Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»رہمنما کسے تسلیم کریں؟
    کالم

    رہمنما کسے تسلیم کریں؟

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولنومبر 26, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستانی مسلمانوں کی سادہ دلی اوراسلام سے غیرمشروط محبت کے ثبوت کے لئے یہی بات کافی ہے، جس سے پاکستان، اسلام اور پیغمبر اسلام  ﷺسے محبت وعشق کی بات سنتے ہیں اس کے گن گاتے اوراس کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ ایک لحاظ سے یکسوئی اور یکجائی کی اعلیٰ مثال ہے ۔ دوسری طرف اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں ہوشمندی، دانائی اور تدبر نہ ہو تو عملی زندگی میں اس کے نتائج نہایت سنگین اور منفی بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے بہت سی مثالیں اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے۔
    کسی تحریک یااس کے راہنما کے مجموعی مزاج و مذاق کوسمجھنا بہت ضروری ہوتاہے۔ کراچی کی ایم کیو ایم ہو،طالبان ہوں  یا سپاہ صحابہ یا ان سے ملتی جلتی کسی تحریک کے مقاصد کبھی بھی ادنیٰ نہیں رہے۔ طالبان اس خطے کو امریکہ کی غلامی سے آزاد  کرواکے یہاں نفاذ اسلام چاہتے تھے۔ ایم کیوایم مہاجر قوم کی ترقی اور بہتری کے لئے قائم ہوئی تھی۔اسی طرح سپاہ صحابہ تحفظ ناموسِ صحابہ کے عظیم مقصد کے  لئے قائم ہوئی ۔ان مقاصد کے تقدس اور اہمیت سے کسی مسلمان کو انکارنہیں لیکن صرف اِن مقاصد سے جذباتی وابستگی ہر مسئلے کاحل نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ان مقاصد کو لیکر اٹھے ہیں ان کی زبان، لہجہ اورماضی میں تربیت اورذہنی ساخت کیسی ہے؟ ایک جماعت کے وجود کے جواز اورعوامی حمایت کے لئے سب سے پہلی خوبی عسکری رویہ سے پاک ہونا ہے، دوسری خوبی فرقہ واریت و تعصب سے مبرّاء  اورتیسری خوبی شدت و تشدد کی سوچ سے بلند ہونا ہے ۔کوئی بھی جماعت خوشنما اور خوبصورت نعروں اور مقاصد سے مزّین ہولیکن وہ عسکری سوچ رکھتی ہویا فرقہ واریت کامزاج یاشدت و عدم برداشت کے جراثیم رکھتی ہے تو نعروں کی بنیاد پر اس کی حمایت و شمولیت پاکستان کے لئے خطرناک ہی نہیں مہلک بھی ہو سکتی ہے۔اب یہ ذمہ داری قوم کے کندھوں پہ آ گئی ہے کہ وہ جذباتیت کے بجائے عقل وہوش سے فیصلہ کریں کہ انہوں نے کسے اپنا راہنما تسلیم کرنا ہے۔
    گزشتہ دہائی میں ہمارے مذہبی و سیاسی طبقے طالبان کی حمایت ومخالفت پہ تقسیم رہے، کچھ نے طالبان کی علی الاعلان حمایت کی، بعض نے علی الاعلان مخالفت کی اور ایسے بھی تھے جنہوں نے سکوت اختیار کیا۔ پاکستان کی تباہی وبربادی فقط طالبان کے ” اعلیٰ مقاصد”کی وجہ سے برداشت کی گئی۔اب دوبارہ پاکستان کوا سی صورتِ حال کاسامنا ہے لیکن مختلف انداز میں۔سکرپٹ  رائٹر اور فنکار بدل گئے ہیں لیکن پلاٹنگ(Plotting)وہی ہے۔ ہم اس صورتِ حال کا طالبان سے تقابل نہیں کرسکتے لیکن اس کا آغاز سے تجزیہ نہ ہوا تو صورتِ حال گھمبیر ہو سکتی ہے کیونکہ افرادی قوت میں اضافہ سرمائے کی آمد کا سبب ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں مل جائیں تو قدم کسی طرف بھی اٹھ سکتے ہیں ۔اس کی بنیادوں میں مصالحہ وہی ہے جس پہ متشدد تحریکوں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے مثلاً اپنے موقف سے مختلف رائے رکھنے والے کیخلاف سخت گیررویہ، دوسرے مسالک کے علماء و عوام سے میل جول سے پرہیز ، تقریر و کلام میں بد کلامی اور فحش گوئی۔اپنے تشخص، عقائد و نظریات کے غلبے کا جنوں۔یہ وہ علامات و آثار ہیں جنہیں ہر حال میں ریاست و حکومت ہی نہیں عوام بھی پیش نظررکھیں۔ ورنہ سال ہا سال کا سفر ضائع ہی نہیں ہوتا بلکہ قوم کو بڑے بڑے سانحات وحادثات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمعاشرے کے اخلاقی زوال میں پولیس کا کردار
    Next Article پاکستان میں دھرنا کلچر
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by