردگی سے تحریکی اورملکی معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کی تجاویز زیر غور آئیں۔ مجھے محسوس ہوا میں جس جماعت کی تلاش میں تھا وہ جماعت تحریک انصاف ہے۔ عمران خان کا دوسو فیصد یقین تھا کہ الیکشن ہم جیتیں گے اورحکومت ہم بنائیں گے لیکن ا لیکشن میں ہمیں وہ پوزیشن نہ مل سکی جس کی ہم توقع رکھتے تھے۔ خیبر پختونخواہ میں ہم حکومت بنا نے میں کامیاب ہوئے۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت سے  میں کسی حد تک مطمئن ہوں کہ انہوں نے چند شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے لیکن اگر وہ چاہتے تو اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے، لیکن اس نے اپنا وقت اور صلاحیت جلسے، جلوسوں اور دھرنوں کی نذر کردیا۔ میں اپنے دوست کوواپس اسے نکتے پہ لایا مجھے یہ بتاؤ کہ یہ دوری کب اور کیوں ہوئی۔ اس نے مجھے ڈانٹنے کے انداز میں کہا اب خاموشی سے سنو تمہیں ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ کہنے لگا ، الیکشن کے فوراً بعد عمران خان نے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے کا بیان جاری کیا لیکن کچھ عرصے کے بعدانہوں نے حکومت گرانے کی تحریک پہ غور وخوض شروع کر دیا۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ عمران خان اورجماعت کے دیگر راہنماؤں سے دو باتوں کی توقع رکھتے تھے۔ ایک بات خیبر پختونخواہ کی تعمیر و ترقی کی طرف بھرپور توجہ دوسری بات پارلیمنٹ میں حکومت کو قانون سازی اورنفاذِ قانون پہ ٹف ٹائم دینا۔
    تمہیں معلوم ہے میں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے اورزندگی کے کئی سال سیاست و جمہوریت کو سمجھتے اور پڑھنے پہ لگائے ہیں ۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ عمران خان اورتحریک انصاف پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن اپناوہ کردار ادا کریں گے جس سے قوم کو یقین ہو جائے گا اگر آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہو گی تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی اورعوام کے حقوق محفوظ ہوں گے لیکن انہوں نے ایک روایتی اپوزیشن کا کردارہی ادا کیا۔ کیا تبدیلی حکومت میں آکر ہی لائی جا سکتی ہے؟۔ کیا حکومت سے باہررہ کر سنجیدہ طرزِ سیاست سے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔عمران خان اپنے آس پاس کرپٹ لوگوں کو بٹھا کر نواز شریف کی کرپشن کے خلاف بات کرتا ہے مجھے یہ اصولی نہیں ذاتی لڑائی لگتی ہے۔
    میں جب نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں وہ مجھے اب زیادہ بدتمیز اور بدزبان دکھائی دیتی ہے ۔ میں نے اسے فوراً ٹوک کر کہا اس کاالزام عمران خان کو مت دو۔ یہ طرزِ کلام بہت پہلے سے ہے ۔اس نے درمیان میں روک کر کہا میں یہ بات سمجھتا ہوں جو تم کہہ رہے ہو لیکن میں اپنی توقعات کی بات کر رہا ہوں جو تحریک انصاف سے وابستہ تھیں کہ وہ مختلف سیاسی کلچر کی بنیاد رکھے گی جس میں سیاسی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام ہو گا۔ تحریک انصاف ، مسلم لیگ اورپیپلز پارٹی سے جُدا انداز اختیار کرتے ہوئے ، ہمارے لئے پاکستان کی سیاست میں امید کی کرن بنے گی۔
    وہ کہتے ہیں کہ  مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا جب عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کر لیا اوردونوں دھرنا دینے اسلام آباد پہنچ گئے۔ طاہرالقادری ایک غیرجمہوری شخص ہے۔ اس کے مزاج میں پختگی نہیں ہے وہ ایک موقع پر ست انسان ہے۔ وہ صرف اس پہ ہی خوش ہے کہ اسے قومی سطح کا راہنما مانا جائے ۔ اخبارات میں شہ سرخی میں اس کے بیانات شائع ہوں خواہ اسے الیکشن میں ایک سیٹ نہ ملے۔میں نے اسے کہا تمہیں معلوم نہیں عمران خان طاہرالقادری کے ساتھ سیاست کر رہا ہے اور اس کے وسائل استعمال کر رہا ہے ۔ کہنے لگا نہیں عمران خان اپنے پاؤں پہ کلہاڑی نہیں کلہاڑا مار رہا ہے۔
    بدھ کی صبح اس نے فون کر کے مجھے ڈرادیا ،کہنے لگا تم نے رات خبریں سنیں یا صبح کی اخبار پڑھی ہے میں نے کہا نہیں اُس نے بتایا عمران خان نے کہا ہے "میں آصف زرداری کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہوں” بولا جو سفر جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان کے ساتھ شروع ہوا اس کا انجام یہی ہونا تھا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleفاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ
    Next Article ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تاحال ایک مہلک خطرہ ہیں، پاکستان سیکورٹی رپورٹ 2017
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by