Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»عطر شیشہ کو آ پ کی ضرورت ہے
    کالم

    عطر شیشہ کو آ پ کی ضرورت ہے

    سبوخ سیدBy سبوخ سیدجون 16, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مانسہرہ بائی پاس سے بالاکوٹ کی طرف جائیں تو راستے بالاکوٹ سے پہلے ایک گاؤں آتا ہے جس کا نام ہے عطر شیشہ ، مجھے نہیں معلوم کہ اس گاؤں کا نام عطر شیشہ رکھنے کی وجہ کیا ہے.

    مانسہرہ بائی پاس سے بالاکوٹ کی طرف جائیں تو راستے بالاکوٹ سے پہلے ایک گاؤں آتا ہے جس کا نام ہے عطر شیشہ ، مجھے نہیں معلوم کہ اس گاؤں کا نام عطر شیشہ رکھنے کی وجہ کیا ہے لیکن اس گاؤں میں انسانیت سے محبت اور خدمت کی کئی کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی ۔ عزیز دوست  ہمدرد حسینیصاحب کی پر خلوص دعوت تھی کہ اس اسپتال کا وزٹ کیا جائے ۔

    تقریبا ساڑھے چار کنال اراضی پر مشتمل تین منزلہ اسپتال کی اس خوبصورت عمارت کو ڈاکٹرز ورلڈ وائیڈ نامی  تنظیم نے تعمیر کرایا ۔اس مقصد کیلئے انہیں برطانیہ اور دیگر ممالک سے مالی تعاون میسر رہا۔  2012 میں اس اسپتال کی عمارت مکمل ہو گئی تھی  تاہم آلات اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اس کاآپریشن شروع نہیں کیا گیا ۔

    ہمدرد حسینی صاحب کے عزم و ہمت کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔دو ڈاکٹرز، ڈسپنسر سمیت کم عملے کے ساتھ انہوں نے اس خالی عمارت میں کام شروع کر دیا ۔

    میرے سامنے کئی ایسے غریب اور لاچار مریض اسپتال آئے جنہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات کے ساتھ مفت ادویات فراہم کی گئیں ۔ ایک ضعیف العمر خاتون نے بتایا کہ اگر یہ اسپتال نہ ہوتا تو ہمارے پاس نہ گاڑیوں کا کرایہ ہے اور ناہی ڈاکٹرز کو دینے کیلئے فیس کے پیسے ہیں ۔ مرض تو خود ایک عذابہے لیکن غریب آدمی کیلئے علاج مرض سے بڑی مصیبت بن جاتا ہے ۔

    گاؤں کا ایک شخص ،جو مقامی سرکاری اسکول میں کلاس فور ملازم ہے، اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کراچی کے علاقے شیرشاہ میں بیاہی ہوئی ہے ۔ اسے وہاں چکن گونیا ہو گیا ۔ مسلسل بیمار رہنے کی وجہ سے اسے گاؤں بلوا لیا ۔ اسپتال میں چیک اپ کرایا تو اب اس کی طبیعت بہتر ہے۔

    یہ اسپتال اپنی عمارت اور منظر کے لحاظ سے انتہائی خوبصورت مقام پر واقع ہے۔

    میری احباب سے درخواست ہے کہ وہ ماہ رمضان میں اگر اپنے صدقات اور خیرات سے اس اسپتال کو چلانے میں اپنا کردار ادا کریں تو اس سے بہتر کوئی صدقہ جاریہ نہیں ۔

    جو احباب متمول ہیں، وہ اگر اسپتال میں آلات فراہم کر سکیں، بلکہ وہ چاہییں تو لیبارٹریز، ایکسرے، میٹرنٹی روم سمیت دیگر لوازمات فراہم کر دیں تو یہ ان کی جانب سے ایک گرانقدر کام ہوگا۔

    آپ اپنے فوت شدہ والدین یا پیاروں کےنام پر کوئی ایک سہولت بھی دے سکتے ہیں اور یہ ان کےنام سے موسوم ہو گا ۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایکسرے مشین فراہم کرتے ہیں تو ایکسرے روم کا نام آپ کی خواہش کے مطابق آپ جسے چاہتے ہیں ،اس کے نام پر رکھا جا سکتا ہے ۔ میں نے اسپتال انتظامیہ سے باتکی ہے اور وہ اس کام کیلئے تیار ہیں ۔  چراغ سے چراغ جلتا ہے۔

    یہ علاقہ 2005 کے زلزے میں تباہ و برباد ہو گیا تھا، پاکستان سمیت دنیابھر سے لوگ یہاں پہنچے اور انہوں نے دکھ اور پریشانی کی گھڑی میں اپنے ہمزادوں کا دکھ کم کرنے کی کوشش کی ۔ جب زلزلہ آیا تھا، اس روز 8 اکتوبر 2005 کا رمضان تھا،آج جون 2017 کا رمضان ہے ۔وقت بدلتا ہے ۔ زندگی کا کارواںچلتا رہتا ہے ۔رستے زخم بھرنے لگتے ہیں لیکن اس وقت جب کوئی ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے والا ہو۔

    ایک شخص کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن گیا۔ ایک روز باپ  عقبی دروازے سے بیٹے کے دفتر میں داخل ہوا اور بیٹے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بڑے مان سے بولا  بتاؤ ،اس وقت دنیا کا طاقتور ترین انسان کون ہے ؟

    بیٹے نے جواب دیا کہ ” میں ”

    باپ کو افسوس ہوا بیٹے نے اس کے کے بجائے اپنا نام لیا ۔

    باپ  نے سمجھا شاید بیٹے کو سوال سمجھ نہیں آیا ،

    اس نے ایک بار پھر بیٹے سے پوچھا کہ بتاؤ ، اس وقت دنیا کا طاقتور ترین انسان کون ہے ؟

    بیٹے نے پھر جواب دیا کہ میں ،

    باپ نے افسوس کرتے ہوئے  بیٹے کے کندھوں سے ہاتھ ہٹائے اور پھر پوچھا کہ

    بتاؤ ” دنیا کا طاقتور ترین انسان کون ہے؟”

    بیٹے جواب دیا کہ آپ ۔

    باپ حیران ہوا کہ پہلی دو بار تو بیٹے نے اپنا کہا ، تیسری بار میرا نام لیا ۔

    باپ نے پوچھا کہ پہلے تم نے اپنے بارے میں کہا ،پھر میرے بارے میں ،

    بیٹا نم آنکھوں سے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔

    جس کے کندھوں پر باپ کے ہاتھ ہوں وہ بیٹا خود کو دنیا کا طاقتور ترین انسان کیوں نہ محسوس کرے ۔

    بس بات اتنی سی ہی کہ جس قوم کے کندھوں پر اس قوم کے باہمت ،مخلص اور پر عزم لوگوں کے ہاتھ ہوں وہ قوم کبھی شکست نہیں کھا سکتی ۔ ان اداروں کو آپ لوگوں کی سرپرستی اور تعاون چاہیے ۔میری دعا ہے کہ مانسہرہ کے دو افتادہ اور پسماندہ بستی عطر شیشہ میں واقع  یہ اسپتال آپ کی اعانت اور دعاؤںکا ضرور حصہ بنے گا ۔

    —

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکھجور کھانا سنت ہے
    Next Article غازی نورا مینگل ،کباڑی کا کوٹ اور ایک کہانی سے جڑی سچائی
    سبوخ سید

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by